انتظامی بنیادوںپر نئے صوبے بنانے سے ملکی حالات بہتر ہوںگے خواتین اراکین اسمبلی

انتظامی بنیادوںپر نئے صوبے بنانے سے ملکی حالات بہتر ہوںگے خواتین اراکین ...

  

لاہور( رپورٹنگ ٹیم)نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے محتلف سیاسی جماعتوں کی خواتین نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبوں کوتقسیم کرنا غلط بات نہیں ہے۔ لیکن صوبوں کی تقسیم لسانی بنیادوں پر نہیں انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔ انتظامی بنیادو پر صوبوں کو ریلیف ملتا ہے۔ چند مخصوص جماعتیں صوبوں کی تقسیم چاہتی ہی نہیں ہیں اس لئے انتظامی اور لسانی بنیادوں کوایشو نہ بنایا جائے نئے صوبوں کی تشکیل سے ملکی حالات بہتر ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ ن کی رہنما ساجدہ میر، پیپلز پارٹی کی ممبر قومی اسمبلی شکیلہ خانم اور مسلم لیگ ق کی سیمل کامران نے ”روز نامہ پاکستان“ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ مسلم لیگ ن کی رہنمااور ممبر پنجاب اسمبلی ساجدہ میر نے کہاہے کہپنجااب اسمبلی میں جو کچھ ہوا اور دکھایا گیا اس سے اسمبلی کا امیج خراب کیا گیا ہے یہ ہمارے خلاف سازش ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے لئے پارلیمانی کمیشن نہیں بلکہ قومی کمیشن بنیا جانا چاہئے۔ صوبہ بنانا غلط نہیں لیکن تقسیم لسانی نہیں انتظامی بنیادوں پر ہونی چاہئے۔ انتظامیہ بنیادوں سے عوام کو ریلیف ملے گا۔ پنجاب اسمبلی میں کل جو ہنگامہ آرائی ہوئی اس کی انکوائری ہونی چاہئے ان خیالات کا اظہار انہوںنے ”روز نامہ پاکستان“ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ ہنگامہ آرائی کا مقصد پناب اسمبلی کا امیج خراب کرنا تھا۔ انہوںنے کہا کہ یہ ن لیگ کے خلاف بڑی شازش ہے ۔ صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف جنوبی پنجاب کو ہی صوبہ نہ بنایا جائے بلکہ دوسرے ڈویژنز کو بھی صوبوں میں تقسیم کرنا چاہئے۔شکیلہ خانم نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے ملکی حالات بہتر ہوں گے۔ انہوںنے کہا کہ مخصوص جماعتیں ہیں جو کہ نہیں چاہتیں کہ ملک کے مسائل حل ہوں ان بے بنیاد باتوں کو بنیاد بنا کر محض محاذ آرائی کرنا ہی ان جماعتوں کا ایشو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک ویسے بھی اپنے ابتری کے حالات سے گزررہا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جبکہ تمام جماعتوں کو آئین میں متحد ہوکر ملک کے لئے کام کرنا چاہئے، اس لئے جماعتیں کمیشن پر تنقید کرنے کے بجائے اس کے ساتھ تعاون کرے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -