کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں:صدر زرداری

کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پرامن حل چاہتے ہیں:صدر زرداری

  

اسلام آباد (این این آئی) صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات میں مصروف ہے ، کشمیر سمیت تمام دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں ، دہشت گردی کے خلاف جنگ پیچیدہ معاملہ ہے ، انتہا پسندی سے موثر طور پر نمٹنے کی ضروری ہے ،عسکریت پسندی کے خلاف فتح کےلئے لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہونگے ، افغانستان میں استحکام اور دیر پا امن کیلئے پرعزم ہیں ، پاکستان فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کا مکمل احترام کرتا ہے ، شام میں خونریزی بند ہونی چاہیے ، شامی عوام کی جمہوری امنگوں کا احترام کیا جائے ،عالمی امن اور سلامتی کیلئے جوہری عدم پھیلاﺅ اور ہتھیاروں کا خاتمہ ضروری ہے ، 21 ویں صدی کے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے غیر وابستہ تحریک (نام) کے نئے کردار کیلئے مشترکہ وژن وضع کرنے کی ضرورت ہے ، تحریک کی سب سے بڑی طاقت اتحاد ہے ، پاکستان اور ایران کے صدیوں پرانے تاریخی اور ثقافتی تعلقات استوار ہیں، ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔وہ جمعہ کو 120 ممالک پر مشتمل غیر وابستہ تحریک کے 16 ویں سربراہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان تحریک کو تقویت دینے کیلئے سرگرم کردار ادا کر کے خوشی محسوس کرے گا جس کے رکن ممالک اقوام متحدہ کے ارکان کے تقریباً دو تہائی اور دنیا کی 55 فیصد آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ غیر وابستہ تحریک اپنے قیام سے ہی ترقی پذیر ممالک میں آباد نصف سے زائد دنیا کی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہے اور یہ اپنے قیام سے مضبوط قوت کی حامل ہے جبکہ مستقبل میں تحریک کا کردار انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تنظیم بھرپور چیلنجوں کے دور سے گزر رہی ہے اور دنیا کو تاریخی تبدیلیوں کا سامنا ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور کثیر جہتی نظام کیلئے اقدار کے اعادہ کی متقاضی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کی سب سے بڑی طاقت اس کا اتحاد رہا ہے اور اس نے 20 ویں صدی میں سامراجیت اور نسلی امتیاز کو شکست دی۔ صدر نے کہا کہ ہمیں نئے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے اسی اتحاد، یکجہتی اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات اور اقتصادن تعاون کے فروغ کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ جامع مذاکرات میں مصروف ہے اور وہ کشمیر سمیت تمام دیرینہ تصفیہ طلب مسائل کا پر امن حل چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے مقدر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں گزشتہ تین دہائیوں سے تصادموں سے متاثر ہوئے ہیں، پاکستان افغانستان میں استحکام اور دیر پا امن کیلئے پرعزم ہے، وہ تبدیلی کے مختلف مراحل کے دوران افغان بھائیوں کے ساتھ ہو گا اور افغان قیادت پر مشتمل مفاہمتی عمل کی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر نے تبدیلی کے چیلنجوں سے نمٹنے میں افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہونے کے عزم کا اظہار کیا تاہم امید ظاہر کی کہ بین الاقوامی برادری افغان مہاجرین کی واپسی کے ادھورے مسئلے کو مدنظر رکھے گی تاکہ ان کی اپنے وطن باعزت واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔ صدر مملکت نے شام میں جاری خونریزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دو ٹوک طور پر مطالبہ کیا کہ یہ سلسلہ فوری رکنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے عوام کی جمہوری امنگوں کا احترام کیا جائے۔ انہوں نے مالی کے بعض حصوں میں آزادی کے یکطرفہ اعلان کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کیلئے مالی کے عوام اور حکومت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ فلسطین کے مسئلہ پر صدر نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے عوام کے حق خود ارادیت کا پورا احترام کرتا ہے کیونکہ آزاد فلسطینی ریاست کا قیام امن کیلئے انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی کے عالمی مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے 40 ہزار بے گناہ جانوں کی قربانی دی اور 80 ارب ڈالر سے زائد کا اقتصادی نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اور انتہا پسندی سے موثر طور پر نمٹنے کی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مخالف نظریے کو شکست دینے کیلئے ہیروئن کو جنگی ہتھیار کے طور پر بروئے کار لایا گیا، ہیروئن کی تجارت سے دہشت گردوں کو مالی معاونت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بین الاقوامی برادری افغانستان سے نکلتے ہوئے اپنے ہتھیار تو ساتھ لے گئی لیکن قابل افسوس طور پر اپنے پیچھے ہیروئن چھوڑ گئی۔ صدر مملکت نے اسے جنگی ہتھیار قرار دیا جو خطہ میں تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نومبر میں اسلام آباد میں علاقائی وزارتی کانفرنس طلب کی تاکہ ہیروئن کے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کے خاتمے کے طریقوں پر غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی کے خلاف فتح کیلئے لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہوں گے اور ان کے احساس محرومی کو دور کر کے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں نوجوانوں کو امید کا پیغام دینا چاہیے اور انتہا پسندی کے مقابلے کیلئے ان کے ساتھ علمی مباحثہ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر نے افریقی ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے افریقی رہنماﺅں کا کردار قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قیام امن کے پروگراموں میں اپنے کردار کے ذریعے اقوام متحدہ امن کوششوں کی مسلسل حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ صدر نے کہا کہ پاکستان کثیر جہتی نظام کے وعدے پر یقین رکھتا ہے کیونکہ ممالک جو کچھ مل کر حاصل کر سکتے ہیں وہ اکیلے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل مذاکرات اور اتفاق رائے پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان جتنا زیادہ اپنا کردار ادا کریں گے یکطرفہ کارروائیوں کی گنجائش اتنی ہی کم ہوگی۔ صدر زر داری نے کہاکہ پاکستان نے ہم آہنگی، برداشت اور باہمی احترام کے اصولوں کو کامیابی سے آزمایا ہے اور غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کیلئے بھی انہی اصولوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ریاستوں کے مابین تعلقات کیلئے بھی ایک عظیم عہد کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدر نے کہا کہ عالمی امن ارو سلامتی کیلئے جوہری عدم پھیلاﺅ اور ہتھیاروں کا خاتمہ ضروری ہے اور ان کیلئے قواعد غیر امتیازی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ صدر نے کہا کہ غیر وابستہ تحریک کو تخفیف اسلحہ کے نظاموں میں دوہرے معیارات کی تائید نہیں کرنی چاہیے۔ صدر نے ایران کو تنظیم کی صدارت سنبھالنے اور سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران کے صدیوں پرانے تاریخی اور ثقافتی تعلقات استوار ہیں، ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -