محکمہ داخلہ پنجاب میں گاڑیوں کی مرمت کے نام پرلاکھوں روپے کی کرپشن کا انکشاف

محکمہ داخلہ پنجاب میں گاڑیوں کی مرمت کے نام پرلاکھوں روپے کی کرپشن کا انکشاف

  

لاہور(شہباز اکمل جندران) محکمہ داخلہ پنجاب میں گاڑیوں کی مرمت اور د دیکھ بھال کے نام پر سالانہ لاکھوں روپے کی مبینہ کرپشن کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے، ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری محمد محمود ڈیوٹی پر موجود گاڑیوں کو مرمت کی غرض سے ورکشاپ میں کھڑی ظاہر کرکے سرکاری فنڈزمیں خرد برد کرتے ہیں،باوثوق ذرائع نے انکشاف کیا ہے ، کہ محکمہ داخلہ پنجاب میں ہرسال سرکاری گاڑیوں کی مرمت اور مینٹیننس کی مد مبینہ طورپر لاکھوں روپے کی خرد برد کی جاتی ہے ، اور خردبر دکا الزام محکمے کے ڈپٹی سیکرٹری محمد محمود پر لگایا جاتا ہے، ذرائع کے مطابق ہوم ڈیپارٹمنٹ کی 25سے زائد گاڑیوں کی مرمت وغیر ہ کے لیئے مالی سال 2011-12میں ابتدائی طورپر 45لاکھ روپے کا بجٹ رکھا گیا،پھر نظر ثانی شدہ تخمینے کے تحت یہ رقم 45 سے بڑھا کر61لاکھ کردی گئی،اسی طرح 2012-13ابتدائی تخمینہ 49لاکھ روپے رکھا گیا ہے،محکمے کی گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھال ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہوم کے ذمے ہے ، اور مذکورہ اہلکار ڈیوٹی پر موجود گاڑیوں کو مرمت اور اوور ھالنگ کی غرض سے ورکشاپ میں بندکھڑی ظاہر کرکے ،اورمرمت کے بلوں میں ہیرا پھیری کرکے ہرسال لاکھوں روپے کی کرپشن کرتا ہے،اور سیکرٹری ہوم کو سب اچھا کی رپورٹ دیتا ہے، باوثوق ذرائع کے مطابق ڈپٹی سیکرٹری ہوم محمد محمود نے 2010-11کے دوران لاگ بک میں آن ڈیوٹی اور سٹرکوں پر رواں دوراں گاڑیوں کومرمت ریئپر، اوور ھالنگ کی غرض سے ورکشاپ میں کھڑی ظاہر کرکے خزانے کو ساڑھے 5لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ، لیکن بے ضابطگی سامنے آنے کے باوجود سیکرٹری ہوم نے ماتحت اہلکار کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہ کی،اسی طرح مذکورہ اہلکار گاڑیوں کے انجن آئل ، ائیر و اآئل فلڑکی تبدیلی،کی مد میں بھی مبینہ طورپر خردبرد کرتا ہے، اور اس ضمن میں الگ سے مختص کئے جانے والے فنڈز پر بھی کمال دیدہ دلیری سے ھاتھ صاف کرتا ہے،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی سیکرٹری ( جنرل) محمد محمود کا کہنا تھا کہ ان کے تمام بل ہوم سیکرٹری منظورکرتے ہیں ، اور ہوم سیکرٹری ان کے کام سے مطمئین ہیں،وہ نہیں بتانا چاہتے کہ ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی گاڑیوں کی مجموعی تعداد کیا ہے، اور ان گاڑیوں کی مرمت اور دیکھ بھا ل کےلیے ہر سال کتنے فنڈز مختص کئے جاتے ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -