ارسلان افتخارکیس کی تحقیقات

ارسلان افتخارکیس کی تحقیقات

  

جمعرات کو سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار، ملک ریاض کیس میں ارسلان افتخار کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے تحقیقات قومی احتساب بیورو(نیب) سے واپس لے کر وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر شعیب سڈل پر مشتمل ایک رکنی کمیشن کو دینے کا حکم دیا۔ اِس سے قبل عدالت نے اٹارنی جنرل عرفان قادر کو اِس معاملے کی تحقیقات کے لئے سرکاری مشینری حرکت میں لانے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد اٹارنی جنرل نے چیئرمین نیب کو خط کے ذریعے تحقیقات کے لئے نیب، ایف آئی اے اور اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل مشترکہ ٹیم بنانے کے لئے کہا تھا۔ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے مشترکہ ٹیم تشکیل دی، لیکن ارسلان افتخار نے عدالت میں نظرثانی کی درخواست دیتے ہوئے نیب کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور مو¿قف اختیار کیا کہ یہ خط لکھ کر اٹارنی جنرل نے عدالت کی جانب سے دیئے گئے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ نیز یہ کہ تحقیقاتی سسٹم میں شامل پولیس افسر ملک ریاض سے خصوصی نیازمندانہ تعلقات رکھتے ہیں۔ عدالت نے ارسلان افتخار کا اعتراض قبول کرتے ہوئے تحقیقات نیب سے واپس لے کر ایک رکنی کمیشن قائم کیا ہے۔ ریاض ملک کے وکیل زاہد بخاری نے عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے غلط قرار دیا ہے اُن کے مطابق عدالت کو دونوں فریقین کا مو¿قف سننے کے بعد کمیشن کا قیام عمل میں لانا چاہئے تھا۔ ان کے بقول ایک فریق کی منشاءپر تحقیقاتی افسر کی تعیناتی غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔ زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ ارسلان افتخار نے لگائے جانے والے الزامات کا جواب نہیں دیا، بلکہ نیب کی تحقیقات کو نشانہ بنایا اور عدالت کے فیصلے سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے۔ زاہد بخاری کے مطابق اُن کے موکل کمیشن کے قیام کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔

عدالت کی جانب سے فیصلہ آنے کے بعد ریاض ملک کے وکیل اور میڈیا کے بعض حلقوں کی جانب سے اِس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ اُن کا مو¿قف ہے کہ ارسلان افتخار کے ساتھ چیف جسٹس کا بیٹا ہونے کے باعث خصوصی سلوک کیا جا رہا ہے اور تحقیقات اِس طرح تبدیل کرنا کسی طور مناسب نہیں۔ زاہد بخاری نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا کہ وہ اِس فیصلے کو قبول نہیں کرتے۔ اِس صورت حال میں سب سے پہلے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی شہری کے لئے عدالت کے فیصلے کو قبول کرنے سے انکار ممکن نہیں۔ فیصلے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، لیکن اُسے ماننے سے انکار نہیں۔ زاہد بخاری صاحب ایک فریق کے وکیل ہیں، انہیں احساس ہونا چاہئے کہ اگر فریقین کو فیصلے تسلیم کرنے سے انکار کرنے کا حق دے دیا جائے تو عدالت کا مقصد ہی ختم ہو جائے، کیونکہ بہر حال ہر مقدمے میں ایک فریق کے خلاف فیصلہ ہونا ہی ہوتا ہے۔

اِس فیصلے کے خلاف جو سوالات اُٹھائے جا رہے ہیں، اُن کے جوابات فیصلے کے متن ہی میں موجود ہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوالات اُٹھانے والوں نے عدالت کے فیصلے کو سرے سے پڑھا ہی نہیں یا پھر وہ میڈیا پر شور مچا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عدالت کی بیان کردہ منطق کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ آرڈر کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔ اِس کے اہم نکات عوام کی معلومات کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں۔

ارسلان افتخار کی جانب سے درخواست میں مو¿قف اختیار کیا گیا تھا کہ چیئرمین نیب کو لکھے گئے خط میں اٹارنی جنرل نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا اور نیب پر ریاض ملک کے حق میں اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ 2007ءمیں ملک ریاض کے خلاف دائر ایک مقدمے کا تذکرہ بھی کیا گیا جس میں عرفان قادر، اُن کے وکیل کے طور پر ہائیکورٹ میں پیش ہوئے تھے۔ عدالت نے اِس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ جب فیصلہ سنایا گیا تھا تو اٹارنی جنرل نے ریاض ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کو ظاہر نہیں کیا۔ اگر وہ اِس بارے میں عدالت کو آگاہ کرتے تو انہیں یہ ذمہ داری نہ سونپی جاتی۔ مزید یہ کہ اٹارنی جنرل چیئرمین نیب کو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کا کہہ کر تحقیقات پر اثر انداز ہوئے اور اُن کو دئیے گئے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔ عدالت کی جانب سے اِس خط کی کاپی مانگی گئی تو کئی دن تک ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا ڈپٹی اٹارنی جنرل سے تاخیر کی وجوہات دریافت کی گئیں تو اٹارنی جنرل نے برہمی کا اظہار کیا اور عدالت پر اِس کیس میں ضرورت سے زیادہ دلچسپی لینے کا الزام عائد کیا۔ سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو اِس حوالے سے نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

اٹارنی جنرل کی عدم موجودگی میں زاہد بخاری نے ان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزامات ان کی اتھارٹی اور ایمانداری کو چیلنج کرتے ہیں جبکہ اٹارنی جنرل کے پاس متعصب ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا ان الزامات کو قبول کرلیا گیا تو مستقبل میں کوئی فریق کسی بھی تحقیقاتی افسر یا ایجنسی کی ایمانداری کو چیلنج کرسکتا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں ماضی کے مقدمات کے فیصلوں کا حوالہ دیا ہے جن کے تحت ایگزیکٹو باڈیز پر لازم ہے کہ وہ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں فرائض سرانجام دیں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہیں تو عدالت مداخلت کرنے کا حق رکھتی ہے۔

دلچسپ بات ہے کہ نیب حکام کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو 23ءاور 25ءجون کو خط لکھ کر کیس سے متعلق تمام ریکارڈ اور شواہد سمیت نیب ہیڈکوارٹر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔ عدالت کے مطابق ماضی کے مقدمات کے فیصلوں میں نیب حکام کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ کسی بھی شخص کو طلب کرتے ہوئے تفصیلات فراہم کی جائیں کہ اس کا مقدمے سے کیا تعلق ہے اور کس قسم کی معلومات اس سے درکار ہیں لہٰذا اس حوالے سے نظیریں موجود ہیں۔ مزید یہ کہ اگر کسی اور ذریعے سے یہ معلومات مل سکتی ہوں تو کسی شخص کو طلب نہیں کیا جانا چاہیے ۔ نیب نے نہ صرف یہ تفصیلات مہیا نہیں کیں بلکہ رجسٹرار سپریم کورٹ کے جواب کا پراسیکیوٹر جنرل نے برا بھی منایا۔ اس بارے میں جب عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سے استفسار کیا تو انہوں نے موقف اختیار کیا کہ رجسٹرار کو سرکاری حیثیت میں نہیں بلایا گیا تھا لیکن ان کے بیان کے برعکس لکھے جانے والے خطوط میں واضح طور پر رجسٹرار سپریم کورٹ کو مخاطب کیا گیا تھا۔

نیب کی جانب سے قائم کی جانے والی تحقیقاتی ٹیم میں ایس پی فیصل بشیر میمن بھی شامل تھے۔12 جون 2012ءکو ریاض ملک سپریم کورٹ حاضر ہوئے تو سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ایس پی بشیر میمن اور ڈی ایس پی تحریر ملک نے گیٹ پر ان کا استقبال کیا اور ان کے ہمراہ کمرہ عدالت تک گئے۔ ایس پی میمن کی ڈیوٹی اس روز گیٹ کے باہر لگائی گئی تھی اورجس مقدمے کے سلسلے میں لگائی گئی تھی اس کی سماعت دوپہر 1:15 پر مکمل ہوگئی تھی۔ اس کے باوجود ایس پی میمن گیٹ پر موجود تھے اور انہوں نے ریاض ملک کو بھرپور پروٹوکول دیا۔ وہ اس سلسلے میں عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے۔ ان کی کوتاہیاں یہاں تک محدود نہیں۔ دوران سماعت پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو مطلع کیا تھا کہ اگست کے پہلے ہفتے میں سلمان علی خان (جو کہ ملک ریاض کے داماد ہیں) کو نیب نے طلب کر رکھا ہے۔ دوسر ی جانب ایس پی فیصل بشیر میمن کے بیان کے مطابق انہی دنوں کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے لندن جا کر تحقیقات کے لئے نشستیں محفوظ کرا رکھی تھیں۔ عدالت نے اس بات پر برہمی کا اظہار کیا کہ دورے کی تفصیلات نیب کے پراسیکیوٹر جنرل سے پوشیدہ کیوں رکھی گئیں۔

 2 اگست کو پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب اور مشترکہ ٹیم کیخلاف لگائے جانے والے الزامات کے بعد یہ ٹیم متنازعہ ہوچکی ہے۔ ایس پی میمن اور ایف آئی اے سے تعلق رکھنے والے نصر اللہ گوندل کو اس ٹیم سے نکال دیا گیا اور صرف نیب کے تین افسران اس میں باقی رہ گئے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت اس نتیجے پر پہنچی کہ نیب کے تحت ہونیوالی کوئی بھی تحقیقات جانبداری کے تاثر سے آزاد نہیں ہوں گی لہٰذا یہ کام کسی ایسے شخص ‘ ایجنسی یا ادارے کو سونپا جانا چاہیے جو آزادی اور دیانتداری کے ساتھ اسے مکمل کرے۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ذمہ داری ڈاکٹر شعیب سڈل کو سوپنی گئی۔ عدالت کے مطابق انہوں نے اس سے قبل نیٹو کنٹینرز کے معاملے کی تحقیقات کیں جو کہ بے حد تسلی بخش تھیں۔ لہذا اس کیس کی تفتیش کیلئے انہیں عدالتی افسروں کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ انہیں ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے سچ سامنے لائیں۔ اس کے علاوہ وہ ایس پی فیصل بشیر میمن اور ڈی ایس پی تحریر ملک کے رویے کے حوالے سے حقائق کا جائزہ بھی لیں گے۔ اپنی رپورٹ مرتب کرنے کیلئے انہیں 30 روز کا وقت دیا گیا ہے۔

بیان کردہ تفصیل سے واضح ہے کہ عدالت نے جو فیصلہ کیا ہے۔ اس کی مضبوط بنیاد موجود ہے ۔ ارسلان افتخار نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو انہیں اس کی سزا ضرور ملنی چاہیے لیکن ہمارا نظام کیسے کام کرتا ہے، یہ سب کو معلوم ہے۔ ارسلان افتخار سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حق محض اس لئے نہیں لیا جاسکتا کہ وہ چیف جسٹس کے صاحبزادے ہیں اور ان کے مخالفین میڈیا پر آکر ہنگامہ آرائی کرنے کے اہل ہیں۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات ڈاکٹر شعیب سڈل کے سپرد کی ہیں‘ وہ ملک کے سینئر ترین پولیس افسران میں سے ہیں اور ان کی شہرت ایک دیانتدار شخص کی ہے امید ہے وہ اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے حقائق سامنے لائیں گے اور دودھ اور پانی الگ الگ ہو سکیں گے۔ 

مزید :

اداریہ -