پرائیویٹ ملازمین کے اخراجات پورا کرنے کے لئے:ایکسائز ملازمین کو زبردستی رشوت لینے پر مجبورکرنے کا انکشاف

پرائیویٹ ملازمین کے اخراجات پورا کرنے کے لئے:ایکسائز ملازمین کو زبردستی ...

  

لاہور (نیوز رپورٹر) ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کی موٹر برانچ میں ملازمین کو زبردستی رشوت لینے پر مجبور کیا جانے لگا ہے، ڈائریکٹر موٹرز محمد آصف کے حکم پر موٹر برانچ میں تعینات تمام انسپکٹر، ڈیٹا انٹری آپریٹر اور جونئیر کلرک ڈائریکٹوریٹ لاہور ریجن سی میں تعینات 3خاکروبوں کی نہ صرف ساڑھے 18ہزار روپے پر مبنی تنخواہیں ادا کرتے ہیں بلکہ دفتر کے انٹر نیٹ کنیکشن کے عوض ہرماہ 20ہزار روپے کے لگ بھگ انٹر نیٹ چارجز بھی ادا کرتے ہیں،ذرائع کے مطابق ماہ جولائی میں خاکربوں کی تنخواہیں ادا کرنے کے لیئے فی کس انسپکٹر ، ڈیٹا انٹری آپریٹر اور جونئیرکلرک سے 3سو روپے وصول کئے گئے اور انہیں حکومت کی طرف سے مقرر کردہ کم ازکم تنخواہ 9ہزار روپے اداکرنے کی بجائے محض 62سو روپے فی کس ادا کئے اور تنخواہ ادا کرنے کے بعد ندیم ، کمانڈو اور اسلم کو نوکریوں سے فارغ کرکے اپنی مرضی سے تین نئے خاکروب ڈیلی ویجز پر ملازم رکھ لیئے ہیں اور ان کی تنخواہوں کی ادائیگی موٹر برانچ کے ملازمین کے ذمے مقر ر کردی ہے، اسی طرح موٹر برانچ میں انٹر نیٹ کنیکشن فراہم کرنے والی کمپنی کو بھی ماھانہ 20ہزار روپے کے لگ بھگ رقم موٹر برانچ کے متذکرہ بالا ملازمین سے ہی وصول کرکے ادا کئے جاتے ہیں ، موٹربرانچ کے ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ خاکروبوں کی تنخواہوں اور انٹرنیٹ چارجز کے علاوہ بھی بہت سے اخراجات ادا کرتے ہیں اور یہ سب کچھ وہ اپنی تنخواہ سے ادا نہیں کرسکتے اس کے لیے انہیں مجبوراً رشوت اور کرپشن کا سہارا لینا پڑتا ہے، اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو ان کی ساری تنخواہ سرکاری فٹیکیں جھیلنے میں ہی صرف ہوجائیگی،اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے ایکسائز اینڈ ٹیکیسیشن لاہور ریجن اے کے ای ٹی او ایڈمن فرمان مسعود کا کہناتھا کہ ماہ جون تک کے تمام واجبات کلیئر ہیں اور یکم جولائی سے ریجن اے اور ریجن سی کے مالی معاملات اور ای ٹی او ایڈمن الگ ہوگئے ہیں ،اور یہ بات درست ہے کہ ریجن سی کے ای ٹی او ایڈمن نے تاحال اپنا چارج نہیں سنبھالا جس سے تنخواہوں وغیرہ کی ادائیگی کے مسائل درپیش ہیں ،جبکہ ای ٹی او ایڈمن لاہور ریجن سی شاہد گیلانی کا کہناتھا کہ انہیں زبانی طورپر ای ٹی او ایڈمن کا چارج دیا گیا ہے اور ان کے پاس کوئی تحریری حکم نامہ موصول نہیں ہوا،ان کا کہناتھا کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی یا انٹر نیٹ چارجز سے متعلق کچھ نہیں جانتے ، اس سلسلے میں گفتگو کے لئے ڈائریکٹر موٹر ز لاہور محمد آصف سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے موقف نہ دیا۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -