متحدہ اور پی پی کا ہنی مون کب تک؟

متحدہ اور پی پی کا ہنی مون کب تک؟

  

نئے صوبوں کے لئے جو پارلیمانی کمیشن تشکیل دیا گیا، اس کے سربراہ کا انتخاب کرلینے کے بعد اگلا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی کے چیف وہپ سید خورشید نے التواءکی وجہ مسلم لیگ(ن) کابائیکاٹ بتائی اور کہا ہے کہ حزب اختلاف کو کمشن میں شریک کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اس سلسلے میں انہوں نے سینٹ میں مسلم لیگ(ن) کے پارلیمانی لیڈر اسحاق ڈار سے ملاقات بھی کی، ان کی طرف سے جواب ملاکہ مسلم لیگ(ن) اپنا موقف اپنا چکی ہے،بہرحال خورشید شاہ کی خواہش اور گفتگو سے قیادت کوآگاہ کردیا جائے گا۔یاد رہے کہ نئے صوبوں کے لئے قائم کئے گئے کمیشن کے حوالے سے مسلم لیگ(ن) نے تکنیکی نوعیت کا اعتراض کیا اور واضح کہا ہے کہ صرف پنجاب کی تقسیم کے لئے ایسا کمشن منظور نہیں جس میں پنجاب کی واضح نمائندگی ہی نہ ہو اور یہ کمیشن صرف پنجاب تک ہی محدود ہو، اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور کرالی گئی ہے،جس کے مطابق کمیشن کی تشکیل مسترد کردی گئی،آئین کے مطابق پنجاب میں کسی نئے صوبے کی تشکیل کے لئے پنجاب اسمبلی کی دوتہائی حمائت کی ضرورت ہے۔پیپلزپارٹی کو نہ تو پنجاب اور نہ ہی وفاق میں اتنی نمائندگی حاصل ہے، اس لئے وہ صوبوں کی تشکیل کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے، ورنہ یہ مسئلہ وسیع تر افہام و تفہیم کے بغیر حل نہیں ہو سکتا، دوسری طرف اب پیپلزپارٹی نے الزام لگایا کہ مسلم لیگ (ن)اپنے کہے سے بھاگ گئی ہے، ورنہ اس کی طرف سے بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو صوبوں کی حیثیت دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی بات سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شروع کی اور سرائیکی صوبے کا نعرہ لگایا تھا، ان کے پروگرام میں بہاولپور کی بطور صوبہ بحالی شامل نہیں تھی، یہ تو مسلم لیگ(ن) نے حمایت کردی تو پیپلزپارٹی کو بھی حمایت کا خیال آ گیا۔بہرحال ایک مرتبہ پھر آصف علی زرداری کی افہام و تفہیم پالیسی اور مسلم لیگ(ن) کے پاس پنجاب اسمبلی کی اکثریت ہونے کی وجہ سے یہ بیل ایسے ہی منڈھے نہیں چڑھ سکے گی، اس کے لئے ان دونوں جماعتوں کے مابین مصالحت ضروری ہے اور خورشید شاہ نے سوچ سمجھ کر ہی یہ قدم اٹھایا ہے۔توقع کی جانی چاہیے کہ صوبوں کے قیام کا مسئلہ بھی قومی ہے، اس لئے اسے سیاسی چپقلش کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا۔

جہاں تک سیاسی اور پارلیمانی صورت حال کا تعلق ہے تو پیپلزپارٹی وفاق میں اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لئے بھی ایسی حکمت عملی اختیار کرنے پر مجبور ہے ،جس سے دوست تو دوست مخالف بھی ناراض نہ ہوں۔پیپلزپارٹی نے جس جمہوری رویے اور دریادلی کا مظاہرہ 1973ءکے آئین کی بحالی کے لئے کیا، وہ اب اس کے لئے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے۔18ویں اور 20ویں آئینی ترمیم نے پیپلزپارٹی کے ہاتھ باندھ دیئے ہوئے ہیں ان ترامیم ہی کی وجہ سے چیف الیکشن کمیشن کے تقرر سے نگران حکومت کے قیام تک حزب اختلاف سے مشاورت لازم ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے نام پر اتفاق نہ ہونے کے باعث پیپلزپارٹی کو محترم فخرالدین جی ابراہیم کو قبول کرنا پڑا۔ایسی ہی بے بسی عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے جج حضرات کی تقرری کے حوالے سے بھی ہے۔اگرچہ پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی، لیکن اختیار جوڈیشل کمیشن کے پاس ہے،جس کی سربراہی چیف جسٹس حضرات کے پاس ہے اور کمیشن میں اکثریت بھی تقریباً عدلیہ ہی کو حاصل ہو جاتی ہے، اس لئے ججوں کے تقرر کے حوالے سے بھی پیپلزپارٹی اپنے ہاتھ کاٹ کر دے چکی ہوتی ہے، کیونکہ اگر جوڈیشل کمیشن کے منظور کردہ ناموں پر پارلیمانی کمیٹی متفق نہ ہو تو بھی معاملہ واپس جوڈیشل کمیشن ہی کے پاس آتا ہے اور پھر جو فیصلہ ہو وہ حتمی قرار پاتا ہے ۔پارلیمانی کمیٹی کو منظور کرنا پڑتا ہے۔پیپلزپارٹی اس صورت حال میں پھنسی نظر آتی ہے،جبھی تو پارلیمانی کمیشن برائے نئے صوبہ جات کی کارروائی جاری رکھنے کے اعلان کے باوجود مسلم لیگ(ن) کا انتظار کرنے کو کہا گیا ہے۔

ایک طرف یہ صورت حال ہے تو دوسری طرف پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان پکنک پارٹی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے ۔کراچی کے حالات کی وجہ سے دونوں ہی کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں رہا۔ایم کیو ایم ہر اہم مسئلہ پر رابطہ کمیٹی کا اجلاس منعقد کرتی اور پھر اپنی بات منواتی ہے۔سندھ میں بلدیاتی نظام کے احیاءکے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوپارہا، دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر قائم ہیں، ایم کیو ایم والے جنرل مشرف والا نظام چاہتے ہیں، جس کے مقابلے میں پیپلزپارٹی 1979ءوالا نظام چاہتی ہے۔دونوں جماعتوں کی کورکمیٹیوں کے کئی مشترکہ اجلاس ہوئے فیصلہ نہیں ہو پایا ، ایم کیو ایم کو یہ پیش کش کی گئی کہ پرانا نظام بحال ہوگا تو میئر حضرات کو زیادہ اختیارات دیئے جائیں گے، متحدہ یہ بات بھی شاید مان جائے ،لیکن حد بندی اپنی پسند کی چاہتی ہے۔اس لئے تاحال فیصلہ نہیں ہو پارہا۔

اب ہفتہ رفتہ کے دوران کچھ مزید امور سامنے آئے ہیں جو زیادہ بڑے اختلاف کا باعث بن سکتے ہیں۔پیپلزپارٹی کراچی کے صدر نے الزام لگایا کہ کراچی میں اپنی اتحادی جماعت کے ہاتھوں پیپلزپارٹی کے تقریباً پانچ ہزارکارکن مارے جا چکے ہیں۔ان میں اہم عہدیدار بھی ہیں،ادھر جونہی متحدہ سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد قتل ہوتا ہے تو متحدہ والے احتجاج کرتے اور پھر اپنی بات منواتے ہیں، ایسا احساس ہونے لگا ہے کہ جوں جوں انتخابات قریب آ رہے ہیں، متحدہ والے علیحدگی کے لئے عذر بنا رہے ہیں اور متحدہ بہرصورت الیکشن اپنی حیثیت ہی سے لڑے گی۔سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کی صفوں میں یہ احساس پیدا ہوچکا ہوا ہے۔مصلحت بولنے نہیں دیتی، لیکن درون خانہ بات ہوتی ہے تو لیاری پر بھی تبصرہ ہوتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ صدر زرداری نے متحدہ کو خوش رکھنے کے لئے ہمیشہ مصالحتی سیاست کا آسرا لیا ہے۔اب بھی شاید بعض نئے مطالبات سامنے آئیں گے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پیپلزپارٹی کارویہ کیا ہوگا۔کیا یہ اتحادی ہنی مون ختم ہوگا یا پھر ابھی کچھ دیر اور جاری رہے گا ۔یہ توآنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

خبر یہ بھی ہے کہ نئے صوبوں کے لئے بنائے گئے پارلیمانی کمیشن کے خلاف عدالت عظمیٰ سے رجوع کرلیا گیا ہے۔بیرسٹر ظفر اللہ نے اسے آئین کے تین مختلف آرٹیکلوں کے تحت غلط قانون قرار دے کر اسے مسترد کرنے کی اپیل کی ہے،یہاں لاہور میں آصف علی زرداری کے پاس دو عہدوں والی رٹ میں اے کے ڈوگرایڈووکیٹ نے توہین عدالت کی درخواست دے دی ہے کہ عدالت کی ہدایت کے برعکس صدر آصف علی زرداری نے نہ تو سیاسی تقریبات اور سرگرمیوں سے اجتناب کیا اور نہ ہی عدالت عالیہ کے حکم امتناعی کی کوئی پرواہ کی ہے۔اس رٹ کی پیروی اے کے ڈوگر کررہے ہیں اور لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے خود اپنی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا جو اس کی سماعت کرے گا، اٹارنی جنرل اور پیپلزپارٹی کے قائدین مطمئن ہیں، ان کے مطابق آئین میں کہیں بھی دو عہدے رکھنے کی ممانعت نہیں ہے۔اٹارنی جنرل کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ آصف علی زرداری اپنے عہدہ صدارت کی وجہ سے یہ حیثیت رکھتے ہیں کہ جج کی تقرری ان کو کرنا ہوتی ہے اور یوں یہ عہدہ زیادہ بڑا ہے ان کا موقف تو یہ ہے کہ صدر کی حیثیت سے ان سے کوئی بھی عدالت جواب طلبی نہیں کرسکتی اور نہ ہی بلا سکتی ہے۔بہرحال بات آگے بڑھ رہی ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟اب تو پیپلزپارٹی نے اپنے اندر یہ سوچنا شروع کردیا ہے کہ ان کو ہی کیوں یہ سب بھگتنا پڑتا ہے اور اسی سوچ کے تحت یہ مشاورت بھی ہورہی ہے کہ اختیارات کا یہ مسئلہ کیسے حل ہو۔  ٭

مزید :

کالم -