کیا بھارت بہانے سے مزید اسلحہ خریدنا چاہتا ہے؟

کیا بھارت بہانے سے مزید اسلحہ خریدنا چاہتا ہے؟
کیا بھارت بہانے سے مزید اسلحہ خریدنا چاہتا ہے؟

  


بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں بھارت کے پاس گولہ باروڈ کم پڑ سکتا ہے۔ بھارت اسلحے کی کمی کا پروپیگنڈا کرکے مزید اسلحہ اکٹھا کرنے کا راستہ ہموار کرنا چاہتاہے۔ بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے پاکستان پر دراندازی کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ چند دنوں میں پڑوسی ملک کی جانب سے کئی بار سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی جاچکی ہے۔اس نے بڑھک مارتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج پاک بھارت سرحد پر پاکستان کی مبینہ جارحیت کو ناکام بنانے کے لئے تیار ہے اور اگر پڑوسی ملک باز نہیں آیا تو اسے سبق سکھایا جائے گا۔

نریندر مودی کے عزائم سے ہر کوئی بخوبی واقف ہے کہ ان کی رگ رگ میں مسلم دشمنی رچی بسی ہے۔ مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی دنیا بھر کی اسلحہ ساز کمپنیوں کو بھارت میں اسلحہ کی فیکٹریاں لگانے کے لئے مدعو کیا۔ انہیں بیش بہا مراعات کی پیشکش کی حالانکہ اس وقت بھی بھارت پاکستان کے مقابلے میں اسلحہ کی دوڑ میں کہیں آگے ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت بھارت کی 11 لاکھ حاضر سروس فوج ہے جب کہ 9 لاکھ 60 ہزار ریزرو فوجی ہیں جب کہ پاکستان کے پاس ساڑھے 7 لاکھ فوج اور ساڑھے پانچ لاکھ ریزرو فوجی ہیں، ٹینک، لڑاکا طیارے، ملٹی پل راکٹ لانچر، مارٹر گولے، پلوٹونیم، بکتر بند گاڑیاں اور ایٹم بم بھی بھارت کے پاس پاکستان کی نسبت زیادہ ہیں ،لیکن اس کے باوجود بھارت امریکہ، اسرائیل، روس اور فرانس سے جدید ترین اسلحہ خرید رہا ہے۔ بھارت اسلحے کے ڈھیر لگا کر خطے میں طاقت کے سمبل کے طور پر سامنے آنے کی کوشش میں ہے۔

بھارت نے 2019ء تک اسلحہ کی خریداری کے لئے 97 ہزار کروڑ کے بجٹ کا تخمینہ لگا رکھا ہے۔ بھارت اسلحہ کے ڈھیر لگا رہا ہے جب کہ اس کی فوج کمزور اور انتہا پسند ہندو طاقتور ہیں۔ اگر اس قدر اسلحہ انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھ لگ گیا تو وہ خطے میں طالبان کی طرح اپنے نظرئیے اور سوچ کی ترویج کے لئے اسلحہ کے زور پر کنٹرول حاصل کرنے کی مسلح جدوجہد کریں گے۔ جس کے باعث خطے میں انتشار بڑھے گا اور پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ بھارت نے پہلے ہی فوج اور اسلحہ کے زور پر کشمیریوں کے یرغمال بنا رکھا ہے۔ عالمی برادری اسلحہ اکٹھا کرنے کے بھارتی جنون کا نوٹس لے۔ اگر بھارت نے اپنی منشا کے مطابق اسلحہ اکٹھا کر لیا تو پھر خطے میں خانہ جنگی کا خدشہ حقیقت میں بدل جائے گا، جبکہ دو ایٹمی قوتوں کے آمنے سامنے آنے سے ایٹمی جنگ چھڑنے کا بھی خطرہ ہے۔

نہایت دکھ اور افسوس کی بات تو یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے ان بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف وزیراعظم نواز شریف کی زبان مکمل طور پر خاموش ہے۔دلی سرکار نے نہ صرف یہ کہ سیکرٹری خارجہ سطح پر امن مذاکرات منسوخ کر دئیے ہیں ،بلکہ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کے خلاف بغاوت کے مقدمے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔نریندر مودی نے اپنی وزیراعظم کی حلف برداری کی تقریب میں نواز شریف کو ’’طلب’’ کیا تو میاں نواز شریف دوڑے چلے گئے وزیراعظم کے اردگرد چھائے ہوئے رفقاء نے شور مچایا کہ ’’نواز مودی’’ ملاقات سے برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے ،لیکن اب کوئی امن کی آشا کا علمبردار’ کوئی نجم سیٹھی’ کوئی عاصمہ جہانگیر اور کوئی امتیاز عالم پاکستانی قوم کو یہ بتانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ آخر بھارت کنٹرول لائن اور پاکستان سے ملحقہ بین الاقوامی سرحد پر اضافی فوج کیوں لے آیا ہے؟

مقبوضہ کشمیر میں ایک کروڑ سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ کشمیر کے مسلمان گزشتہ30سالوں سے آزادی کی تحریک کو اپنے خون جگر سے سینچ رہے ہیں۔یہ وہی کشمیر ہے کہ جس کے بارے میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے میاں نواز شریف اپنی جماعت کو قائداعظم کی مسلم لیگ قرار دیتے ہیں،لیکن نواز شریف کی حکومت نے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بچانے کے لئے ذرا برابر بھی اقدامات نہیں اٹھائے تو کیوں؟ کیا کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا پاکستان کے حکمرانوں پر کوئی حق نہیں ہے؟

مزید : کالم