امتحانی اور رجسٹریشن فیس میں اضافہ سے پرائیویٹ سکولوں کے بچے پریشان

امتحانی اور رجسٹریشن فیس میں اضافہ سے پرائیویٹ سکولوں کے بچے پریشان

  

چوہنگ(نامہ نگار) پنجاب حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسیوں کے تحت پرائیویٹ سکولز اور ان میں زیر تعلیم بچے شدید پریشانی کاشکار ہیں میاں محمد شہبازشریف نے پبلک سکولز کے بچوں کی بورڈ کی ہر قسم کی فیس معاف کردی جبکہ بورڈ انتظامیہ کو فنڈز نہیں دیئے تو بورڈ انتظامیہ نے ریونیو پورا کرنے کے لئے پرائیویٹ سکولز میں زیر تعلیم بچوں کی امتحانی فیس اور بورڈ رجسٹریشن فیس میں کئی گنا اضافہ کردیاگیا جبکہ پرویزالٰہی دور میں بورڈ رجسٹریشن فیس 275 روپے جبکہ امتحانی فیس 300 روپے تھی جو کہ گورنمنٹ اور پرائیویٹ سکولز کے تمام طلباءوطالبات کے لئے یکساں تھی مگر اب گورنمنٹ سکولز کے بچوں کی فیس بالکل معاف جبکہ پرائیویٹ سکولز کے غریب بچوں کی امتحانی فیس 900 روپے اور رجسٹریشن فیس 800 روپے مقرر کی ہے جو کہ سراسر ناانصافی ہے اور پرائیویٹ سکولز پر دس ہزار روپے انسپکشن کی مد میں لگا دیئے ہیں ان خیالات کااظہار میاں شفقت محمود جنرل سیکرٹری آل پاکستان پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن APPSA نے ”پاکستان“ سے کیا انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پنجاب اپنے اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کرتی تو آنے والی نسلیں تعلیمی دوڑمیں پیچھے رہ جائیں گی کیونکہ پرائیویٹ سکولز میں غریب بچے پڑھتے ہیں اور انکی بجائے معاونت کرنے کے ان پر بورڈ کی فیسوں کے ہوش ربا اضافے کا بوجھ ڈال دیاگیا ہے انہوںنے مزید کہا کہ جہاں پر گورنمنٹ سکولز کی فیس معاف کی گئی دانش سکولز بنائے گئے اور PEF جیسے عظیم منصوبے بنائے گئے ہیں وہاں پر پرائیویٹ سکولز کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کی صحیح معنوں میں ازسرنو پالیسی کاجائزہ لیا جائے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -