نواز شریف کی حکومت آئی تو ملک میں دوبارہ ترقی کاسفر شروع ہوجائے گا:شہباز شریف

نواز شریف کی حکومت آئی تو ملک میں دوبارہ ترقی کاسفر شروع ہوجائے گا:شہباز شریف

  

لاہور(این این آئی)وزیراعلیٰ پنجاب محمدشہبازشریف نے کہا ہے کہ جرائم کی بیخ کنی ، چوروں، ڈکیتوں، بدمعاشوں اور جرائم پیشہ افراد کو انصاف اور قانون کے کٹہرے میں لانا پولیس کی ذمہ داری ہے، اس مقصد کے لئے وہ اپنے فرائض جاں فشانی سے ادا کرے‘مظلوموں کی دادرسی اور انہیں انصاف کی فراہمی میرا مشن ہے جسے میں ہر حال میں پورا کروں گا‘ وزیراعلیٰ نے سمن آباد کے ایک قتل کیس میں مقدمے کی پیروی میں غفلت برتنے پر متعلقہ پراسیکیوٹر کو معطل کرنے اور حجرہ شاہ مقیم میں ڈکیتی کے دوران 20سالہ لڑکی کے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو ایک ہفتے کے اندر گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ وہ گزشتہ روز ماڈل ٹاﺅن میں ظلم کا شکار ہونے والے دو متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کررہے تھے۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اگر کہیں ظلم یاکوئی جرم ہوتاہے تو قانون کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے، اس سلسلے میں کوتاہی یا غفلت کسی صورت قابل برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ دنیا میں وہی معاشرے زندہ رہتے ہیںجہاں انصاف کا بول بالاہو اور لوگوں کو بلاتفریق انصاف ملے اور ایسے معاشرے جہاں مظلوم حصول انصاف کے لئے مارے مارے پھریں مٹ جاتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مظلوموں کی دادرسی اور انہیں فوری سستے انصاف کی فراہمی یقینی بناکر ہم دنیا اور آخرت میں سر خرو ہوسکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ معاشرے سے جرائم کا خاتمہ،مظلوموں کو انصاف کی فراہمی او ر امن و امان کا قیام میرا مشن ہے اوراس مشن کی تکمیل میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا کہ پولیس اپنا قبلہ درست کرے اورکیسوں کی تفتیش کے دوران انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں۔ قبل ازیں سمن آباد سے سلمیٰ بی بی نے اپنے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ وزیراعلیٰ سے ملاقات کی اور انہیں بتایاکہ 23رمضان المبارک کو اس کے نوجوان بیٹے کوقتل کردیاگیا۔ ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے۔ وزیراعلیٰ کے استفسار پر بتایاگیا کہ ملزمان نے ضمانتیں کرارکھی تھیں۔18اگست کو ملزمان کی ضمانتیں کنفرم ہونے اور مناسب کارروائی نہ کرنے پر وزیراعلیٰ نے متعلقہ پراسیکیوٹر کو معطل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ اگر مقدمے کی صحیح انداز میں پیروی کی جاتی تو تمام ملزم سلاخوں کے پیچھے ہوتے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ قتل میں ملوث ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے اور انہیں گرفتار کرنے کےلئے موثر کارروائی کی جائے۔ حجرہ شاہ مقیم سے متاثرہ خاندان کے سربراہ غلام رسول نے بتایاکہ اپریل میں رات کو اس کے گھر ڈکیتی ہوئی،میری بیٹی نے مزاحمت کی جسے ظالموں نے قتل کردیا۔ وزیراعلیٰ نے ملزموں کو بروقت گرفتار نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیاکہ گرفتاری میں تاخیرکی مکمل انکوائری کرکے ایک ہفتہ کے اندر رپورٹ پیش کی جائے اور اس واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔دریں اثناءوزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ آبادی میں اضافے کے باعث نئے قبرستانوں کی ضرورت بڑھ گئی ہے جبکہ موجودہ قبرستانوں کی گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے- اس اہم مسئلے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا‘پنجاب حکومت نے موجودہ قبرستانوں میں درکار ضروری سہولتوں کی فراہمی اور نئے قبرستانوں کی تعمیر کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب بھر کے گنجان آباد شہروں میں نئے قبرستان بنائے جائیں گے‘نئے قبرستان تیار کرتے ہوئے اس بات کو خصوصی طور پر مد نظر رکھا جائے کہ وہاں میت دفنانے کیلئے آنے والوں کو کسی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف گزشتہ روز یہاں ایک اعلی سطحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔اجلاس میں صوبے میں قبرستانوں سے متعلق مسائل کا جائزہ لیا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر نواز شریف کی قیادت میں حکومت آئے تو اس ملک میں دوبارہ ترقی کا سفر شرو ع ہو جائے گا اور اس ملک کے حالات بدل سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ علی بابا اور چالیس چور اگر اپنا قبلہ درست کر لیں تو جلد از جلد بجلی کا بحران حل ہو سکتا ہے، لوڈشیڈنگ دہشت گردی سے بھی بدتر ہے جس سے پاکستان کی جی ڈی پی روز بروز کم ہو رہی ہے اور پاکستان بدترین معاشی حالات سے دو چار ہے، کنونشن سنٹر اسلام آباد میں راولپنڈی ایوان صنعت و تجارت کی25 ویں اچیومنٹ ایوارڈ تقریب سے خطاب کر رہے تھے، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے حوالے سے پنجاب کے ساتھ بدترین نا انصافی کی گئی ہے، انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کا بحران صورتحال اختیار کر گیا ہے، پنجاب کی زراعت پر خزاں چھانے لگی ہے اور صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، انہوں نے کہا کہ راولپنڈی، فیصل آباد ارو ملتان سمیت پورے صوبے میں لوڈشیڈنگ کی وجہ سے لوگ رات کو سو نہیں پا رہے اور دن کے وقت چھوٹے کاروباری، اور محنت کش لوگ صنعتوں کی بندش کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو رہے ہیں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے 2010ءمیں سیلاب اور پچھلے سال پاکستان کی تاریخ کے بدترین ڈینگی بحران کے دوران عوام کو اکیلا نہیں چھوڑا، انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کا بحران500 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کی وجہ سے ہے، جس کو وفاقی حکومت نے ختم کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی، انہوں نے کہا کہ پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں اور سرکاری اداروں کے ذمے تقریبا300 ارب روپے واجب الادا ہیں اور اگر یہ رقم ریگولر کر لی جائے تو دنوں میں چار ہزار میگا واٹ بجلی پیداوار میں شامل ہو سکتی ہے اور کافی حد تک بحران حل ہو سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر راولپنڈی میں جدید انڈسٹریل سٹیٹ کے قیام کی اصولی منظوری دی اور کمشنر راولپنڈی، ارکان اسمبلی اور ایوان صنعت و تجارت راولپنڈی کے عہدیداروں کے ذریعے زمین کا انتخاب کرنے کی ہدایت دی۔

مزید :

صفحہ اول -