پیداواری شعبے کی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کےلئے فنڈ پر غورکیاجائے: مرتضیٰ مغل

پیداواری شعبے کی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کےلئے فنڈ پر غورکیاجائے: ...

  

اسلام آباد (اے پی پی) پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے کہ سود کی شرح میں کمی کے باوجود بینک نجی شعبے کو نظر انداز کر رہے ہیں جس سے ملک کی معاشی حالت میں واضح مثبت تبدیلی نہیں آ رہی۔حکومت پیداواری شعبے کی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کےلئے فنڈ کے قیام پر غور کرے تاکہ ہماری برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں نے نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی شروع کی نہ انکی حوصلہ افزائی کے لئے کوئی قدم اٹھایاہے، جب تک نجی شعبہ کو سستا قرضہ نہیں ملتا کاروباری سرگرمیوں پر جمود کی کیفیت طاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اقتصادی بحالی کے راستہ میں دیگر رکاوٹوں میں توانائی کی کمی، غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور سیکورٹی کی دگرگوں صورتحال شامل ہیں۔ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا کہ متعدد صنعتی شعبے گزشتہ کئی سال سے توسیع، جدت، استعداد بڑھانے اور اپ گریڈیشن کے خواہاں ہیں مگر نامناسب ماحول اور ناقابل برداشت اخراجات انکے راستہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ حکومت پیداواری شعبے کی سرمایہ کاری کی ضروریات پوری کرنے کےلئے فنڈ کے قیام پر غور کرے تاکہ ہماری برآمدات بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں۔اسکے علاوہ اہم صنعتوں کے لئے قرضوں کے قوانین میں نرمی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے جس سے غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گااور بے روزگاری میں کمی آئے گی۔ ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ملک کے کمزورانفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔اگر صورتحال پر اب بھی توجہ نہیں دی گئی تو افراط زر ، وسیع مالی اور کرنٹ اکانٹ خسارہ اور کمزور برآمدات شرح نمو کو متاثر کرتی رہیں گی۔   

مزید :

ایڈیشن 1 -