ایف آئی آر

ایف آئی آر
 ایف آئی آر

  



ایف آئی آر کیا ہوتی ہے۔ یہ توبعد کی بات ہے۔ پہلے اس بات کا جائزہ لیناضروری ہے کہ لوگوں کو اس کے بارے میں کس قدر آگہی حاصل ہے۔ ہمارا معاشرہ جس طرح دوسری بہت سی ضروری معلومات سے نا آشنا ہے، اِسی طرح اپنے قانونی حقوق سے بھی نا آشنا ہے اس ناآشنائی سے متاثرہ شخص کو کیا نقصان ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے برائے نام رکھوالے پولیس مین کو کیاسنہری مواقع فراہم ہوتے ہیں، جن کی تلا ش میں وہ دن رات مار ے مارے پھر تاہے اور اس متلاشی کے ہتھے چڑھنے والا آخر کار کچھ نہ جانتے ہوئے گالی آخر نظام اور قانون کوہی دیتا ہے اس کے برعکس اگر قانون اورنظام کو دیکھاجائے، تو بالکل ایسا ہی قانون اور نظام کسی دوسرے معاشرے میں لوگوں کی زندگیوں کو پر امن اور خوشحال بنا رہا ہوتا ہے۔

لہٰذا ہمیں معاشرتی طور پر اپنے حقوق و فرائض سے واقف ہونا چاہئے۔ ایف آئی آر جو کسی بھی جر م کی پہلی معلوماتی اطلاع ہے۔ جسے درج کروانا ہر فرد کا قانونی حق ہے، جو کسی جرم کا شکار ہوا ہے اور متعلقہ پویس آفیسر قانونی طور پر ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہے اور ایسا نہ کرنے پر اس کے خلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے اوراگر ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود انویسٹی گیشن ٹھیک سے نہ کرے۔ اور سر کار سے ملنے والی تنخواہ کے علاوہ متاثرہ افراد کی محنت کی کمائی سے اپنا حصہ بٹورنا اپنا فرضِ منصبی سمجھتے ہوئے کھوٹے کو کھرا کر دے تو بھی متاثرہ شخص عدالت سے استدعا کر کے انویسٹی گیشن دوبارہ کرواسکتا ہے یا انویسٹی گٹیو آفیسر کو تبدیل کروا سکتا ہے۔جسے قانونی زبان میں استغاثہ کہتے ہیں۔ عام طور پر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد پولیس ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہی نہیں کرتی یا اسے تھانے لے جانے کی بجائے نجی ٹارچر سیل میں منتقل کردیتی ہے ۔ ایسی صورت میں متاثرہ شخص کے لوا حقین ہائی کورٹ میں اس کی بازیابی کے لئے درخواست دائر کرسکتے ہیں ۔

پولیس کسی بھی گرفتار شدہ شخص کو 24 گھنٹے کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے اور اس کی وجہ گرفتاری بتانے کی پابند ہے اس کے بعد اگر مجسٹریٹ چاہے تو حقائق کو دیکھتے ہو ے اس کو رہا کردے یامزید انوسیٹی گیشن کے لئے جسمانی ریمانڈ پر بھیج دے، جو کہ زیادہ سے زیادہ 14 دن کا ہو سکتا ہے۔ ادھر یہ ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ عام طو پر جسمانی ریمانڈ سے یہ مطلب لیا جاتا ہے کہ پولیس جس طرح سے چاہے مار پیٹ کر کے اس سے اعترافِ جرم کروائے ۔ جسمانی ریمانڈ کا مطلب صرف یہ ہے کہ عدالت ملزم کو جسمانی طور پر پولیس کے حوالے کرتی ہے اور بعض جرائم میں تو پولیس کو کسی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے مجسٹریٹ سے اس کی اجازت حاصل کرنا ہوتی ہے، جس کے بغیر پولیس کسی شخص کو گرفتار نہیں کر سکتی اور ہر گرفتار ہونے والے شخص کو حق حاصل ہے کہ اسے گرفتاری کی وجہ بتائی جائے اور اسے اپنے دفاع میں اپنی مرضی کا وکیل مقرر کرنے دیا جائے ، لیکن بدقسمتی سے لوگوں کی اپنے حقوق سے ناواقفیت کی بنا پر ہمارا ملک پولیس سٹیٹ بن چکا ہے۔یہاں پولیس والے سے سوال کرنا بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ کسی بھی جرم کی کسی ایک ہی فرد کی مدعیت میں ایک سے زیادہ ایف آئی آر درج نہیں کی جاسکتی، لیکن اس ایف آئی آر میں نئے حقائق درج کروائے جا سکتے ہیں،جنہیں سپلیمنٹری سٹیٹمنٹ کہاجاتاہے، لیکن ایک ہی جرم کی دوہری ایف آئی آر کاکوئی قانونی جوازنہیں، لیکن وہ ایک الگ بات ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی چھید ا میدا پانچ سات ہزارکا جتھا بنا کر چل پڑے اور ملک کے آئین وقانون سے فٹ بال کھیلتا ہوا دو کی بجائے پانچ سات یا دس ایف آئی آر بھی درج کروا دے اور اسے روکنے ٹوکنے کی قانونی جرات تو دور کی بات اخلاقی جرأت تک موجود نہ ہو۔

اورجب کسی معاشرے کے افراد اخلاقی جرأت سے ہاتھ دھو بیٹھیں تو اس ملک کا قانون عوام کو کبھی امن وسکون اور حقوق مہیا نہیں کرسکتا اور ایسے معاشرے میں قانون طاقتورکا غلام بن کررہ جاتا ہے۔ ان پڑھ اور متوسط طبقہ کو چھوڑ دیجئے۔ ہمارے تعلیم یافتہ اور باشعور طبقہ پر ہی نظر دوڑالیجے۔ ہم میں سے کتنے ہی ایسے لوگ ہیں، جن کی آنکھوں کے سامنے انسانیت اور قانون کی ہر روز کسی نہ کسی موقع پر توہین ہوتی ہے اور وہ کچھ کر سکنے کے باوجود یا تو تماشائی بن کر کھڑے رہتے ہیں یا پھر یہ کہہ کر چل دیتے ہیں۔ کہ ہمیں کیا مطلب ہم کون سے اس ملک کے ٹھیکیدار ہیں ۔ ہاں بالکل ٹھیکیدار تو وہی ہے، جو ہر جائز ناجائز طریقے سے اس قانون سے اپنی لیبر کا کام لیتے ہوئے منافع سمیٹ رہا ہے، بلکہ منافع نوچ رہا ہے۔ قانون بھی تبھی کسی معاشرے میں اپنا صحیح رنگ دکھا سکتا ہے ۔ جب اسے اخلاقی بلندی پر پہنچا معاشرہ میسر آئے۔ قانو ن کی حکمرانی لانے کیلے پہلے ہمیں اخلاق کی حکمرانی لانی پڑے گی۔ ورنہ یہ قانون اِسی وقت اوراسی شخص کے خلاف حرکت میں آئے گا،جو ظاہری طور پسماندہ نظر آتا ہو، جس کے کپڑے پرکسی سستے درزی کی دکان کا ٹیگ ہو گا ،جس کے پاؤں میں کسی عام دکان سے خریدا ہواجوتا ہو گا۔۔۔اورکسی خوش لباس کودیکھ کر تو قانون شرم وحیا ء کا پیکر ہی بن جائے گا، بلکہ مارے شرمندگی کے اپنا وجود ہی کھو بیٹھے گا۔ ورنہ غریب اور کمزور کی تو روٹی میں بھی روڑے اٹکاے گا۔

مزید : کالم