اتفاق میں برکت ہے

اتفاق میں برکت ہے

  

آپ نے دو بیلوں اور شیر والی کہانی تو سنی ہوگی۔جب دونوں بیلوں میں اتفاق ہوتا ہے تو وہ شیر کو مار بھگاتے ہیں، لیکن جب بیلوں کے درمیان اتفاق ختم ہوتا ہے تو وہ شیر کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔شیر انہیں علیحدہ علیحدہ دیکھ کر حملہ کر دیتا ہے اور یوں ان کی نااتفاقی اور عدم اتحاد ان کی تباہی و بربادی کا سامان بن جاتا ہے۔

مسلم امہ پر بھی دو بیلوں اور شیر والی یہ کہانی فٹ آتی ہے۔فی الوقت اکثر و بیشتر مسلمان ممالک اندرونی و بیرونی خلفشار، سازشوں اور بے شمار مختلف مسائل کا شکار ہیں۔مصر سے شام تک عراق سے افغانستان تک ،پاکستان سے سوڈان تک، تیونس ،لیبیا، یمن، غرض کسی ایسے مسلم ملک کی مثال دینا مشکل ہے، جو معاشی، سیاسی ،تعلیمی اور سفارتی طور پر اتنا مضبوط ہو کہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے۔صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہہ سکے۔

دہشت گردی اور امن و امان کے مسئلے نے ہم آہنگی و سکون کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔مشہور ترک کہاوت ہے کہ پانی سو سکتا ہے، لیکن دشمن نہیں، یعنی ”دشمن بروقت آپ کی کمزوری کی تاک میں رہتا ہے اور موقع ملتے ہی حملہ کر دیتا ہے۔دراصل ہماری نااتفاقی اور عدم اتحاد کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے دشمن اور دوست کی ٹھیک طرح پہچان بھی نہیں کر سکے۔دشمن دوست کے روپ میں ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے۔بظاہر دوست نظر آنے والا حقیقت میں دشمن کے بیج بو رہا ہوتا ہے۔دشمن کا تو کام ہی دشمنی اور بچھو کی طرح ڈنگ مارنا ہوتا ہے۔اس سے آپ خیر اور بہتری کی امید ہی نہیں رکھ سکتے، مگر ہمیں اس کی پہچان ہی کیا ہوئی ہے کہ اس سے بچنے کا جتن کریں۔ہم نے خود اپنے دوستوں کو دشمن بنا لیا ہے اور دشمنوں کو دوست۔

مسلم ممالک کے آپس کے تعلقات بھی کوئی قابلِ رشک نہیں ہیں۔ایران، عراق جنگ10سال تک جاری رہی۔پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات بھی بہتر نہیں رہے۔ترکی اور عرب ممالک کے تعلقات میں بھی تاریخی دراڑ رہی ہے۔ فوجی بغاوتوں اور مذہبی و لسانی و گروہی فسادات نے اندرونی طاقت اور دم ختم ختم کر دی۔بادشاہتوں اور شخصی حکومتوں نے فردی آزادی اور جمہوری اقدار و روایات کو پنپنے نہیں دیا۔تعلیم اور سائنسی ترقی کی طرف توجہ نہیں دی گئی۔ ذہین اور قابل لوگ فکر معاش کی غرض سے بیرونی ممالک کا رُخ کر گئے، ان کو واپس لانے اور قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے گئے۔مغرب کی نقالی کی بھیڑ چال نے کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول بیٹھا کے .... مصداق ہم اپنی سنہری روایات سے بھی دستبردار ہوتے جا رہے ہیں۔اپنی ثقافت ،زبان، لباس، خوراک، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن سے روز بروز بیگانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ایسے میں غیر ملکی ثقافت،زبان، تہذیب، خوراک، معاشرت، لباس، رہن سہن، رسم و رواج کا عود آنا کوئی عجیب بات نہیں ہے۔

عراق، لیبیا،تیونس، مصر، شام، سوڈان، ایران، افغانستان، پاکستان اور فلسطین کی صورت حال غرض بہت سے باہمی معاملات پر مسلم امہ تقسیم رہی ہے۔کھل کر حمایت یا مخالفت نہیں کی گئی۔

اسی بحرانی دور میں مسلم ممالک کو یکجا کرنے والے ادارے جیسے او آئی سی، عرب لیگ، ای سی او خود بحران کا شکار ہیں۔ہم فرقوں، ذاتوں، اکائیوں، ملکوں اور جغرافیائی حدود میں مقید ہو چکے ہیں، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم آپس میں اتحاد ،اتفاق، اخوت و یگانگت کو فروغ دیں۔تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، سیاحت، تجارت، معیشت اور باہمی رابطوں اور تعلقات کو فروغ دیں۔ مشترکہ اداروں کو متحرک کریں۔ایک دوسرے سے فوجی، دفاعی تعاون بڑھائیں۔معلومات کا تبادلہ کریں۔ غرض ہر وہ قدم اٹھائیں کہ جس سے آپس کے تعلقات کو وسعت ملتی ہو۔ہم ایک دوسرے کے مزید قریب آنے کی کوشش کریں۔ہمیں آپس کے فروعی اور ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و اتفاق سے رہنا سیکھنا ہوگا، اسی میں مسلم امہ کی بقاءاور بہتری ہے۔   ٭

مزید :

کالم -