کراچی سے نہ کھیلیں

کراچی سے نہ کھیلیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی کے عوام کی سُنی جاتی ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا، تاہم کراچی کے حالات پر سیاسی قوتوں کے درمیان جو پوائنٹ سکورنگ جاری ہے، اُسے دیکھتے ہوئے بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں ہر کوئی کراچی سے کھیل رہا ہے، کسی کو سنجیدگی کے ساتھ ملک کے سب سے بڑے شہر کو درپیش چیلنجوں کی کوئی فکر نہیں۔ جہاں ایم کیو ایم کی طرف سے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ حیران کن ہے، وہاں اُس کی مخالفت کرنے والوں کے دلائل بھی بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ایم کیو ایم نے فوجی آپریشن کا مطالبہ صرف پوائنٹ سکورنگ کے لئے کیا ہے، کیونکہ یہ وہی جماعت ہے جو ہمیشہ فوجی آپریشن کے خلاف سب سے پہلے اور ماضی کے تلخ تجربات کا حوالے دے کر سب سے بلند آواز میں مخالفت کرتی رہی ہے۔ یکایک ایسی کیا بات ہوگئی کہ متحدہ قومی موومنٹ نے فوجی آپریشن کی حمایت کا راستہ اپنا لیا؟اس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگائیے کو جونہی سپریم کورٹ کے دباو¿ اور فوجی آپریشن کے مطالبے کو غلط ثابت کرنے کے لئے رینجرز اور پولیس نے کراچی میں کارروائی شروع کی، متحدہ قومی موومنٹ کی طرف سے صدائے احتجاج بلند ہونا شروع ہوگئی کہ اُس کے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے۔ اسی طرح اے این پی والے بھی احتجاج کرتے نظر آئے۔ گویا کراچی میں آپریشن کے لئے ضروری ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں چھپے جرائم پیشہ افراد، بھتہ خوروں اور اُجرتی قاتلوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے، وگرنہ وہ انتقامی کارروائی تصور ہوگی۔ ایسے میں بھلا فوجی آپریشن کیسے ممکن ہے؟.... فوج تو کبھی نہیں چاہے گی کہ اُس پر جانبداری کے الزامات لگائے جائیں یا انتقامی کارروائی کا شور مچا کر واویلا کیا جائے۔ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لئے متحدہ نے فوجی آپریشن کا جو مطالبہ کیا ہے، اُس میں سیاسی فائدہ اُٹھانے کی حکمت عملی صاف نظر آ رہی ہے۔
ہماری سیاسی قوتیں بشمول حکومت چونکہ ایک خوف کے عالم میں زندہ ہیں اور یہ خوف اس بات سے عبارت ہے کہ کہیں ملک پر پھر فوج کشی نہ ہو جائے، اس لئے وہ نارمل حالات میں سوچنے اور فیصلے کرنے سے قاصر ہیں، مثلاً یہی دیکھئے کہ جونہی متحدہ نے کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا، ایک ہلچل مچ گئی۔ ہر طرف کراچی کراچی ہونے لگا ہے۔ قومی اسمبلی میں تقاریر ہو رہی ہیں۔ وزیراعظم نے سیکیورٹی اداروں کا فوری اجلاس طلب کر لیا ہے۔ سیاستدان اپنی اپنی بولیاں بول رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے کراچی کا مسئلہ ابھی حال ہی میں پیدا ہوا ہے۔ پہلے اس شہر میں امن و امان کی مثالی فضا قائم تھی اور راوی چین ہی چین لکھ رہا تھا، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ پچھلے پندرہ برسوں سے کراچی ایک مقتل بن چکا ہے۔ ہزاروں بے گناہ شہری گولیوں اور دھماکوں کے ذریعے لقمہءاجل بن چکے ہیں۔
جرائم پیشہ افراد نے شہر میں اپنی آزاد ریاستیں قائم کر رکھی ہیں۔ بہت سے علاقے عملاً نو گو ایریاز ہیں، جہاں ریاست نام کی کوئی چیز سرے سے موجود ہی نہیں، حتیٰ کہ وہاں جاتے ہوئے رینجرز کے بھی پَر جلتے ہیں۔ بھتہ خوروں نے پورے شہر کو یرغمال بنا رکھا ہے اور سب جانتے ہیں کہ انہیں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ عام انتخابات کی مہم کے دوران وزیراعظم نواز شریف یہ کہتے رہے ہیں کہ کراچی جل رہا ہے اور وہاں امن بحال کرنا اُن کی حکومت کا پہلا ٹاسک ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کا مسئلہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، مگر مفاہمتی سیاست کی بے حسی نے اُسے نظر انداز کرنے کا جو راستہ دکھایا ہے، اُس کی وجہ سے یہ تاثر گہرا ہوتا چلا گیا کہ کراچی کو اُس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ابھی یہ سلسلہ شاید کچھ اور دن چلتا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے مطالبے نے جیسے وفاقی و صوبائی حکومت کو خواب غفلت سے جگا دیا ہو۔مَیں جب یہ کہتا ہوں کہ کراچی سے سب کھیل رہے ہیں تو اُس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی اُس کے بارے میں سچ بولنے کو تیار نہیں۔ اگر اتفاق سے کسی کی زبان سچ بول بھی دے تو سیاسی مصلحتیں اور دباو¿ اُسے فوراً وہ سچ واپس لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ اس کی حالیہ دو مثالیں سب نے دیکھیں۔ ڈی جی رینجرز سندھ نے سپریم کورٹ میں بیان دیا کہ اسلحہ سے بھرے ہزاروں کنٹینر سابق وفاقی وزیر برائے شپنگ و ڈرائی پورٹ کے دور میں آئے اور غائب ہوگئے۔ جب یہ خبر ہیڈ لائنز کے طور پر ٹی وی چینل دکھا رہے تھے تو رات کے وقت اچانک یہ وضاحت جاری کی گئی کہ ڈی جی رینجرز نے کسی وزیر کا نام نہیں لیا، بلکہ یہ کہا ہے کہ سابق دور میں کنٹینر غائب ہوئے۔ لفظوں کے اس ہیر پھیر سے قوم کو بے وقوف بنانے کا سلسلہ نجانے کب تک جا رہی رہے گا؟ اُدھر انٹیلی جنس رپورٹ کے ذریعے سپریم کورٹ میں داخل کرائے گئے شواہد کے ساتھ یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ کراچی میں مہاجر ری پبلکن آرمی بھی کام کر رہی ہے۔ متحدہ نے اس پر شدید رد عمل ظاہر کیا تو وفاقی وزیر داخلہ نے بھی عجیب و غریب مو¿قف اختیار کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹ تو درست ہے، مگر یہ سپریم کورٹ میں دینے کے لئے تیار نہیں کی گئی تھی....”اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا“....اگر مگر کی اسی پالیسی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ اس قسم کی مصلحتیں اور مجبوریاں آڑے آتی رہیں تو کراچی میں پیدا ہونے والے ناسور کا علاج کیسے ہو سکے گا، جو اب ایک بڑی سرجری کا تقاضا کر رہا ہے۔
کیا یہ سب سے بڑا لطیفہ نہیں کہ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان صوبائی وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو کراچی کے متوقع آپریشن میں کپتان کا کردار ادا کرنے کے لئے کہہ رہے ہیں؟ کیا ایک بوڑھے اور مصلحت پسند شخص سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کسی ایسے آپریشن کو لیڈ کر سکے، جس میں قانون شکنی کے مرتکب اپنے، پرائے سب زد میں آئیں گے اور کسی سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ اگر اُن کے بس میں کچھ ہوتا تو وہ اپنے گزشتہ پانچ سالہ دور حکومت کے دوران کراچی میں ہزاروں افراد نہ مرواتے اور کراچی کو غیر قانونی اسلحہ کا گڑھ بنانے میں اس غفلت کا مظاہرہ نہ کرتے، جس کا ذکر سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس کی سماعت کے دوران کیا ہے۔ چلیں، بالفرض یہ مان لیتے ہیں کہ قائم علی شاہ کپتان بننے پر تیار ہوگئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُن کے پاس ٹیم کون سی ہے؟ پولیس افسران اور ڈی جی رینجرز نے سپریم کورٹ کو بتا دیا ہے کہ کراچی میں اُنہیں فری ہینڈ حاصل نہیں۔
پولیس کے نمائندے نے تو بغیر لگی لپٹی رکھے کہہ دیا کہ پولیس والے بددلی کا شکار ہیں، کیونکہ اُن کے سامنے ان پولیس والوں کا عبرت ناک انجام موجود ہے، جنہوں نے کراچی آپریشن میں حصہ لیا تھا اور اُنہیں بعد ازاں چُن چُن کر مار دیا گیا۔ حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہیں۔ کیا اس قسم کی بددلی اور مایوسی کی شکار فورس کے ساتھ کراچی کے اُن مضبوط اور گینگ وار کے ماہر مافیاز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جنہوں نے مختلف علاقوں میں اپنی طاقتور ”ریاستیں“ قائم کر رکھی ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نجانے کس خوش فہمی کا شکار ہو کر یہ اعلان کر رہے ہیں کہ کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن ہوگا....جو قاتل اور بھتہ خور اب کراچی میں ہر طرف دندناتے پھرتے ہیں، کیا وہ ایک نیم دلانہ آپریشن کو ناکام بنانے کے لئے پورے شہر میں نہیں پھیل جائیں گے؟ اس وقت پورے کراچی کی پولیس اور رینجرز سے تو صرف لیاری نہیں سنبھالا جاتا، دو کروڑ آبادی کا شہر کراچی کیسے سنبھلے گا؟.... جلدی میں کوئی بھی قدم اُٹھانے سے پہلے معاملے کا مکمل ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کراچی میں جتنے بھی آپریشن ہوئے، اُنہیں کامیاب اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ اُن کے بعد کراچی کے حالات مزید خراب ہوئے، سدھرے نہیں۔
سپریم کورٹ نے بالکل درست نشاندہی کی ہے کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ اسلحے کے انبار ہیں۔ یہ اسلحہ بیرون ملک سے بذریعہ بحری جہاز کراچی آتا اور یہاں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اب حکومت جو بھی آپریشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اُس میں سب سے پہلی ترجیح یہ رکھی جائے کہ کراچی کو اسلحہ فری بنانا ہے۔ یہ کام فوج کے بغیر ممکن نہیں، کیونکہ پولیس اور رینجرز کے پاس اس قدر وسائل ہیں اور نہ افرادی قوت کہ بیک وقت شہر کو مختلف سیکٹرز میں تقسیم کر کے اسلحے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سرچ آپریشن کا آغاز کیا جاسکے۔ فوج کا امن و امان قائم رکھنے کے لئے بلایا جانا، جمہوریت کے منہ پر طمانچہ نہیں ہے۔ جمہوریت کے منہ پر اصل تمانچہ تو یہ ہے کہ لوگ بے گناہ مار جا رہے ہیں اور جمہوری حکومتیں بے بسی کا اظہار کر رہی ہیں۔
ایک آئینی آپشن کو استعمال کر کے فوج کو ایک محدود مدت کے لئے بلائے جانے میں کیا حرج ہے۔ کراچی میں فوجی آپریشن کی سب سے بڑی مخالف ایم کیو ایم رہی ہے، اب اگر ایم کیو ایم کسی بھی وجہ سے فوجی آپریشن پر واضح ہوگئی ہے اور اس کا مطالبہ کر رہی ہے تو اس موقع کا فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ فوج کے لئے ٹائم فریم کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ بھی متعین کئے جا سکتے ہیں۔ سب سے بڑا ہدف کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنا ہے، اگر فوج گھرگھر تلاشی کے دوران یہ کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو کراچی کا امن، خوشیاں اور رونقیں پھر لوٹ آئیں گی، لیکن اگر ہمارے فیصلہ ساز اسی طرح مصلحتوں کا شکار رہے، اپنی نا اہلی چھپانے یا اپنے آلہءکاروں کو بچانے کے لئے جمہوریت کو ڈھال بناتے رہے تو کراچی جلتا رہے گا اور ہم ہاتھ ملتے رہیں گے۔ کراچی میں قتل و غارت گری کا سلسلہ اسی صورت میں بند ہو سکتا ہے، جب کراچی کے ساتھ کھیلا جانے والا سیاسی کھیل بند ہو جائے۔ دیکھتے ہیں کراچی کے عوام سے کوئی نیا کھیل کھیلا جاتا ہے یا کراچی کا امن لوٹانے کے لئے سنجیدہ فیصلے کئے جاتے ہیں، تاہم کراچی کے حالات دہائی دے رہے ہیں کہ اب اس جاں بلب شہر میں ستم سہنے کی مزید سکت نہیں۔     ٭

مزید :

کالم -