بھارت کے بعد طالبان سے بیک چینل مذاکرات، گرینڈ جرگہ کی طرز پر کمیٹی بات کریگی

بھارت کے بعد طالبان سے بیک چینل مذاکرات، گرینڈ جرگہ کی طرز پر کمیٹی بات کریگی
بھارت کے بعد طالبان سے بیک چینل مذاکرات، گرینڈ جرگہ کی طرز پر کمیٹی بات کریگی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ دور ہی میڈیا کا ے، یہ رواں خبروں کا ہے، ہر روز ایک سے ایک خبر ملتی اور حیران کرتی ہے، تازہ ترین حالات تو بہت کچھ سوچنے اور دعا کرنے پر مجبور کرتے ہیں، بتایا ہی نہیں گیا بلکہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید اور پھر مولانا فضل الرحمان نے بھی تصدیق کردی ہے اور وہ یہ ہے کہ موجودہ حکومت اور پاکستانی طالبان کے درمیان گزشتہ ایک ماہ سے ”بیک چینل رابطے“ تھے اور بات آگے بڑھ رہی ہے کہ طالبان سے باقاعدہ مذاکرات ہوں، اب تو طالبان کے ایک نمائندے نے بھی بتایا ہے کہ ابتدائی بات چیت ہوئی جس کے مطابق بات چیت میں تمام مسائل زیر غور آئیں گے ان میں فرقہ واریت کے خاتمے سے لے کر القاعدہ اور لشکر جھنگوی کے ساتھ تعلقات تک کے نکات شامل ہیں۔ مولانا فضل الرحمان تو ا س حد تک پریقین ہیں کہ انہوں نے ابتدائی بات چیت کے لئے طریقہ کار بھی وضع کردیا وہ کہتے ہیں کہ طالبان سے ایک گروپ بات کرے گا، ان کی گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ اس گروپ میں حکومتی نمائندوں کے علاوہ ان کی جماعت، علماءاور ان کی پسند سے چنے گئے معززین بھی ہوں گے جن کا تعلق قبائل سے ہوگا۔ یہ گروپ ابتدائی بات چیت کے بعد اصل مذاکرات کی راہ ہموار کرے گا اور اس کے لئے پہلے سے ایجنڈا مرتب کرلیا جائے گا کہ زیادہ متنازعہ امور پر بھی تفصیلی بات چیت ہوچکی ہوگی، مولانا فضل الرحمن کی یہ تجویز ان کی گرینڈ جرگہ والی تجویز کا متبادل ہے تاہم ہیئت کے اعتبار سے اسے گرینڈ جرگہ کہا جاسکتا ہے۔اس سلسلے میں سینیٹر پرویز رشید سے جو بات منسوب کی گئی اس کے مطابق پاکستانی طالبان کے دو گروپوں سے بات ہورہی ہے۔ اگر ان کے علاوہ کوئی اور گروپ بھی بات چیت کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی خوش آمدید کہا جائے گا، غیر جانبدار حلقوں نے بھی اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں منفی سوچ رکھنے والوں کو اب ان کی اہمیت اور حیثیت کا احساس ہوجانا چاہیے، کہ وہ کہتے ہیں تو عملی شکل بھی پیدا کرتے ہیں، اس سلسلے میں جماعت اسلامی کا کردار ابھی سامنے نہیں آیا جماعت اس مسئلہ پر کنفیوژن کا شکار بالکل نہیں ہے، جماعت مذاکرات کی حامی ہے اور میاں محمد نواز شریف نے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی وساطت سے یقین دلایا تھا کہ حکومت پنجاب اسلامی کی ثالثی کو قبول کرے گی۔ تاہم جماعت نے طالبان سے واضح ایجنڈے کا مطالبہ کیا تھا، جماعت کی طرف سے کوئی شرط عائد نہیں کی گئی تھی لیکن یہ اپنی جگہ جائز بات تھی کہ جن امور پر گفتگو مقصود ہے وہ تو سامنے ہوں، لیکن یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے توسط سے ”بیک چینل مذاکرات“ کھلے ایجنڈے پر ہوئے اور اب بھی ایسا کوئی ایجنڈا نہیں ہوگا۔ اس اطلاع کے باہر آنے پر بہت بڑے طبقے نے سکھ کا سانس لیا لیکن اعتدال پسند، روشن خیال طبقے کو فکر لاحق ہوگئی ہے اور وہ مذاکرات کا ایجنڈا جاننا چاہتے ہیں کہ بقول ان کے ملک میں ”تھیو کریسی“ نہیں ہونا چاہیے۔ بہرحال اپوزیشن نے کھلم کھلا حکومت کو فری ہینڈ دیا کہ وہ مذاکرات یا آپریشن جو بھی راستہ اپنائے اس کا ساتھ دیا جائے گا، حکومت نے پہلی ترجیح استعمال کی اس کا ابتدائی نتیجہ تو دہشت گردی کی وارداتوں میں کمی کی صورت میں نکلا ہے، بات آگے بڑھے گی تو مزید پتہ چلے گا، دشواریاں بہت ہیں، یہ بھی آسان کام نہیں، بہرحال امن کے لئے ہر پاکستانی دعاگو ہے۔ایک طرف یہ صورتحال ہے تو دوسری طرف کراچی کے حالات نے کئی نئے بکھیرے کھڑے کردئیے، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار نے سپریم کورٹ میں پیش کی جانے والی ”مہاجر ری پبلیکن آرمی“ والی رپورٹ واپس لینے کا اعلان کردیا ہے، ان کے مطابق یہ فیصلہ سیاسی جماعتوں کے تحفظات کے باعث کیا گیا سیاسی جماعتیں غالباً تکلفاً کیا ورنہ ردعمل تو ایم کیو ایم ہی کی طرف سے تھا۔ چودھری نثار نے بہر حال رپورٹ کو غلط قرار نہیں دیا یہ توضیح کی ہے کہ ایسی رپورٹیں عدالت عظمیٰ میں پیش کی جانے والی نہیں ہوتیں متحدہ برہم ہے اور الطاف حسین نے تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے، تاہم یہ بھی تصور کیا جارہا ہے کہ یہ ایک انٹیلی جنس رپورٹ تھی اور اسے خاص مقصد کے تحت استعمال کیا گیا۔عدالت عظمےٰ کے روبرو تو کنٹینروں والا معاملہ بھی الجھ گیا ہے اور تحقیقات کے لئے کمشن تشکیل دے دیا گیا عجیب بات ہے کہ یہاں ڈائریکٹر جنرل رینجرز کے دو بیان سامنے آئے ایک یہ کہ سابق دور کے وزیر جہازرانی کی موجودگی میں کنٹینر کھولے گئے اور پھر وضاحت کہ ایسا نہیں کہا بلکہ یہ کہا گیا کہ سابقہ حکومت کے دور میں ایسا ہوا۔جو بھی کہا گیا یا واپس لیا اور دیا پھر وضاحت کی گئی، اب تو بات نکلی ہے تو آگے بھی بڑھے گی لیکن کیا متحدہ اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اس کے خلاف اتنی بے باک تنقید ہوسکے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے جس کا جواب وضاحتوں، تردیدوں اور میڈیا کوریج سے ملتا ہے۔ اس میں لندن والے کیسوں کا کوئی دخل نہیں ہے ادھر جسقم نے حکومت مخالف تحریک اور ہڑتال کا اعلان کیا ہے البتہ تمام حالات سے خود پیپلزپارٹی کو غور کرنا ہوگا۔ کیا یہ جماعت اب مزید کمزوری دکھاکر سندھ کے اقتدار سے بھی ہاتھ دھو لے گی یہ لاکھ ڈالر کا سوال ہے؟ جواب ڈھونڈ لیجئے۔

مزید :

تجزیہ -