ادویات کی خریداری میں اربوں روپے کے گھپلوں کاانکشاف

ادویات کی خریداری میں اربوں روپے کے گھپلوں کاانکشاف

  

لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت کے سرکاری ہسپتالوں میں لوکل پرچیز میں اربوں روپے کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے۔ گھپلے ڈاکٹروں کی لکھی ہوئے ادویات کی بجائے غیر معیاری اور غیر ملکی ادویات کا نعم البدل دے کر کروڑوں روپے کما رہے ہیں ۔ یہ دھندا گزشتہ کئی سالوں سے کیا جارہا ہے۔ زیادہ تر ادویات چائنہ سے درآمد کرکے دی جارہی ہیں۔ اس طریقہ کار کے تحت ہسپتالوں کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے لوکل پرچیز میں ہسپتالوں کی ادویات سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار گزشتہ 10 سالوں میں ہسپتالوں کو کم وبیش 20 ارب روپے کا ٹیکہ لگا رہے ہیں۔ ان گھپلوں کا آغاز ہسپتالوں کی خود مختاری سے ہوا جو آج تک جاری ہے اور لوکل پرچیز ادویات سپلائی کرنیوالے چند ٹھیکیدار لوکل پرچیز کے ٹھیکوں پر قابض ہیں اور گورنمنٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال کوٹ خواجہ سعید سے گلاب دیوی ہسپتال تک یہ مافیا ٹھیکے لے کر ادویات کا نعم البدل دے کر11 ارب روپے سالانہ گھپلے کر رہے ہیں ۔ روزنامہ پاکستان کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کے ہر ہسپتال نے یومیہ بنیادوں پر مریضوں کو فوری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے الگ الگ میڈیکل سٹوروں کے مالکان کو سالانہ بنیادوں پر لوکل پرچیز سے ادویات کی خریداری کا ٹھیکہ دے رکھا ہے۔ یہ ٹھیکیدار ہسپتال سے لوکل پرچیز میں ادویات سپلائی کرنے پر9 سے 23 فیصد عام مارکیٹ کے مقابلے میں ڈسکاﺅٹ کا معاہدہ کرتا ہے مگر ادویات ساز کمپنیاں انہیں اپنی ادویات کی خریداری پر 5 سے15 فیصد ڈسکاﺅنٹ دیتی ہے مگر ٹھیکیدار 23 فیصد تک اصل قیمت پر ڈسکاﺅنٹ دینے کا معاہدہ کرتے ہیں بقایا قیمت اور اضافی کمائی کو پورا کرنے کیلئے ٹھیکیدار مافیا ہسپتالوں کے شعبہ لوکل پرچیز کے عملہ اور ہسپتالوں کے متعلقہ فارما سیٹوں کی ملی بھگت سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی ادویات کی جگہ نعم البدل سستی ترین اور گھٹیا اقسام کی ادویات فراہم کرکے ایک طرف اربوں روپے سالانہ کما رہا ہے تو دوسری طرف مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے بتایا گیا ہے کہ زیادہ گھپلے سرجیکل آئٹمز میں کیے جا رہے ہیں۔ معروف اور نیشنل کمپنیوں کے سرجیکل دھاگوں کی جگہ چائنہ سے درآمد کیے گئے فراہم کیے جارہے ہیں اس طرح مختلف انجکشن جن کی قیمت عام مارکیٹ میں 200 سو سے 450 روپے تک ہے ان کی جگہ غیر ملکی سستے ترین ایسے انجکشن جو ٹھیکیدار 20 سے 30 روپے میں درآمد کرتا ہے وہ نعم البدل کے طو پر دیئے جارہے ہیں اور بل اصل نام کا وصول کیاجارہا ہے اور ان گھپلوں میں ہسپتالوں کے مختلف ڈاکٹرز وارڈوں کی نرسیں اور لوکل پرچیز کے شعبہ جات کا عملہ ملوث ہے جو باقاعدہ اپنا حصہ وصول کرتا ہے اور اس طرح کرکے ایک طرف قومی خزانہ کو سالانہ بنیادوں پر اربوں روپے کا ”ٹیکہ“ لگایا جا رہا ہے تو دوسری طرف مریضوں کی زندگیوں سے کھیلا جارہا ہے۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنماﺅں ڈاکٹرآفتاب اشرف‘ ڈاکٹرناصر کا کہنا ہے کہ ایسا ہسپتالوں میں زیر علاج اور آﺅٹ ڈور کے مریضوں کے ساتھ کیا جاتا ہے اس کی تحقیقات کروائی جائیں تو اربوں روپے کے گھپلے منظر عام پر آسکتے ہیں۔وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ ہسپتالوں لوکل پرچیز کی ادویات میں مریضوں کو نعم البدل ادویات دینے کے واقعات کی تحقیقات کر دیں گے اور ثابت ہونے پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔ وہ ”پاکستان“ سے گفتگو کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی کمائی اور کمیشن کے لئے ڈاکٹرز کے لکھے گئے نسخہ کی جگہ نعم البدل سستی ادویات دینا بہت بڑا کرائم ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -