بقدر آبقدر آگہی غم زندگی کا

بقدر آبقدر آگہی غم زندگی کا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

2 ستمبر کو ناصر کاظمی کے ہم عصر اور منفرد غزل گو شاہد نصیر کی چالیسویں برسی پر
گہی غم زندگی کا
ادب کے کسی بھی طالب علم کے لئے یہ عجیب سی خبر ہو گی کہ نامور شاعر عبدالحمید عدم ملٹری اکاﺅنٹس میں محکمانہ ترقی کے امتحان میں فرسٹ آئے تھے ۔ میرے لئے اس سے زیادہ عجیب بات منفرد غزل گو شاہد نصیر کے ساتھ اپنا ابتدائی تعارف ہے ، جنہوں نے بچوں کے ایک کرکٹ گراﺅنڈ میں مجھے باﺅلنگ کرتا دیکھ کر صرف دو منٹ میں ’یارکر‘ پھینکنا سکھا دیا تھا ۔ یہ تو دھیرے دھیرے پتا چلا کہ ڈھیلی ڈھالی پتلون قمیض میں ملبوس ماضی کا یہ شوقیہ کرکٹر ایم اے او کالج امرتسر کے پروفیسر فیض احمد فیض کا شاگرد ہے ، جس نے زندگی تخلیقی شہرت کے مضافات میں گزار دی ۔ اس کی رحلت پہ احمد ندیم قاسمی نے ’فنون‘ میں لکھا تھا کہ سچا شاعر اگر چاہے تو اپنی مرضی سے پس منظر میں جا سکتا ہے لیکن اظہار کی جو طاقت اسے قدرت کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے اس کا حق ادا کرنے سے باز نہیں رہ سکتا ۔
 شاہد نصیر کی داستان ، جنہیں ہمسائیگی کی بنا پر ہم نے چاچا جی ہی کہا ، واہ میں ایک ڈرائینگ روم ، دو بیڈز اور ایک ایک سرونٹ روم والے ان کوارٹروں کے گرد گھومتی ہے ، جنہیں گھریلو ملازمین اور ماسیاں چھوٹے بنگلے کہا کرتیں ۔ مکان تو سبھی ایک سے تھے، مگر ان کے الگ الگ رتبہ کا دارومدار صبح ، دوپہر اور شام کو صحن ، کھڑکیوں اور روشندانوں پر پڑنے والے سورج کے رخ پہ تھا جس سے یہ طے ہوتا کہ کس گھر کے مکین گرمیوں میں سخت تپش اور جاڑوں میں شدید سردی سے بچے رہتے ہیں ۔ ’ٹوہر ‘ کا ایک پیمانہ وہ ننھے منے لان بھی تھے ، جن کی لمبائی چوڑائی مال روڈ کی سمت میں طے شدہ ہوتی مگر عقبی کوارٹروں کے ’فیوڈل‘ مزاج مکینوں کو یہ سہولت حاصل تھی کہ جس کا جی چاہتا صبح سویرے کدال ہاتھ میں لے کر مملکت خدادا د کی مزید تین چار فٹ اراضی اپنے رقبہ میں ڈال لیتا ۔
توسیع پسندانہ عزائم کی اس آماجگاہ میں صرف 109 نمبر کا باغیچہ ایسا تھا جو گلاب ، چنبیلی اور گیندے کے ہوتے ہوئے بھی باغباں کی عدم توجہ کا شہکار نظر آیا ۔ نہ سبزے کی باڑ ، نہ کیاریوں کی سفید اینٹیں جن سے پتا چلے کہ گھر والوں کو ماہانہ تنخواہ دفاعی بجٹ سے ملتی ہے ۔ برطانوی مصنف ایچ جی ویلز نے کہا تھا ’ ہر مرد دلی طور پہ ’بیچلر‘ جبکہ ہر عورت ماں ہوتی ہے‘ ۔ اس گھر کا مسئلہ یہی تھا کہ تینوں مکین ’چھڑے چھانٹ‘ مگر اتنے با ادب کہ فیملی کوارٹرز کی طرف اپنے دروازے میں تالہ ڈال کر پچھلے برآمدے کو آنے جانے کا راستہ بنا لیا تھا ۔ پھر بھی ’بیچلر‘ ہونے کا اندازہ اس ایک مثال سے لگالیں کہ دودھ ابالنے کی دیگچی مسلسل نہ دھلنے کی وجہ سے جب ہفتہ بھر میں بالکل بے کار ہو جاتی تو اسے ٹوٹی ہوئی شٹل کاک کی طرح باہر پھینک دیتے اور استعمال کے لئے نئی دیگچی آ جاتی ۔
افتخار عارف کی مقبول علامتوں کا سہارا لوں تو شاہد نصیر کے ’مکان‘ کو ’گھر‘ بننے میں صرف ایک ہی دن لگا تھا ، اور یہ سب میری نظروں کے سامنے ہوا ۔ سردیوں کی دھوپ میں چوتھی جماعت کا طالب علم سکول سے گھر پہنچا تو امی نے خوشی سے کہا ’چلو ، ہمارے محلے میں ووہٹی آئی ہے‘ ۔ 109نمبر کا کبھی نہ کھلنے والا دروازہ کھل چکا تھا ۔ صحن میں ہمارے ساتھ والے اختر خاں صاحب کی بیگم اور
یعقوب بٹ کی اہلیہ شاہد نصیر کی بڑی بہن سے باتیں کر رہی تھیں ، مگر میرے ساتھ تو ایک اور ہی چکر ہوا ۔ اگر کوئی آٹھ سالہ بچہ عشق کر سکتا ہے تو فیروزی سوٹ میں ملبوس نئی نویلی دلہن سے بطور ’خالہ جی‘ تعارف ہوتے ہی مجھے اس مسکراہٹ سے عشق ہو گیا جو بڑھاپے میں بھی ان سے کبھی چھپائے نہ چھپی۔
چاچا جی اور خالہ کی ازدواجی رفاقت کا دورانیہ تیرہ سال سے بھی کم ہے کہ اس کے بعد ناصر کاظمی کے ہم عصر شاہد نصیر اور قریبی دوستوں کے خواجہ صاحب دائمی ہجر کے شجرستاں میں جابسے ، یعنی ’وہ شہر جس سے مسافر نہ لوٹ کر آئے‘ ۔ پیچھے رہ جانے والوں نے کس حوصلے ، وقار اور خوش نیتی سے اپنی مسکراہٹوں کی حفاظت کی ، یہ کہانی آئندہ کے لئے ۔ ابھی تو یہ سنئیے کہ مجھے اور چھوٹے بھائی زاہد کو چاچا جی نصیر ہی پہلی بار مشاعرہ ’دکھانے‘ لے گئے تھے ۔ خالہ جی بھی ریشمی برقعہ اوڑھے ساتھ رہیں ۔ مگر ایک تو نو دس سال کی عمر میں بچوں پہ رات ہوتے ہی نیند کا غلبہ ، پھر یہ سمجھ کہاں کہ میر تقی میر کا مصرعہ ءطرح کیا ہوتا ہے ۔ ایک اور مسئلہ چاچا جی کی اناﺅنسمنٹ تھی جو کہتے ’اب میں جناب ظہیر رامپوری سے درخواست کروں گا ۔۔۔‘ اور میں سوچتا ’کروں گا‘ کی جگہ ’کرتا ہوں‘ بہتر تھا ۔

واہ کی کنٹونمنٹ پبلک لائبریری میں یہ شعری نشست ’فانوس‘ نامی تنظیم نے کرائی جس کے بانی صدر علی گڑھ یونیورسٹی میں شکیل بدایونی کے ہم مکتب راز مراد آبادی اور سکرٹری شاہد نصیر تھے ۔ بچوں کو شرکت کا ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ مقامی شعراءمیں ظفر ابن متین ، نظیر اختر ، الیاس صدا ، نسیم قریشی اور علی مطہر اشعر کو قریب سے دیکھ لیا جبکہ توصیف تبسم اور آفتاب اقبال شمیم جو ایم ای ایس اور انسپکٹوریٹ آف آرمامنٹس کی ملازمت کے دوران شاہد صاحب والے کوارٹر ہی میں رہے ، اس مشاعرہ سے پہلے ہی گورڈن کالج میں استاد بن کے جا چکے تھے ۔ البتہ حلیم قریشی سبط علی صبا ، سجاد بابر ، شفیع ضامن اور حسن ناصر ، جنہیں ’فنون‘ میں نمایاں مقام ملا ، اس کے کچھ عرصہ بعد مقبولیت کی منزل کو پہنچے ۔ اس رات رونق محفل نظیر اختر تھے ، یا شاہد نصیر جنہوں نے مطلع میں گرہ لگائی:
خوب دریافت جو کیا ہم نے
’راز کھولا ہے چشم پر نم نے
         (شاہد نصیر)
اے جہان طرب کی شہزادی!
تجھ کو دیکھا تو ہے مگر کم نے
         (نظیر اختر)
بچوں کی فکری کائنات چونکہ جدا ہوتی ہے ، اس لئے ان سنجیدہ اشعار کی خوبیاں تو ہم دونوں بھائیوں پہ بعد میں کھلیں ۔ اس رات تو ہنسی معروف مزاحیہ شاعر نذیر شیخ کے کلام پہ چھوٹی تھی جنہوں نے میر تقی میر کے جواب میں کہا کہ ’اک سکوٹر لیا ہے اکرم نے‘ ۔ یہ اندازہ بھی کالج میں پہنچنے کے بعد ہوا کہ ادبی تنظیم ’فانوس‘ والے ترقی پسند بلکہ ’سرخے‘ ہیں اور ان کے مقابلہ میں ایک تعمیر پسند انجمن ’شام اودھ‘ کے نام سے قائم ہے ۔ آل نبی تابش ، مختار ندیم ، تپش برنی ، بیدل فاروقی اور جمال لکھنوی کے علاوہ رفیق نشتر جبل پوری ، کمال کاسگنجوی ، ممتاز علی تاباں ، سید قابل اور میجر رفیع باور کا رجحان اسی جانب تھا ۔ خیر یہ تو وہ شاعر ہیں جو طویل عرصہ تک واہ میں رہے ۔ اگر مقامی کالجوں کے اساتذہ اور آتے جاتے سول اور فوجی افسروں کو شمار کر لیں تو مکتبہ ءواہ کے شعرا کی فہرست طویل تر ہو جائے گی ۔
 ان دنوں پڑھائی کے علاوہ ہمارا ایک ہی کام تھا ، وہ یہ کہ ساری دوپہر کرکٹ کے میدان میں ’دمادم مست قلندر ‘ جہاں شاہد نصیر ’چاچا خوامخواہ‘ کے طور پر ہمارے کھیل پہ سرپرستانہ نظر رکھتے اور کبھی کبھار میری باﺅلنگ کے دوران کریز سے ایک خاص فاصلہ کی نشاندہی کر کے کہتے کہ گیند یہاں پھینکو ۔ اب بیٹس مین نہ فارورڈ ہونے کے قابل رہتا نہ بیک فٹ ، اور وکٹ اڑ جاتی ۔ لیکن مزہ تو اس روز آیا جب شاعری کے میچ میں ایک پر جوش نظم کا ’یارکر‘ پھینک کر خود میں نے چا چا جی کی کلی اڑا دی۔ یہ 65 کی جنگ سے چند دن پہلے کی بات ہے جب جوڑیاں ، اکھنور اور پھر جموں کی طرف پاکستانی پیش قدمی کی خبریں دھڑا دھڑ نشر ہوا کرتیں اور شام گئے ’کبھی ہم خوبصورت تھے‘ والے کشمیری شاعر احمد شمیم کا پر سوز نغمہ گونجتا کہ ’مرے وطن ، تری جنت میں آئیں گے اک دن‘ ۔ اب میری نظم کا بھلا اس سے کیا موازنہ؟ مگر اس میں بھی ایک گہرا نکتہ پوشیدہ ہے ۔
دراصل نویں جماعت میں سکول کی لائبریری میں ہفت روزہ ’چٹان‘ پڑھنے کا چسکا پڑ گیا تھا ، جس سے میں یہ سمجھنے لگا کہ شورش کاشمیری کے اسلوب میں سیاسی موضوعات کی ’شعر بندی‘ اونچے درجہ کا تخلیقی کام ہے ۔ وادیءکشمیر پر میری اولین نظم کو بھی اسی سوچ سے تحریک ملی ۔ مشاعرہ کی اصطلاح میں سب سے پہلے اپنا کلام آزمائشی طور پہ والد صاحب کو ’عطا‘ کیا ، جنہوں نے خلاف توقع خوش ہو کر کہا کہ فوراً خواجہ نصیر کو جا کر دکھاﺅ ۔ کہتے ہیں اس بے وقوف آدمی سے ڈرنا چاہئیے جس کا ’جھاکا‘ اترا ہوا ہو ۔ میں ایک ایسا ہی آدمی تھا ۔ حکم ہوا خود پڑھ کر سناﺅ ، سو تعمیل کر دی ۔ چاچا جی حیران کہ ’یار ، مسدس اور وہ بھی پندرہ بند ، یہ حرکت تو شاعر لوگ بڑی لمبی مشق کے بعد کرتے ہیں ‘ ۔ پھر لمحہ بھر کو خاموش رہ کر کہنے لگے ’تم میں شعر کہنے کی طاقت تو ہے ، مگر پہلے ایم اے پاس کر لو ورنہ ہماری طرح کلرکی میں پھنس جاﺅ گے‘ ۔ آج ’بچپن کی غلطیوں‘ میں سے اپنا جو واحد بند یاد آرہا ہے ، اس کی چولیں بھی ڈھیلی ہیں ۔ جیسے روزوں کے لئے ’صیام‘ کا لفظ تشدید کے بغیر باندھا ہے ، ایک مصرعہ میں ’ان ہی‘ تین کے بجائے چار حروف کے وزن پہ ہے اور ’ہیں ہو گئے شہید‘ میں ’ہیں ہو‘ کی آواز سماعت پہ اچھا اثر نہیں چھوڑتی ۔ البتہ پندرہ دفعہ دہرایا گیا ٹیپ کا مصرعہ ٹھیک تھا کہ ’اٹھی ہے جاگ وادیءکشمیر دیکھ لو‘ ۔ چاچا جی میرے لئے خواجہ صاحب کب بنے ، ان کے ساتھ چائے کے خم لنڈھانے کا سلسلہ کب شروع ہوا ، احمد فراز کی صدارت میں شاہد نصیر پہ تقریر کرتے ہوئے میں نے رومن نقاد لونجائنس کا حوالہ کیوں دیا اور کیا مجھے ان کی اس نصیحت کا کوئی فائدہ پہنچا کہ شاعری میں کسی کی شاگردی ہر گز نہ کرنا ۔ یہ تفصیل آئندہ اتوار کو ۔ فی الوقت شاہد نصیر کا نمونہءکلام بطور تبرک جو 1948ءمیں ’سویرا‘ کے ایک شمارہ میں ناصر کاظمی کے ہم پہلو شائع ہوا تھا :
اگر چہ لاکھ شکوے ہیں ، گلے ہیں
ترے آنے پہ کس کے لب ہلے ہیں
بقدر آگہی غم زندگی کا 
بقدر تشنگی سب سلسلے ہیں
فراق و و صل کیا ؟ گریہ ، تبسم
قیامت کے مگر یہ فاصلے ہیں
         (جاری ہے) ٭

مزید :

کالم -