اے خدا مرے ابو سلامت رہیں!

اے خدا مرے ابو سلامت رہیں!

  

ارسلان افتخار کو انصاف ملا ہے تو بے اختیار سٹیٹ لائف انشورنس والے یاد آگئے جن کا ایک اشتہار کبھی بہت مشہور ہوا تھاکہ ’ اے خد ا مرے ابو سلامت رہیں!‘یہ الگ بات کہ انشورنس والوں نے یہ دعا اس لئے کی تھی کہ ابو تمام قسطیں دینے کے بعد ہی کوئی بڑا فیصلہ کریں وگرنہ تو بچوں کا مفاد تو انشورنس کی رقم جلد ملنے میں ہوتا ہے !ٓاس صورت حال کو دیکھتے ہوئے سمجھ آتی ہے کہ عمران خان کو سیاست میں کامیاب ہونے میں بیس سال سے اوپر کا عرصہ کیوں لگا، اگر اس کے ابو بھی بااثر شخصیت ہوتے تو نواز شریف کی طرح چار پانچ سالوں میں ہی وہ بھی پنجاب کے وزیر اعلیٰ لگ جاتے!عبدالقادر گیلانی، موسیٰ گیلانی، حمزہ شہباز اور مونس الٰہی تو سامنے کی بات ہے ، آپ فواد چوہدری کو ہی لے لیجئے ، انہوں نے جتنی وکالت اپنے چچا کی چیف جسٹسی کے دوران کی ، اب اس سے آدھی وکالت کا وقت بھی ان کے پاس نہیں!گزشتہ دو دہائیوں میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں ،صحافیوں ، وکیلوں، جرنیلوں، تاجروں، صنعتکاروں، حتیٰ کہ فنکاروں نے اپنی اولادوں کے مفادات کی نگرانی میں اپناتن من دھن لگادیا ہے ، سب سے پہلے اپنا گھر بھرا ہے ، اب وہ زمانے گئے کہ کسی بڑے باپ سے کسی چھوٹے سے باپ کی اولاد فیض یاب ہو سکے، پدرم سلطان بود جتنا آج کے دور میں سچ ثابت ہورہا ہے ، کبھی نہ ہوا ہوگا، معاشرے کو بااثر ابوﺅں اور ان کی اولادوں نے کیموفلاج کیا ہوا ہے، جدھر چلے جائیں آگے ایک عدد بااثر ابو کھڑا ہے، ہر میرٹ ، ہر معیار کا دشمن، بااثر ابو ہمارے ہاں بڑی کرنی والے ہوتے ہیں، بڑے بڑے بابے ان کے آگے آنے سے گھبراتے ہیں،اسی لئے لوگوں نے جھوٹ موٹ کے ابو بنانے شروع کر دیئے ہیں، مطلب کے ابو، سیاسی ابو، جو سب کچھ کر سکتے ہیں ، یہ الگ بات کہ بیٹا تو سب کا بیٹا ہوسکتا ہے لیکن ابو ہر ایک کا ابو نہیں ہوسکتا!ابو کا ماضی کیا تھا، اولاد کو اس سے غرض نہیں ہوتی، ہر ایک کو اس سے فرق پڑتا ہے کہ ابو کا حال کیا ہے اور جہاں تک مستقبل کی بات ہے ، اس میں تو ہر ابو ڈبو بن جاتا ہے ، کوئی سنتا ہی نہیں ہے، بچے کمسن ہوں تو انہیں اپنے ابو ٹارزن لگتے ہیں، سکس ملین ڈالرمین دکھائی پڑتے ہیں، سپرمین لگتے ہیں، سپائڈرمین لگتے ہیں ، بے رعب ہوں تو بھی ماں ان کا جھوٹ موٹ کا رعب بنائے رکھتی ہے لیکن یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو ابو بلینک چیک کی طرح یا پھر پھٹے ہوئے نوٹ کی طرح ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں ، ابو کی اصلیت تب کھلتی ہے جب اولاد پریکٹیکل لائف میں قدم رکھتی ہے، اولاد کامیا ب ہے تو ابو کامیاب، اولاد ناکام ہے تو ابو بے نام ، جانشینی سرٹیفکیٹ کا کوئی ریٹ ہوتا تو بیٹے اولادیں بیچ کر بااثر اور نامور ابوﺅں کی جانشینی خریدتے نظر آتے!اولاد ابوﺅں کی کچھ نہیں دے سکتی ، سوائے نیک نامی یا بدنامی کے، بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر بااثر اور نام والے ابوﺅں کی اولاد انہیں بدنامی کے سوا کچھ نہیں دے پارہی !ایک زمانہ تھا جب نامور باپوں کے بیٹے اپنے تعارف پر سبکی محسوس کرتے تھے کہ وہ اس قدر نامور ، بااثر اور پہنچ والے نہیں ہیں ، اب تو پہچان ہی اس کی بنتی ہے جس کا ابو اثرورسوخ اور مقام و مرتبے والا ہو، اب تو کرپٹ ابو ہی Correctابو ہوتے ہیں، نان کرپٹ ابو Incorrectابو ہوتے ہیں!کستان میں سیاستدانوں، جرنیلوں،بینکروں، افسروں غرضییکہ سب نے ابو ہونے کا حق ادا کیا ہے مگر اولاد ہونے کا حق کوئی کوئی ادا کرسکا ہے، ارسلان افتخار چاہے سچا ہو، مگر جھوٹوں کے ساتھ اس کا لین دین تو ہوا، عبدالقادر گیلانی اورموسیٰ گیلانی نے جتنی ترقی یوسف رضاگیلانی کے وزیراعظم بننے کے بعد کی، ان کے جیل میں ہونے کے دوران اس کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے!پاکستان میں ابوﺅں نے تھڑتھلی مچا رکھی ہے، ہر بیٹے کے پیچھے اور ہر بیٹی کے آگے کھڑے ہیں، پاکستان میں ابوﺅں کا راج ہے یا پھر ان کے بیٹوں کا راج ہے ، اسی لئے تو ارسلان افتخار سپریم کورٹ میں یوں گھومتا ہے جیسے الزامات کا سامنا کرنے نہیں ابو سے ملنے آیا ہوا ہے!

مزید :

کالم -