برصغیر پاک و ہند پر ”تہذیب الاخلاق“ کے اثرات(1)

برصغیر پاک و ہند پر ”تہذیب الاخلاق“ کے اثرات(1)

  

 سر سید احمد کا ذکر پنج اخباروں میں ہوتا تھا، جن کے ایڈیٹر اور پروپرائٹر عموماً مسلمان تھے اور گرم بازاری صرف اسی بات پر منحصر تھی کہ اپنی قوم کے خیر خواہ اور جاں نثار پر پھبتیاں اڑائیں، اس کے کارٹون بنائیں، اس کی ہجو میں اشعار شائع کریں، اس کی خوبیوں کو عیب بنا کر دکھائیں اور اس طرح نہ صرف آپ کو بلکہ تمام قوم کو، جس کے مذاق میں اخباروں کی برائی بھلائی کا انحصار ہے، دنیا میں رسوا اور بدنام کریں۔ سرسید بھی ان اخباروں کے آوازے تو آئے دن سنتے سنتے اُن کے عادی ہوگئے تھے، یہاں تک کہ جس اخبار میں ان پر کوئی چوٹ نہ ہوتی تھی، اس کو دیکھ کر تعجب کرتے تھے، چنانچہ ”تہذیب الاخلاق“ میں ایک جگہ لکھتے ہیں: ”ہمارا حال تو اُس بڑھیا کا سا ہوگیا ہے، جس کو بازار کے لونڈے چھیڑا کرتے تھے اور جب وہ چھیڑنے والے نہ ہوں، تو کہتی، کیا آج بازار کے لونڈے مر گئے“۔(ختم شد)

1857ءکی جنگ آزادی کا نتیجہ اہل ہند کے لئے منفی ثابت ہوا۔ انگریزی استعمار نے ہندی باشندوں پر جبر و استبداد کے دروازے کھول دئیے۔ ظلم کا مرکزی ہدف مسلمان تھے۔ چوکوں اور چوراہوں پر پھانسی گھاٹ قائم کر دئیے گئے۔ نہ کوئی فرد جرم، نہ صفائی کا موقع، صرف اسلامی حلیہ ہی مجرم ہونے کے لئے کافی ثبوت تھا۔ اسی ثبوت پر پھانسی کا پھندا گلے میں لٹکا دیا جاتا اور زندگی سے محرومی مسلمان کا مقدر ٹھہرتی۔ کئی مسلمانوں نے ترک وطن میں ہی عافیت سمجھی اور ہجرت کر کے سعودی عرب میں پناہ لی۔ جو مسلمان باقی بچے، ان کے لئے یورپی دانشوروں نے مختلف تجاویز دیں۔

بعض انگریزوں نے کہا کہ مسلمانوں کو جبراً عیسائی بنا لیا جائے ....انہیں جلا وطن کر کے افریقہ کے کسی گوشے میں آباد کر دیا جائے.... قرآن کریم کی طباعت ممنوع قرار دے دی جائے کہ اس میں جہاد کی تلقین ہے.... یہ تجویز بھی پیش ہوئی کہ مسلمانوں پر تمام سرکاری ملازمتوں، بالخصوص فوجی ملازمت کے دروازے بند کر دئیے جائیں“.... ان حالات میں سرسید احمد خاں مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے آگے بڑھے۔ 1857ءکی جنگِ آزادی میں ان کی عمر چالیس برس تھی۔ انہوں نے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو اپنے پورے ہوش میں دیکھا اور پورے شعور کے ساتھ مسلمانوں کے مستقبل کے بارے اس تناظر میں مسلمانوں کے مستقبل کو بھانپا اور پورے شعور کے ساتھ منصوبہ بندی بھی کی۔

سرسید احمد خان 5 ذی الحج1232ھ بمطابق 17 اکتوبر 1817ءکو دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پریشانیوں سے بچانے کے لئے اس بات کو ضروری خیال کیا کہ انگریزوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف موجود بغض کو دور کیا جانا ازبس ضروری ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سب سے پہلے رسالہ”اسباب بغاوت ہند“ لکھا۔ جس میں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی کہ مسلمان انگریزوں کے دشمن ہیں، نہ مخالف، بلکہ ہندوستان میں بھڑکی آگ کا نادانستہ حصہ بن گئے ہیں۔ سرسید احمد خان کے اس خیال پر برصغیر کے مسلمانوں میں دو آراءپائی جاتی ہیں جو ہمارے پیش نظر موضوع کا حصہ نہیں۔ صرف ایک رسالہ ”اسبابِ بغاوتِ ہند“ انگریزوں کے دلوں میں مسلمانوں کے لئے سلگتی آگ کو کیسے ٹھنڈا کر سکتا تھا؟.... سرسید احمد خان اس عناد کو فرد کرنے کی تدبیریں مسلسل سوچتے تھے، چنانچہ انہوں نے مسلمانوں کو جدید تعلیم سے روشناس کرانے کے لئے 9 جنوری 1864ءکو سائنٹیفک سوسائٹی کے نام سے ایک مجلس کی بنیاد رکھی۔

3 مارچ 1866ءکو سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ جاری ہوا۔ اس کا ایک کالم انگریزی اورایک اردو میں ہوتا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ انگریزوں اور مسلمانوں کے درمیان بُعد کو دور کیا جائے۔ مولانا حالی نے اس بارے میں لکھا:”اگرچہ یہ اخبار ملک کی سوشل اصلاح کا ہمیشہ ایک عمدہ آلہ رہا ہے اور اول اول کئی سال تک جس قدر زمانہءحال کی نئی اصطلاحیںاس کی بدولت ہندوستانیوں کو حاصل ہوتی رہی ہیں، ان کے لحاظ سے یہ کہنا کچھ مبالغہ نہیں ہے کہ کم سے کم شمالی ہندوستان میں عام خیالات کی تبدیلی اور معلومات کی ترقی اس پرچے کے اجراءسے شروع ہوئی ہے“....سائنٹیفک سوسائٹی گزٹ کی حیثیت ایک اخبار کی تھی، جس میں متنوع خبریں ہوتی تھیں، تاہم سرسید کی خواہش تھی کہ ایسا رسالہ شائع کیا جائے، جس کے ذریعے لوگوں کی سوچ اور فکر میں تبدیلی پیداکی جائے اورایسے اصلاحی مضامین شائع کئے جائیں جو اخلاق کی بلندی اور دوسروں کے ساتھ ہمدردی کا ذریعہ ہو سکیں، اس طرح مسلمانوں کے بارے میں انگریزوں کے دلوں میں اچھی رائے قائم ہو۔ اس کے لئے انہوں نے رسالہ ”تہذیب الاخلاق“ جاری کیا۔ اس رسالے کا نام ہی اس کے مقاصد اجراءکو واضح کرتا ہے۔

اصلاحِ احوال کی یہ تحریک سرسید کے ذہن میں دورئہ انگلستان کے دوران پیدا ہوئی۔ آپ نے 1869ءمیں انگلینڈ کا سفر کیا۔ وہیں سے آپ کے دل میں تہذیب الاخلاق کے اجراءکا خیال پیدا ہوا۔ اس کا نام سرسید احمد خان نے ابو علی احمد بن محمد بن یعقوب ابن مسکویہ کی کتاب تہذیب الاخلاق تطہیر الاعراق سے اخذ کیا، جبکہ رسالے کا ماٹو اخبار الرائد التونسی کے ماٹو سے ماخوذ ہے۔ قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ سرسید احمد خان کے ذہن میں تہذیب الاخلاق کے اجراءکا خیال اس حوالے سے پیدا ہوا کہ اس زمانے میں کسی عیسائی لکھاری نے ترکی کا دورہ کیا۔ دورے سے واپس آکر اس نے ایک مضمون میں بَرملا یہ بات لکھی کہ: ”ترک اس وقت تک مہذب نہیں ہوں گے، جب تک وہ مذہب اسلام سے کنارہ کش نہ ہوں گے، کیونکہ اسلام انسان کی تہذیب کا مانع ہے“۔

اس بیان پر ردعمل دو طرح سے سامنے آیا۔ پہلا ردعمل سرکاری تھا، چنانچہ سعودی عرب کے فرماں روا سلطان عبدالعزیز نے چیدہ علماءکی مجلس بلائی اور ان سے کہا کہ وہ اس بیان کا جواب تلاش کریں۔ علماءنے باہمی غور و خوض کے بعد یہ کہا: ”اسلام میں وہ سب باتیں ہیں جو دنیا کی ترقی کو حاصل کرنے والی اور انسانیت و تہذیب اور رحمدلی کو کمال کے درجے پر پہنچانے والی ہیں، مگر ہم کو اپنی بہت سی رسوم و عادات کو جو اگلے زمانے میں مفید تھیں، مگر حال کے زمانے میں نہایت مضر ہوگئی ہیں، چھوڑنا چاہئے“....دوسرا ردعمل سرسید احمد خان مرحوم کا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سرسید احمد خان اس یورپی مضمون نگار کے تبصرے سے متاثر ہوئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مسلمانوں میں بعض ایسی باتیں رواج پا گئی ہیں، جو اصلاً اسلامی تعلیمات کا حصہ نہیں ہیں اور غیر اسلامی معاشرے کے اختلاط نے ان میں ایسی باتوں کو جنم دیا ہے اور مسلمانوں کی عدم واقفیت سے وہ مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن گئی ہیں اور لوگوں نے ان غیر اسلامی روایات کو اسلامی تہذیب کا حصہ سمجھ لیا ہے۔ اس لئے انہوں نے ان رسومات کی نشاندہی کے بعد ان کی کاٹ چھاٹ کو ضروری خیال کیا۔ شاید رسالے کا نام بھی اسی سوچ کا مظہر ہے، کیونکہ لفظ تہذیب کا مطلب علمائے لغت کاٹ چھانٹ کرنا ہی بتلاتے ہیں۔

ہماری اس رائے کی تائید خود سرسید احمد خان کے بیان سے بھی ہوتی ہے، جس کا اظہار انہوں نے تہذیب الاخلاق کے اجراءکی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے لکھا: ”بہ خوبی ہوشیار ہو کر نیک دلی اور غور سے اپنی حالت پر خیال کریں اور جو رسوم و عادات اب ہم میں موجود ہیں اور جو مانع تہذیب ہیں، ان کو دیکھیں کہ وہ کہاں سے آئیں اور کیونکر خود ہم میں پیدا ہوگئیں اور اُن میں سے جو ناقص اور خراب اور مانع تہذیب ہوں، ان کو ترک کر دیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں، ان کی اصلاح کریں اور ہرایک بات کو اپنے مذہبی مسائل کے ساتھ مقابلہ کرتے جائیں کہ وہ ترک یا اصلاح مواقف احکامِ شریعت بیضا کے ہیں یا نہیں، تاکہ ہم اور ہمارا مذہب دونوں غیر قوموں کی حقارت اور ان کی نظروں کی ذلت سے بچیں کہ اس سے زیادہ ثواب کا کام کوئی اس زمانہ میں نہیں ہے۔ پس ہمارا مطلب اپنے ہندوستان کے مسلمان بھائیوں سے ہے اور اسی مقصد کے لئے یہ پرچہ جاری کرتے ہیں تاکہ بذریعہ اس پرچے کے جہاں تک ہم سے ہو سکے اُن کے دین و دنیا کی بھلائی میں کوشش کریں اور جو نقصان ہم میں ہیں، گو ہم کو نہ دکھائی دیتے ہیں، مگر غیر قومیں اُن کو بہ خوبی دیکھتی ہیں، اُن سے اُن کو مطلع کریں اور جو عمدہ باتیں اُن میں ہیں، اُن میں ترقی کرنے کی اُن میں رغبت دلائیں“۔

تہذیب الاخلاق کا پہلا شمارہ عین عیدالفطر کے روز، یعنی یکم شوال 1287ھ کو منظر عام پر آیا۔ پہلے شمارے میں سرسید احمد خان نے اس رسالے کے اجراءاور اس کی غرض و غایت کے بارے میں تحریر کیا:”اس پرچے کے اجراءکا مقصد یہ ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کو کامل درجے کی سوئیلائزیشن یعنی تہذیب اختیار کرنے پر راغب کیا جائے تاکہ جس حقارت سے سویلائزڈ، یعنی مہذب قومیں ان کو دیکھتی ہیں، وہ رفع ہو اور وہ بھی دنیا میں معزز اور مہذب قوم کہلائیں“۔

ہم نے عرض کیا کہ تہذیب الاخلاق کا پہلا شمارہ یکم شوال 1287ءبمطابق 24 دسمبر 1870ءکو شائع ہوا۔ شروع میں اس کے دو نام تھے۔ اردو میں تہذیب الاخلاق، جبکہ انگریزی میں اس کا نام The Muhamdan Social Reforms تھا۔ یہ دونوں نام رسالے کی لوح پر چھپتے تھے۔ سارا رسالہ اردو میں ہی تھا۔ اس کے خصوصی معاونین سے ساٹھ روپے سالانہ وصول کئے جاتے تھے، جبکہ چندہ صرف ساڑھے چار روپے تھا۔ خصوصی معاونین کو ممبر کہا جاتا تھا۔ تہذیب الاخلاق مہینے میں عموماً تین بار شائع ہو تا تھا۔ ایک شمارے کی قیمت چار آنے ہوتی تھی۔ طباعت کا اہتمام منشی محمد مشتاق حسین کرتے تھے۔ مطبع علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ سے شائع ہوتا تھا۔ پھر ساری کاپیاں سرسید احمد خان کو بنارس بھیجی جاتی تھیں۔ سرسید احمد خان ہی پھراس کی تقسیم و ترسیل کیا کرتے تھے۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -