ٹارگٹ کلنگ میں9جانیں چلی گئیں ،کوئٹہ ایف سی کے حوالے،فوج بلانے کامطالبہ ،پہیہ جام ہڑتال کااعلان

ٹارگٹ کلنگ میں9جانیں چلی گئیں ،کوئٹہ ایف سی کے حوالے،فوج بلانے کامطالبہ ...
ٹارگٹ کلنگ میں9جانیں چلی گئیں ،کوئٹہ ایف سی کے حوالے،فوج بلانے کامطالبہ ،پہیہ جام ہڑتال کااعلان

  

کوئٹہ ( مانیٹرنگ ڈیسک )بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں سبزی منڈی کے قریب اوررئیسانی روڈ پر فائرنگ کے واقعات میں 9افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ٹارگٹ کلنگ کے یکے بعد دیگرے واقعات کے بعد ایف سی کو دو ماہ کیلئے پولیس کے اختیارات دے دیئے گئے ہیں جس کے مطابق ایف سی مجسٹریٹ کے وارنٹ کے بغیر کسی جگہ بھی کارروائی کر سکتی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کے بعد مختلف تنظیموں کی جانب سے سات روزہ سوگ کے علاوہ کل پہیہ جام اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ شہریوں نے کوئٹہ میں قیام امن کیلئے فوج بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ناقص سیکیورٹی پر متعلقہ تھانوں کے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیدیاہے۔ میڈیا رپورٹس مطابق پہلے واقعے میں ملزمان نے مسافروں کو بس سے اتار فائرنگ کر کے پانچ افراد نوروز ، علی بابا، جواد ، سلمان علی اور سید یوسف کو ہلاک کر دیا۔اس واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے بی ایم سی کے باہر ہنگامہ آرائی شروع کردیی۔ فائرنگ کا دوسرا واقعہ سبزی منڈی کے قریب پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ٹرک اڈے پر فائرنگ کرکے دو افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور فرار ہو گئے۔ ٹارگٹ کلنگ کا تیسرا واقعہ رئیسانی روڈ پر پیش آیا جہاں دہشت گردوں کی ایک گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک شخص زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاںبحق ہو گیا۔ اس واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے بولان میڈیکل کمپلکیس کے باہر ٹائر جلائے اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ شہریوں نے ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کوئٹہ میں قیام امن کیلئے فوج بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ہزارہ کمیونٹی نے اعلیٰ حکومتی شخصیات کے آنے تک لاشیں وصول کرنے سے انکار کردیااور مشتعل افراد نے مختلف علاقوں میں فائرنگ شروع کردی۔ریسکیوذرائع کے مطابق فائرنگ کے مختلف واقعات میں 10 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ان واقعات کے بعد ہزارگنجی اور ہزارہ ٹاﺅن میں تمام تعلیمی ادارے بند کردیئے گئے ہیں اور کشیدگی والے علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی بھارتی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ مختلف تنظیموں کی جانب سے سات روزہ سوگ کے علاوہ کل پہیہ جام اور شٹر ڈاﺅن ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے ہزار گنجی اور سریاب روڈ پر سیکیورٹی کے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہارکیا۔ا±نہوں نے متعلقہ تھانوں کے افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ حکومت دہشت گرد عناصر پر آہنی ہاتھ ڈالے گی۔

مزید :

کوئٹہ -