اسلحہ سمگلنگ کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیشن کا قیام

اسلحہ سمگلنگ کے سلسلے میں تحقیقاتی کمیشن کا قیام

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحری جہازوں اور لانچوں کے ذریعے اسلحہ کی سمگلنگ اور ریونیو کی چوری کی تحقیقات کے لئے سابق ممبر کسٹمز رمضان بھٹی کی سربراہی میں کمیشن قائم کر دیا ہے۔ یہ کمیشن سات روز میں سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کرے گا۔ وہ سپریم کورٹ کو ہتھیاروں کی خریداری، سمگلنگ کے خاتمے کے حوالے سے تجاویز پیش کرے گا۔ دوران سماعت رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل رضوان اختر نے کہا کہ اسلحے سے بھرے یہ کنٹینرز سابقہ دور حکومت میں وفاقی وزیر برائے پورٹس ایند شپنگ کی زیر نگرانی کراچی آئے اور ان کی نگرانی میں کھولے گئے۔ انٹیلی جنس ادارے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ کراچی میں پکڑا جانے والا 78فیصد اسلحہ غیر ملکی اور 22فیصد پاکستانی ہے۔ اسلحہ سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور حب کے ذریعے کراچی آ رہا ہے۔ ڈی جی رینجرز نے کہا کہ کراچی میں پرتشدد واقعات میں کلاشنکوف اور اکثر واقعات میں ٹو ایم ایم پستول استعمال ہوتا ہے، جو امریکہ، جرمنی اور درہ آدم خیل کے بنے ہوئے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسلحہ لائسنسوں کی تصدیق کی ضرورت ہے۔ یہ پیچیدہ کام ہے لائسنسوں کو کمپیوٹرائز کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اسلحہ سے بھرے 19ہزار کنٹینرز کے کراچی آنے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
ایک کنٹینر ایک بڑے کمرے جتنا بڑا فولادی باکس ہوتا ہے، جس میں بیک وقت ہزاروں کلاشنکوف اورپستول بھرے جا سکتے ہیں۔ اس طرح کے19 ہزار اسلحہ سے بھرے کنٹینروں کا کراچی شہر میں پہنچ جانا ایک انتہائی تشویش ناک بات ہے، جس پر پوری قوم کے کان کھڑے ہو جانا قدرتی امر ہے۔ سپریم کورٹ اور دوسرے باخبر حلقوں کی طرف سے کراچی میں جرائم پیشہ لوگوں کو حاصل سیاسی سرپرستی کا بار بار ذکر کیا جاتا رہا ہے۔ شہر میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں کی وارداتیں مسلسل ہو رہی ہیں۔ بعض اوقات متحارب فریقوں میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لئے بھی جدید ہتھیاروں کے استعمال کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اس قدر اسلحہ کا شہر میں موجود ہونا شہریوں کے ایک آتش فشاں کے اوپر بیٹھنے سے کم خطرناک نہیں ہے۔ اس قدر اسلحہ تو ایک نئی فوج تیار کرنے کے لئے منگوایا جاسکتا ہے، اس کے پیچھے صرف لوگوں کے عدم تحفظ کی بناءپر اپنی حفاظت کے لئے کچھ اسلحہ رکھنے کی خواہش ہی نہیں، بلکہ بعض گروہوں کے بہت آگے کے عزائم بھی نظر آتے ہیں۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ اس قدر بھاری مقدار میں اسلحہ لانے کی ضرورت کس کو پڑ سکتی ہے۔ شہر میں بھتے حاصل کرنے کے لئے بھی منظم گروہوں کو چند پستولوں سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ایک دوسرے سے لڑنے کے لئے بھی چند بندوقیں کافی ہوتی ہیں۔ دہشت گرد بھی چھوٹے موٹے دھماکے کر کے اپنی دہشت پھیلاتے رہتے ہیں، لیکن یہ سب اسلحہ کس نے کس کا مقابلہ کرنے اور اپنے کن عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے حاصل کیا ہے۔ کن لوگوں کے تہہ خانوں میں بھرا ہوا موجود ہے اور اسلحہ کے انباروں کے ارد گرد پہرہ دینے والے لوگ کون ہیں اور انہوں نے کہاں سے تربیت حاصل کی ہے۔ اس وقت ملک سے باہر دشمن سے تربیت حاصل کرنے والے لوگوں کے لئے ملک کے اقتصادی مرکز میں اس قدر اسلحے کا یہ انتظام کس نے کر دیا؟ یہ معاملہ صرف تحقیق و تفتیش ہی کا نہیں اپنی سنگینی کی بناءپر مضبوط اور فول پروف کارروائی کا بھی متقاضی ہے۔19ہزار کنٹینرز میں بھر کر آیا ہوا اسلحہ ہماری ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اور خوفناک ترین سیکنڈل ہے۔اس اسلحہ سے کراچی کو پاک کرنے کی ذمہ داری کون اور کب پوری کرے گا؟        ٭

مزید :

اداریہ -