گوادر پورٹ کا کنٹرول سنگاپور سے لے کر چین کو دینے کا فیصلہ

گوادر پورٹ کا کنٹرول سنگاپور سے لے کر چین کو دینے کا فیصلہ

  

 لندن (این این آئی)برطانوی اخبارفنانشل ٹائمزنے اپنی رپورٹ میںکہا ہے کہ پاکستان گوادر پورٹ کا کنٹرول سنگاپور سے لے کر چین کے حوالے کرنے جا رہا ہے ،سنگاپور فوری طور پر بندر گاہ کے کنٹرول پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار ہے ،پاکستان نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار نے کہاکہ پاکستان اپنی اسٹریجیک بندر گاہ گوادر کا آپریشنل کنٹرول سنگاپور سے لے کر چین کے حوالے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے .اس سلسلے میں چین سے مذاکرات جاری ہیں پاکستان کے پورٹ اینڈ شپنگ کے وفاقی وزیر بابر غوری نے برطانوی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ہم سنگاپور کی پی ایس اے سے ایسے معاہدے پر پہنچ چکے ہیں جہاں وہ گوادر پورٹ چھوڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور اس کے کنٹرول کے لئے چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے، اخبار لکھتا ہے کہ اگرچہ بندرگاہ کے انتظامی کنٹرول کی منتقلی ایک کاروباری فیصلہ ہے، جیسا کہ پاکستان اور سنگاپور پیش کرنے جا رہے ہیں ،تاہم ایسا کوئی بھی اقدام جس سے چین کا اثررسوخ اس کے اتحادی پاکستان پر ہو اسے علاقائی حریف بھارت اور امریکا بہت غور سے دیکھیں گے اخبار کے مطابق گوادر بندرگاہ چین سے قرض لےکر بنائی گئی، سنگاپور کی پی ایس اے نے 5سال قبل بندرگارہ کو40سال تک چلانے کے معاہدے کے تحت کنٹرول سنبھال لیا تھا تاہم وہ اب اس کا کنٹرول چھوڑنا چاہتی ہے، اخبار کے مطابق سنگاپور کی پی ایس اے نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تاہم بابر غوری اور سنگاپورین ذرائع نے تصدیق کردی ہے کہ پی ایس اے فوری طور پر بندر گاہ کے کنٹرول کو پاکستان کے حوالے کرنے پر تیار ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے وعدے پورے نہیں کیے جن میں بندرگاہ سے ملانے والی موٹروے کی تعمیر اور دیگر اختلافات میں پورٹ کی توسیع کے لئے حکومت کی طرف سے زمین کی منتقلی میں ناکامی بھی ہے با بر غوری کا کہنا تھاکہ بندر گاہ کو چھوڑنے کا فیصلہ سنگاپور کا اپنا ہے اور ہم نے اس کی منظوری دے دی ہے تاہم انہوں نے ممکنہ چینی کمپنی کا متبادل نام دینے سے انکار کر دیا ہے تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی میں اسٹریٹجک کے ساتھ ساتھ تجارتی مفادات نے اہم کردار ادا کیا ہے.پاکستان کے ایک سینئر سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ چین کا بندرگاہ سنبھالنا پاکستان اور چین کے لئے ایک تاریخی ترقی ہوگی یہ چین کے لئے بڑی اہمیت کی حامل ہے انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ گوادر میں چین کی موجودگی مستقبل میں مشرق وسطی سے مغربی چین تک تیل کی نقل و حمل کے لئے پائپ لائن بچھانے کے لئے استعمال ہوسکتی ہے، ایک اور پاکستانی حکام نے کہا کہ قراقرم ہائی وے کے بعد پاکستان میں بندرگاہ کی دوسری سب سے اہم چینی سرمایہ کاری ہوگی.اخبار لکھتا ہے کہ جنوبی ایشیائی بندرگاہوں میں اپنے مفادات کے لئے چینی توسیع سے بھارت میں تشویش پید ا ہونے کا امکان ہے.چینی وزیر دفاع اس وقت سری لنکا کا دورہ کر رہے ہیں اور آئندہ ہفتے وہ بھارت جائیں گے۔اخبا ر نے لکھا کہ گزشتہ برس پاکستان کے سابق وزیر دفاع احمد مختار نے کہا تھا کہ انہوں نے چین کو گوادر پر نیول بیس تعمیر کرنے کی پیش کش کی ہے،اور انہیں امید ہے کہ چینی نیوی باقاعدگی سے وہاں موجود رہے گی تاہم چینی وزیر دفاع نے کہا کہ چینی حکومت ایسی کسی بھی تجویز کو زیر غور نہیں لائی چینی وزارت کامرس کے مطابق گوادر بندرگاہ پر 248ملین ڈالر کی کل سرمایہ کاری ہوئی جس میں چین نے198ملین ڈالر کی فنڈنگ کی۔

مزید :

صفحہ اول -