دوتین ماہ قبل عام انتخابات کے بارے میں مذاکرات کیلئے تیار ہیں :پرویز اشرف

دوتین ماہ قبل عام انتخابات کے بارے میں مذاکرات کیلئے تیار ہیں :پرویز اشرف

  

اسلام آباد (ثناءنیوز ) وزیراعظم نے کہا کہ دو تین ماہ قبل انتخابات کے بارے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔عبوری حکومت کا معاملہ بھی خوش اسلوبی سے طے ہو جائے گا۔ عدالتی معاملہ پر عدالت عظمیٰ بھی یہی چاہتی ہے کہ کوئی بہتر حل نکل آئے۔وزیراعظم نے کہا ہے کہ اﷲ کرے گا ضرور کوئی راستہ نکل آئے گا۔بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر ہی سلگتا تنازع ہے کشمیریوں کو کبھی تنہاءنہیں چھوڑیں گے۔خارجہ پالیسی عوام کے منتخب نمائندے ہی بناتے ہیں۔ یہ تاثر درست نہیں کہ خارجہ پالیسی کے بارے کہیں اور فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بلوچستان کے بارے کابینہ کمیٹی نے سفارشات مرتب کر لی ہیں۔ صوبے کی اکثریت پاکستانیت پر یقین رکھتی ہے اور پاکستان پر ان کا غیر متزلزل یقین ہے۔جمعہ کی شب پاکستان ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بھرپور کوشش ہو گی جو ممکن ہو پارلیمینٹ کو بالادستی کے لیے کام کروں۔ ملک کو بہت بڑے گھمبیر مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے ان میں بلوچستان، امن و امان، دہشت گردی کے خلاف جنگ ، معاشی دباﺅ اور انتخابی سال کے حوالے سے اہم چیلنجز کا قیام ،صاف شفاف انتخابات میری ترجیح ہے۔ بہتر ی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔انرجی کے بحران کے حل پر بھی تسلسل سے کام ہو رہا ہے تمام مسائل کو اگر حل نہیں کر سکتے تو ان کی شدت میں تو کمی کر سکتے ہیں۔ بد قسمتی سے ملک میں مطلوبہ بجلی کی پیداوار نہیں ہے۔ اس کے لیے وقت پر پاور پلانٹس لگانے ضروری تھے بد قسمتی سے کئی سالوں سے بہتر پلاننگ نہ ہو سکی۔ ماضی کے 15،16 سالوں میں کوئی منصوبہ نہ آیا انرجی کا مسئلہ ورثے میں ملا ہے ۔مناسب قیمت پر بجلی کی پیداوار کے حصول کے لیے نیلم، جہلم ڈیم پر کام جاری ہے۔ بھاشا دیم پر کام جاری ہے ہائیڈرو جنریشن کے اہم منصوبوں پر کام ہو رہا ہے۔ تھرل کول کے منصوبے بھی ہداف میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی و بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے حکومت کو بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔ درست سمت پر گامزن ہیں۔ انسان حالات اور وقت سے بہت کچھ سیکھتا ہے۔ ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ابھی اور سیکھنا باقی ہے ہم چاہتے ہیں سب مل کر چیلنجز کا مقابلہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو کریڈٹ جاتا ہے۔ انہوں نے میثاق جمہوریت کے ذریعے عزم کیا تھا کہ جمہوریت کے استحکام کے لیے کام کریں گے رتاکہ جمہوریت کو کوئی گزند نہ پہنچ سکے اور جمہوریت کو کبھی پٹڑی سے نہیں اترنے دیں گے ۔ میثاق جمہوریت کے کم و پیش تمام نکات پر عملدرآمد ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ مفاہمت کی پالیسی کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں جن صوبوں میں اکثریت تھی وہاں بھی دو سروں کو ساتھ لے کر چلے ۔ بہت سارے معاملات امن وامان کی صورتحال کی وجہ سے بگڑ جاتے ہیں۔ خوف و ہراس کی فضاء میںمعاشرہ آگے نہیں بڑھتا۔ امن وامان کے حوالے سے جو حالات ہمیں ملے تھے ان میں بہتری آئی ہے۔ غیر یقینی کے حالات بھی ورثے میں ملے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے۔ سب کچھ مرکز کے پاس نہیں ہے طویل عرصے کے بعد صوبوں کو اختیارات دیئے گئے ۔ گوادر بندرگاہ اس وقت تک سود مند ثابت نہیں ہو گی جب تک رابطہ سڑکیں نہیں ہوں گی۔اس بارے میں فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔ کچھی کینال جس سے 55 ہزار ایکٹر رقبہ زیرکاشت آئے گا کے لیے 6 ارب روپے کے فنڈ جاری کر دیئے ہیں۔ بلوچستان کے 97 فیصد عوام پر امن محب وطن اور پاکستان سے محبت کرنے والے میں ایک چھوٹی سی اقلیت ضرور ہے جن سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ اس راستے سے ہٹ کر پاکستانیت کا راستہ ا ختیار کرے۔ کابینہ کمیٹی نے اپنی سفارشات مرتب کر لی ہیں ۔بلوچستان کی اکثریت کا پاکستان پر غیر متذلزل یقین ہے اور اعتماد ہے۔ ہم مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں بلوچستان میں ہر ایک سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ بلوچستان کے مسئلے کو مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ کسی کے ذاتی مفادات ہیں تو آگاہ کرے۔ بلوچستان پاکستان کو ہی اپنی شناخت تصور کرتے ہیں۔ مسئلے کے اوربھی عوامل ہیں جس کا سب کو ادراک ہو رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ عدالتی معاملے پر ملک میں غیر یقینی کی صورتحال ہے معیشت خارجہ پالیسی امن وامان سب متاثر ہو رہے ہیں میری جماعت اور اتحادیوں کی خواہش ہے اس کا حل نکالا جائے۔ عدالت میں پیش ہو کر میں نے بھی یہی محسوس کیا ہے کہ عدالت عظمیٰ بھی یہی خواہش رکھتی ہے۔ ملک میں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں۔ اقلیتوں کاتحفظ کریں گے پورے معاشرہ ،علماءکرام، تمام مکاتب فکر کا فرض ہے کہ وہ ہم آہنگی کو برقرار رکھے۔ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ ،دہشت گردی ہے۔ پاکستان کے دشمن ملک کے اندر باہر ہر جگہ ہو سکتے ہیں۔ یہ واقعات پاکستان کی دشمنی مترادف ہے۔ روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے ضرور کہ اس بارے آواز بلند کریں گے ۔ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث عناصر پاکستان کے دشمن ہے بحیثیت قوم ان کا مقابلہ کرنا ہے۔نئے صوبوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ بحث کے ذریعے مسائل کا حل نکالا جاتا ہے۔ حکومت کا اصولی موقف ہے جس علاقے کی خواہش ہے اس کا جائزہ لیا جائے۔جنوبی پنجاب کے لیے کمیشن بنا دیا گیا ہے ہر معاملے میں سیاست، جھگڑا اور تفریق نہیں ڈالنی چاہیے۔ دلائل دینے چاہیے سرکاری کارپوریشنوں کے حالات بہتر بنا رہے ہیں چار ممالک کی علاقائی سربراہی کانفرنس جلد پاکستان میں ہو گی۔ روس کے صدر اپنے پہلے دورہ پر پاکستان آئیں گے۔ 10ستمبر کو چین کے دورہ پر جا رہا ہوں۔ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ جامع مذاکرات وفود کے تبادلوں ،سفارتی سطح پر پیشرفت ہوئی ہے تاہم دیرینہ تنازعات موجود ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشمیر ہی سلگتا ہوا مسئلہ ہے پاکستان کا اصولی موقف ہے مسئلہ کشمیر کو وہاں کی عوام کے خواہش اور منشاءکے مطابق حل ہونا چاہیے۔ کشمیریوں کو کبھی تنہاءنہیں چھوڑیں گے انہوں ہر سطح پر پاکستان کی اخلاقی ،سفارتی اور سیاسی حمایت حاصل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ دن میں تو دور کی بات ہے مجھے رات کو نیند میں بھی خواب نہیں آتے۔آئینی مدت پوری کرنا چاہتے ہیں اس سے جمہوری قوتوں کے بارے میں مثبت پیغام جائے گا اگر کوئی چاہتا ہے کہ دو تین ماہ پہلے انتخابات ہوں تو اس کے لیے تیار ہیں۔ مدت کی تکمیل پر آئندہ کی پارلیمینٹ کے لیے بھی اچھی مثال قائم ہو گی۔عبوری حکومت پر مشاورت ہو گی پہلے مرحلے میں پارلیمینٹ کے اندر اور باہر کی جماعتوں سے مشاورت میں کوئی حرج نہیں ہے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کی طرح اس حوالے سے بھی بہتر فیصلہ ہو جائے گا۔ قوم کو صاف و شفاف انتخابات کی یقین دہانی کرانا چاہتا ہوں اور تمام مراحل کو خوش اسلوبی سے طے کریں گے۔ عدالت عظمی میں زیر سماعت این آر او عمل درآمد کیس کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ 18 ستمبر کو وہ ہی ہو گا جو منظور خدا ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ بہتر حل نکل آئے گا۔ یہ اس لیے نہیں کہہ رہا کہ مجھے دو چار ماہ اور وزارت عظمیٰ کے لیے مل جائیں گے شخصیات آتی جاتی رہتی ہیں اصل مقصد ملکی مفاد ہوتا ہے۔ اقتدار کی پر امن منتقل کے ایک بڑے عمل کی طرف بڑھنے والے ہیں عدالتی معاملہ پر اﷲ کرے گا کوئی راستہ نکل آئے گا عوام بھی یہ چاہتے کہ ملک غیر یقینی حالات سے باہر نکل آئے۔

مزید :

صفحہ اول -