لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات 19 ستمبر کو ہوںگے ،پروگریسو گروپ بھی میدان میں

لاہور چیمبر آف کامرس کے انتخابات 19 ستمبر کو ہوںگے ،پروگریسو گروپ بھی میدان ...

  

لاہور(صبغت اللہ چودھری )ماہ ستمبر میں لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات منعقد ہورہے ہیں جو اس حوالے سے بہت اہم ہیں کہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کاروباری برادری کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے اور اس کی نمائندگی کرنے والی شخصیات نے آگے جاکر بہت اہم عہدے سنبھالے۔ مثال کے طور پر وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف ، سابق وفاقی وزیر سینیٹر اسحاق ڈار، شہزادہ عالم منوں، سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ اور دیگر بہت سی نامور شخصیات لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدارت پر فائز رہ چکی ہیں۔ رواں سال کُل 16نشستوں کے لیے انتخابات ہونگے۔ 19ستمبر کو کارپوریٹ کلاس کی سات اور 20ستمبر کو ایسوسی ایٹ کلاس کی 8نشستوں پر انتخابات ہونگے جن کے بعد نئی ایگزیکٹو کمیٹی خواتین کے لیے مختص ایک نشست پر خاتون کو منتخب کرے گی۔ اس وقت لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری پر پیاف فاﺅنڈرز الائنس برسرِاقتدار ہے ۔یہ صنعتکار اور تاجر برادری کے نمائندہ گروپس فاﺅنڈرز اور پیاف کا اتحاد ہے جو دس سال قبل معرض وجود میں آیا تھا۔ جب سے یہ اتحاد معرض وجود میں آیا ہے تب سے آج تک خاص طور پر فاﺅنڈرز گروپ کے کچھ غیر اہم اراکین جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کی عملی تصویر نظر آتے ہیں، صدقِ دل سے کوشش کرتے آرہے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح یہ اتحاد ٹوٹ جائے لیکن فاﺅنڈرز کے رہنماﺅں افتخار علی ملک، میاں تجمل حسین، میاں محمد اشرف ،شیخ محمد آصف اور پیاف کے رہنماﺅں میاں انجم نثار ، میاں شفقت علی ، محمد علی میاں اور شیخ محمد ارشد کی دانشمندی کی بدولت یہ اتحاد قائم چلا آرہا ہے۔ خاص طور پر افتخار علی ملک جو کاروباری حلقوں میں بہت ممتاز مقام رکھتے ہیں اور سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر بھی ہیں، اور میاں انجم نثار بہت فہم و فراست رکھتے ہیں اور اگر کبھی نشیب و فراز آئے بھی توانہوں نے بخوبی حالات کو سنبھال لیا۔ دونوں گروپوں کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت ایک سال صدر فاﺅنڈرز گروپ جبکہ سینئر نائب صدر اور نائب صدر پیاف سے اور اگلے سال صدر پیاف سے جبکہ سینئر نائب صدر اور نائب صدر فاﺅنڈرز گروپ سے ہوتے ہیں۔ اس سال پیاف کی جانب سے عرفان قیصر شیخ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہیں جو 29ستمبر کو سالانہ اجلاس عام کے موقع پر نئے عہدیداروں کو باگ ڈور سونپ کر سبکدوش ہوجائیں گے۔ میڈیا کے ذریعے اپنی آواز حکومتی ایوانوں تک کس طرح پہنچائی جاسکتی ہے اس کا اندازہ شاید عرفان قیصر شیخ سے بہتر اور کسی کو نہ ہو چنانچہ سال بھر وہ اخبارات کی شہ سرخیوں اور ٹی وی چینلز پر صنعتی تجارتی اور معاشی امور پر بات کرتے نظر آئے اور مارک اپ میں کمی اور ایس آر او 191کی واپسی سمیت انہوں نے کئی اور کامیابیاں حاصل کیں۔ معاہدے کے تحت اس سال لاہور چیمبر کی صدارت کے لیے باری فاﺅنڈرز گروپ کی ہے جس کے لیے فاروق افتخار اور عبدالباسط کے نام سامنے آرہے ہیں۔ یہ دونوں ہی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔ فاروق افتخار اپنی بہترین انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور ہیں اور عبدالباسط نہ صرف تجارتی و معاشی بلکہ قومی اور بین الاقوامی امور پر دسترس کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور اس حوالے سے قومی اخبارات میں بہت سے آرٹیکلز بھی تحریر کرچکے ہیں۔ اگر فاروق افتخار لاہور چیمبر کے صدر بنتے ہیں تو یہ لاہور چیمبر کے محنت اور ایمانداری سے کام کرنے والوں کے لیے خوشی کا باعث ہوگا کیونکہ محنتی ورکرز کے کام کو سراہنا اور نااہل و کام چور ورکرز کو آڑے ہاتھوں لینا اُن کی قابلِ ذکر خوبیاں ہیں۔ البتہ اگر عبدالباسط لاہور چیمبر کے صدر بنتے ہیں تو اپنی طبیعت میں قدرتی بردباری اور نرمی کی وجہ سے شاید وہ درگزرکی پالیسی اپنائیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ صنعت و تجارت اور کاروباری برادری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے یقینا وہ دن رات ایک کردیں گے جس کا وہ اب بھی عملی ثبوت دے رہے ہیں۔ دونوں گروپ اپنا اپنا صدر اتفاقِ رائے سے منتخب کرتے ہیں لیکن اس سال فاﺅنڈرز گروپ کی جانب سے دو نام اس لیے سامنے آئے ہیں کہ اگر فاروق افتخار کے صدر بننے کی راہ میں کوئی تکنیکی رکاوٹ حائل ہوتی ہے تو پھر عبدالباسط صدر ہونگے۔ سینئر نائب صدر کے لیے فی الحال کوئی نام سامنے نہیں آیا جبکہ نائب صدر کے لیے میاں ابوذر شاد کا نام تقریباً فائنل ہوچکا ہے ۔ انتظامی امور کے حوالے سے میاں ابوذر شاد بھی بہت صلاحتیں رکھتے ہیں اور اگر وہ نائب صدر بن جاتے ہیں جس کا قوی امکان ہے تو پھر لاہور چیمبر آ ف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بہت سے معاملات درست ہوجائیں گے۔ کسی کی ذاتی شخصیت پر انگلی نہ اٹھے اس لیے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے بگڑے ہوئے معاملات کا سرِدست تذکرہ نہیں کیا جارہاحالانکہ اس حوالے سے بھی دونوں گروپوں کے ممبران میں چہ مگوئیاں ہورہی ہیں۔ فاﺅنڈرز گروپ اور پیاف پورے زور و شور سے اپنے اپنے امیدواروں کے ناموں پر غور کررہے ہیں لیکن ابھی تک واضح نام سامنے نہیں آئے۔ البتہ فاﺅنڈرز گروپ کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس سال لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ایگزیکٹو کمیٹی کے لیے ایک ایسے صاحب کو بھی ٹکٹ دیا جارہا ہے جن کا ایک طرف تو کوئی ذاتی کاروبار نہیں اور دوسری طرف لاہور ہائیکورٹ انہیں سکل ڈویلپمنٹ کونسل کے چیئرمین کے عہدے سے بھی ہٹاچکی ہے جس کی وجہ اِس عہدے کا غلط استعمال بتائی گئی۔ دونوں گروپوں کے اندرونی ذرائع کے مطابق ایسے شخص کو ٹکٹ دینے پر صرف پیاف ہی نہیں بلکہ فاﺅنڈرز گروپ کے اراکین بھی تحفظات رکھتے ہیں جسے عدلیہ ایک اہم عہدے سے بدانتظامی کی وجہ سے ہٹاچکی ہو۔ دونوں گروپوں کے ممبران کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایسے شخص سے تاجر برادری کی خدمت کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے جو پہلے ہی اپنے عہدے کا انتہائی غلط استعمال کرچکا ہو۔ بہرحال فیصلہ تو فاﺅنڈرز گروپ نے کرنا ہے لیکن اس کی قیادت کو اپنے تمام اراکین کے جذبات کو ضرور مدّنظر رکھنا چاہیے۔ گذشتہ چند سال لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں آزاد گروپ بھی حصہ لیتا آرہا ہے لیکن کبھی کوئی سیٹ جیتنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس سال پروگریسیو گروپ بھی میدان میں آیا ہے ۔بہرحال یہ بات توطے ہے کہ اس سال بھی لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا اقتدار پیاف فاﺅنڈرز الائنس کے پاس ہی رہے گا ۔ اب صدر، سینئر نائب صدر اور نائب صدر کے عہدوں پر کون فائز ہوتا ہے، یہ وقت ہی بتائے گا لیکن امید ہے کہ یہاں بھی نتیجہ توقعات کے مطابق ہی برآمد ہوگا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -