ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (1)

ظہر سے عصر تک :سلیم کے ساتھ (1)

  

”عصر کی قسم ! انسان تو سراسرنقصان میں ہے۔ماسوا اُن کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دئیے اور جو (لوگوں) کو حق کی جانب متوجہ کرتے ہیں اور صبر کی سمت بلاتے ہیں“....(سورة العصر)

تب بھی ظہر کا وقت تھا۔زندگی کی ظہر کا، جب سلیم سے پہلی ملاقات ہوئی اور اب کہ زمین35مرتبہ اُس کا طواف کرچکی تھی تو سورج پھر سوا نیزے پر کھڑا تھا.... 29اگست1983ءکا سورج....مَیں کوئی ایک ہزار مرتبہ سلیم کے دروازے پر آیا ہوں، مگر یہ ایک ہزار ایکویں آمد کیوں اتنی مختلف لگ رہی تھی؟

 ڈیڑھ دن پہلے کراچی میں وارد ہوا تو مشفق خواجہ نے بتایا تھا: سلیم بہت بیمار ہے۔پوچھ رہا تھا،مظفر پشاور سے کب آئے گا....

اور مَیں نے سوچا کہ وہ کب بیمار نہیں تھا اور ہم میں سے کون ہے جس نے ایک نہ ایک موذی مرض نہیں پال رکھا اور سو مرضوں کا ایک مرض تو یہی ہے کہ وطن میں لکھ پڑھ کر روزی کمانے کاعارضہ ہے، جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

بیماری ویماری تو ٹھیک ہے، مگر مَیں اب چار پانچ دن کے لئے آیا ہوں تو مل کر ہی جاﺅں گا۔نہیں ،نہیں!شمیم کہہ رہا تھا،بھائی صاحب بتاتے نہیں۔ مگر واقعی سخت بیمار ہیں اور تمہارا بار بار پوچھ چکے ہیں کب کراچی پہنچو گے اور اب کی بار تو تم نے:

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

....ہاں پروگرام تو مَیں نے بنایا تھا۔بہت دنوں سے بن بھی رہا ہے،آج چلتا ہوں کل چلتا ہوں مگر جون سے اگست کا اواخر آن پہنچا۔....اب جو مَیں نے بتایا کہ آخر کار آنے ہی والے ہیں تو فرمایا کہ اُس سے کہنا آتے ہی ملے۔

آخر ایسی بھی کیا ہڑابڑی تھی۔اُس کے یہاں تو جب جاﺅ ٹھٹ کے ٹھٹ بندھے ہوئے ملتے ہیں۔وہ خود بہت کم ہی باہر نکلتا ہے۔ریڈیو کا ایک آدھ چکر ہفتے عشرے میں گھنٹے دو گھنٹے کے لئے لگاتا ہے۔کالم بھی لکھ کے کسی کے ہاتھ بھجوا دیتا ہے۔کوئی تقریب ہو تو جو بلائے آکر لے جائے۔الگ سے ملنا چاہو تو اتنے سارے قدر دانوں کی آنکھوں میں دُھول جھونک کر اُسے باقاعدہ اغوا کرنا پڑتا ہے۔اُسے کیا پڑی ہے کہ میرا انتظار کرے!کہیں کوئی کام نہ پڑ گیا ہو!یوں ہوتا تو خط بھی لکھ سکتا تھا ۔مگر اُسے کب کسی سے کام پڑا؟اور مجھ سے تو کبھی نہیں۔خدا جانے کیا بات ہے؟خیر ابھی تو آیا ہوں اور وقت بھی خاصا ہے،کسی دن دیکھ لیں گے جاکر۔

 اگلے روز دوستوں سے،اور بھی وحشت خیز خبریں ملیں ۔آخر کیوں اتنا ٹوٹ کے ملنا چاہتا ہے؟خدا خیر کرے۔اُس کے آخری کالم دیکھے تو لگا تھا جیسے اتنا مضبوط آدمی ڈھے سا گیا ہو۔بات کچھ یوںتھی کہ اسلام، اِس فاسد معاشرے میں کوئی اجتماعی تغیر پیدا نہیں کرتا ورنہ صورت حاضرہ کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایک پردہ دُور،ایک سموک اسکرین کے سوا اِس کا مصرف کیا ہے؟یہ سوال تو بہت اذیت ناک ہوگا۔ایک ایسے شخص کے لئے جس نے اپنا تن من دھن اِسی ایک داﺅ پر لگا رکھا ہو۔تیس بتیس سال پہلے وہ پتوں پر داﺅ لگا کر یاروں کو کھلایا پلایا کرتا تھا، جبکہ اُس کا اپنا وسیلہ روزگار اُن دنوں ،بعد میںریڈیو کے سکر پٹ رائیٹر کی نوکری سے بھی کم بار آور تھا اور چھوٹے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں بھی اُس کے سر پر تھیں اور اس بار تو اُس نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا داﺅ لگایا تھا ،جبکہ پتے بھی اُس کے ہاتھ میں نہیں تھے۔چٹ بھی اُن کی تھی،پٹ بھی اُن کی تھی ،مگر وہ کھیلے جارہا تھا، ذہانت کے ساتھ اور صبر کے ساتھ۔کھیل کے کھلاڑی کہہ رہے تھے ایسے نہیں کھیلتے،سلیم بھائی!یوں تو پٹ کے رہو گے اور اِس کے بعد اِس کی پٹائی یقینی بنانے کے وہ سارے حربے، جو اُنہوں نے خود سلیم سے سیکھ رکھے تھے، مگر جن کو اب اُس نے اپنے ہاتھوں پر حرام کررکھا تھا،وہ سب حربے اُسی پر آزمائے جارہے تھے۔

کب تک،آخر کب تک چلے گا،یہ پردہ دوُد کا تماشا؟ اچھا پوچھیں گے جاکر پرسوں ترسوں، مگر پرسوں ترسوں کی بات سے بہت پہلے جب کراچی پہنچے،بمشکل ایک دن پورا ہوا تھا۔گھر سے اطلاع آئی کہ ایک محترم بزرگ انتقال فرماگئے۔ اب مَیں جلدی سے گجرات پہنچنے کی فکر میں تھا اور اُس دن لاہور تک پی آئی اے کی کسی پرواز پر جگہ مل کئی ہوتی تو سلیم سے ملنا رہ گیا ہوتا ،مگر بھلا ہو، ٹریفک والوں کا اُنہوں نے پورا ایک دن میرے لئے خالی چھوڑ دیا۔کچھ دیر اپنا کام سمیٹنے میں گزری اور پھر ایک مانگے کی گاڑی لے کر کراچی یونیورسٹی کے علاقے میں ایک صاحب سے ملنے کو نکلا تو مَیں نے ڈرائیور سے کہا کہ واپس آکر کھانا کھاﺅں گا اور ڈاکٹروں کی نصیحت پر ذرا آرام کروں گا۔شام کو ایک دوست کی طرف جانا ہے۔ اتنے میں تم بھی کھانا وانا کھا کے آجانا، مگر واپسی پر ابھی یونیورسٹی کی چوکی سے باہر نکل کر کار ساز کی طرف گاڑی مڑنے ہی والی تھی کہ یکایک منہ سے نکلا.... سیدھے! ڈرائیور حیران کہ سیدھے کہاں؟ بتایا کہ انچولی میں جس دوست کے پاس شام کو جانا تھا،ابھی ہو آئیں تو بہتر ہے کہ شام کو وہاں ہجوم ہوجائے گا۔اُس وقت اکیلے ہوں گے۔مسکنِ عزیز کے سامنے اُترا تو لوہے کے پھاٹک نے آغوش کھولی ہوئی تھی اور ڈیوڑھی میں کوئی بچہ کھیلتے ہوئے نہ ملا کہ پوچھوں دائیں طرف اُ س کے کمرے کا دروازہ ذرا سی ،درز چھوڑ کر پھرا ہوا تھا۔اُسے تھوڑا سرکا کے آواز دی تو کسی نے تکیے سے سر اُٹھایا۔وہی تھا، بال بکھرے ہوئے اور حواس باختہ، جیسے ابھی سو کر اُٹھا ہو۔ چونک کے پوچھا، کون؟ بتایا تو اُٹھ کے ایکدم بغلگیر ہوگیا۔ ارے تم کب آئے؟ مَیں نے تو جانے کس کس سے کہہ رکھا تھا۔ بہت دیری کردی۔چلو آﺅ بیٹھو! اب کیا ہوسکتا تھا؟بیٹھتے ہی وہ سب باتیں جو پوچھنا تھا،ایک دماغ میں گھوم گئیں۔

خیالات میں یہ نیا موڑ کیسے آیا ؟یاروں کا ردعمل کیا ہے؟اور وہ ہندوستان کے خلیجی خرکار کا ناو ل کہاں ہے جو کہتے ہیں کہ تم نے چھاپا ہے اور اِس پر ایک دیباچہ بھی لکھا ہے اور وہ تمہارا دوسرا مجموعہ کلام کہاں ہے جو سنتے ہیں لاہور کی عظمت مآب ہستیوں نے غلط سلط چھاپ کے برباد کردیا ہے؟اور ایسے بہت سے دوسرے دوستانہ سوالات جن پر عام حالات میں کھل کر بحث ہوتی، مگر دیکھا تو میز پر دواﺅں کا ڈھیر لگا ہوا تھا اور بسترپر ہومیو پیتھی کی شیشیاں،بلکہ بہت سی گولیاں لڑھکتی پھر رہی تھیں۔اب میرے سب سوال بے معنی ہوچکے تھے ۔گھر میں سناٹا تھا، جیسے بچے کہیں باہر گئے ہوں۔اِنہی سے بات شروع کی تو بڑی بیٹی کو آواز دی....ارے دیکھو تو کون آئے ہیں؟ تمہارے پشاور کے چچا!

اور وہ چچا کہتے ہوئے چھیڑ سے ہنسا۔عمر میں وہ مجھ سے چھوٹا تھا یا بڑا۔ہم میں سے کسی نے کبھی مان کے نہیں دیا تھا۔ وہ بچوں کے شانے پر بندوق رکھ کر چلادیتا تھا۔ بیٹی سے چائے لانے کو کہا۔تب مَیں نے کہا کہ ابھی تو آیا تھا، مگر اب جلدی میں جانا پڑ رہا ہے.... کیوں؟بتایا تو غمگساری کرتا رہا اور پھریکایک کہنے لگا: مَیں تو سوچ رہا تھا تم سے بہت باتیں ہوں گی،بحثیں اور لڑائیاں جھگڑے! تم لڑائی جھگڑے کی بات کرتے ہو اور یار لوگوں نے مشہور کررکھا ہے کہ دونوں عسکری کے مجاور بنے ہوئے ہیں اور کسی کو بے وضواِن کا نام بھی نہیں لینے دیتے۔ارے جانے دو اِن کو۔فکر ہر کس.... وہ تو کہتے ہیں تم خود اِن کی جان بخشی نہیں کرتے۔

خیر وہ تو بہت کچھ کہتے ہیں ،مگر اُن کو کیا خبر کہ عسکری سے جس کا ذرا سا بھی ربط رہا ہے، آزادی سے رہا ہے۔کوئی مفاد درمیان میں نہیں تھا اورا ب بھی آپس میں اُن کے درمیان کوئی رسمی تعلق نہیں ،بلکہ وہ تو ایک دوسرے سے معمولی مروت تک نہیں کرتے۔مَیں خود عسکری سے اُن کی زندگی میں جدا ہوا تھا اور اب تک اُن کی دو چار باتوں کا سخت قائل ہونے کے باوجود بیسیوں باتوں پر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناتا ہوں ۔اور تم،خیر تم تو یوں بھی عسکری صاحب سے زیادہ خواجہ منظور صاحب کے شاگرد رہے ہو۔اب بھی عسکری کا بہت لحاظ کرو تو خواجہ صاحب سے دل ہی دل میں اُن کی صلح کروا کے دم لو گے۔ہاں تم چاہو تو عسکری کی ادبی شخصیت کی بازیابی کے لئے کام کرسکتے ہو۔ علی گڑھ والوں نے تو عسکری پر کتا ب بھی مرتب کرڈالی۔ ماضی کی بازیافت دیکھی تم نے؟ذکر سنا ہے، مگر مَیں نے تو،ماضی کی نہیں،عسکری ادیب نہیں عسکری کی بازیافت کی بات کررہا ہوں۔

اچھا یہ بتاﺅ۔تم نے عسکری سے چند ایک ادیبوں کے شخصی خاکے بہت ضد کرکے لکھوائے تھے جو خودتمہارے خیال میں ناکام رہے ،مگر تم نے کبھی اُن سے پاکستان بننے سے لے کر اپنی جدائی تک کوئی افسانہ لکھوانے کی کوشش کیوں نہیں کی۔ بہت کوشش کی، مگر وہ ڈھرے پر نہیں آئے۔ پھر مَیں نے چھڑنا شروع کردیا،نہیں لکھ سکتے تھے آپ کوئی افسانہ! آپ نے تونقاد اور مفکر اور عابد وزاہد اور صوفی اور مبلغ اسلام بن کر عسکری کے گلے پر چھری پھیر دی ہے۔اب آپ کو ذبح کرنے کے بعد پھر سے زندہ نہیں کرسکتے۔اگلے روز آئے توکہنے لگے،سلیم خان،اگر تم چاہتے ہو کہ میں کوئی افسانہ لکھوں جس کے چھپنے پر پورے برصغیر دُھوم پڑ جائے تو کل ہی لے لو مگر یاد رکھنا یہ وہ افسانہ نہیں جو میں لکھنا چاہتا ہوں۔تالیاں! مگر افسانہ سننے کا شوقین بچہ یہ پوچھے گا کہ پھر کیا ہوا؟پھر کیا ہونا تھا۔ مَیں نے بھی ضدچھوڑ دی اور چھیڑ چھاڑ بھی۔ تو گویا اپنے عسکری صاحب چوٹ دے گئے تمہیں۔معیار کی چوٹ!ارے لکھنے دیا ہوتا۔ذرا دُھوم ہی ہوجاتی او رکون جانے قلم کا یا کسی اور چیز کا زنگ اُترتا تو وہ افسانہ بھی وجود میں آجاتا ، جسے وہ واقعی لکھنا چاہتے تھے۔اب تو بیٹھے اُن کی یاد کو دھنکا کرو۔ایں ہم رفت آں ہم رفت۔

چھوڑو،تم کہو کیا کررہے ہو؟سنا ہے تم نے میر کو فارسی کا زبردست شاعر بنا ڈالا۔کب آرہا ہے نقوش کا تازہ میر نمبر؟.... بس آنے ہی والا ہے اور مَیں تو چاہتا ہوں ذرا فنکشں پر دو چار تحریری منصوبے مکمل کرکے میر صاحب کی خدمت میں بیٹھ جاﺅں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم نے اب تک میر صاحب کو تمہاری اصطلاح میں ریزہ ریزہ کرکے دیکھنے کی کوشش کی ہے اور اُن کی جامعیت کو نہیں دیکھ سکے۔ نہ میر کے درد کے تناظر میں، نہ اپنے دور کے تناظر میں۔ معمولی شباہت کو چھوڑ کر۔

 یہاں پھر عسکری صاحب کی ایک بات یاد آتی ہے۔ کہتے تھے اُردو زبان میں کوئی نئی قسم کا شعر پڑھواور اچھا لگے تو کلیات میر کھول کر بیٹھ جاﺅ۔اِس سے ملتاجلتا کوئی شعر نہ ملے تو سمجھ لو جو چیز تمہیں پسند آئی تھی اُس کی ولدیت درست نہیں۔تم بھی اپنے طور پر کسی ایسی ہی تلاش میں سرگراں ہوگے، مگر اِس سے پہلے کوئی اور منصوبہ مکمل کرنے کا ارادہ ہے تو ہوچکا یہ کام!میر صاحب کا اﷲ بیلی! مگر نہیں یار،یہ فکشن والی بات بھی ضروری ہے۔انتظار مجھے لنگڑا نقاد کہتا ہے اِس لئے کہ میں فکشن پر نہیں لکھتا۔تم نے فکشن ہی پہ لکھا ہوتا اورشاعری پر کچھ نہ لکھتے تو کیا تم یقین سے کہہ سکتے ہو کہ انتظار پھر بھی یہ کہتا؟ نہیں،مَیں سمجھتا ہوں!مگر مَیں نے اُس سے کہا کہ میں فکشن پر لکھوں تو مجھے دو چار سال،صبح شام فکشن لے کے بیٹھنا پڑے گا۔بہت محنت کرنا ہوگی ۔چھٹی کون دے گا؟ اور گھر کیسے چلے گا....؟ (جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -