گورا رنگ

گورا رنگ
گورا رنگ

  


بچپن سے میں یہ بات سنتے آیا اور آہستہ آہستہ یہ بات میرے لاشور کا حصہ بن گئی کہ گورا رنگ خوبصورتی کی علامت ہے۔ ہمارے خاندان، رشتہ دار اور دوستوں میں اگر کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس بات کا سوال کیا جاتا ہے کہ گورا ہے یا کالا۔ زندگی کا بڑا حصہ میں نے اس سوچ میں گزارا کہ شاید گورے رنگ کے لوگ کالے اور سانولے رنگ والوں سے بہتر ہیں۔ میری کالج کی تعلیم، یونیورسٹی کی تعلیم یہاں تک کہ دینی تعلیم جس میں بار بار یہ بتایا گیا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ پاکستان میں رہنے والے شائد بہت سے دوست احباب جانتے بھی نہ ہوں کہ ایسا سوچنا آج کے دور میں بہت ہی برا خیال کہا جاتا ہے کسی کے رنگ کی بنیاد پر اگر آپ اس کے بارے میں کوئی بات کہیں تو ترقی یافتہ ممالک میں اس کو آپ کی اخلاقی پستی خیال کیا جاتا ہے۔

مَیں جرمنی کے شہر میونخ میں ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران میری ملاقات ایک بنگلہ دیشی خاتون سے ہوئی۔ محترمہ پڑھے لکھے ماں باپ کی بیٹی تھیں اور بنگلہ دیش کی حکومتی اور تعلیمی اشرافیہ کی سکھائی گئی پاکستان سے نفرت کی تاریخ کی قائل تھیں، مگر انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ رنگ کا مسئلہ وہاں پر بھی ہے۔ ان کی پیدائش پر ان کی والدہ کا پہلا سوال یہ ہی تھا، کہ لڑکی گوری ہے یا کالی؟ یہ بات ان کے والد صاحب نے ان کو بتائی۔ پاکستان میں یہ مسئلہ انتہائی مضحکہ خیز بنیاد پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے وہ صوبے جہاں لوگ باقی لوگوں سے نسبتاً گورے رنگ کے ہیں اپنے گورے رنگ کی بنیاد پر اپنے آپ کو باقی لوگوں سے بہتر سمجھتے ہیں اور ان کو ”کالے“ کا خطاب دیتے ہیں۔ افریقی ممالک سے آنے والے ہر شخص کو ہم لوگ تھوڑی سے حقارت کے انداز میں ”کالا“ کہتے ہیں۔

پنجاب میں پائی جانے والی ایسی برادریاں جن کے رنگ عمومی طور پر لوگوں سے کالے ہیں ان کو ”چوڑا، چمار، چنگڑ اور ایسے ہی الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔“ یہ مسئلہ صرف ان پڑھ لوگوں کا نہیں، پڑھے لکھے نوجوان سوشل میڈیا پر بدصورتی کا ذکر کرتے ہیں تو اکثر افریقی لوگوں کی تصویر لگاتے ہیں۔ ہر ماں کی خواہش ہے بیٹے کے لئے چاند سی گوری بہو لانا۔ اگر کسی نوجوان کا رنگ کالا ہو دوست یار ساری عمر اس کو کالا ہی کہتے ہیں۔ دیکھئے اب بہت سے لوگ دلائل دیں گے کہ ہمارا مذہب ہمیں ایسا کرنے سے روکتا ہے اور اس میں کوئی شک ہی نہیں مگر اپنے ہی ملک اور ملک سے باہر بسنے والے نسبتاً گہرے رنگ کے لوگوں سے ہمارا یہ رویہ غور طلب ہے۔ ہم اپنے ہی لوگوں سے یہ نسل پرستی والا سلوک کب تک کرتے رہیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی درسی کتابوں میں یہ بات شامل کریں کہ خوبصورتی کسی ایک رنگ یا ایک نسل کا نام ہیں۔

 خوبصورتی کا تعلق صرف گورے رنگ سے نہیں اور گورے رنگ کے لوگ گہرے رنگ کے لوگوں سے بہتر نہیں ہوتے۔ کسی کی قابلیت اور خوبصورتی صرف اس کے رنگ کی وجہ سے طے نہیں کرنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا معاشرتی مسئلہ ہے اور جب آپ کسی ایسے ملک میں جاتے ہیں جہاں آپ کی طرح کے رنگ اور نسل کے لوگ نظر آئیں تو احساس اور بھی پختہ ہوجاتا ہے۔ اللہ کرے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں اور ہمارے ملک میں بھی پوری دنیا سے لوگ آئیں۔ آج کی نوجوان نسل کو میرا پیغام ہے کہ اپنے بزرگوں کی غلط روایات آگے مت بڑھائیں۔ رنگ انسانوں کی خوبصورتی کا ذریعہ نہیں۔ قدرت نے انسانوں کو کئی طرح کے رنگ دئیے ہیں اور یہ سب اپنی جگہ پر خوبصورت ہیں۔ تو اگلی دفعہ جب کسی کو اس کے رنگ کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنانے لگیں تو رک کر ضرور سوچنا کہ دنیا میں کسی اور جگہ آپ کے رنگ پر ہنسنے والے لوگ بھی ہیں اور گورا رنگ آپ کو کسی سے بہتر نہیں بناتا، یہ ہماری اخلاقی کمزوری ہے اگر ہم ایسا سمجھیں!

(مضمون نگار جرمنی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں )

گورا رنگ

بچپن سے میں یہ بات سنتے آیا اور آہستہ آہستہ یہ بات میرے لاشور کا حصہ بن گئی کہ گورا رنگ خوبصورتی کی علامت ہے۔ ہمارے خاندان، رشتہ دار اور دوستوں میں اگر کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس بات کا سوال کیا جاتا ہے کہ گورا ہے یا کالا۔ زندگی کا بڑا حصہ میں نے اس سوچ میں گزارا کہ شاید گورے رنگ کے لوگ کالے اور سانولے رنگ والوں سے بہتر ہیں۔ میری کالج کی تعلیم، یونیورسٹی کی تعلیم یہاں تک کہ دینی تعلیم جس میں بار بار یہ بتایا گیا کہ کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ پاکستان میں رہنے والے شائد بہت سے دوست احباب جانتے بھی نہ ہوں کہ ایسا سوچنا آج کے دور میں بہت ہی برا خیال کہا جاتا ہے کسی کے رنگ کی بنیاد پر اگر آپ اس کے بارے میں کوئی بات کہیں تو ترقی یافتہ ممالک میں اس کو آپ کی اخلاقی پستی خیال کیا جاتا ہے۔

مَیں جرمنی کے شہر میونخ میں ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران میری ملاقات ایک بنگلہ دیشی خاتون سے ہوئی۔ محترمہ پڑھے لکھے ماں باپ کی بیٹی تھیں اور بنگلہ دیش کی حکومتی اور تعلیمی اشرافیہ کی سکھائی گئی پاکستان سے نفرت کی تاریخ کی قائل تھیں، مگر انہوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ رنگ کا مسئلہ وہاں پر بھی ہے۔ ان کی پیدائش پر ان کی والدہ کا پہلا سوال یہ ہی تھا، کہ لڑکی گوری ہے یا کالی؟ یہ بات ان کے والد صاحب نے ان کو بتائی۔ پاکستان میں یہ مسئلہ انتہائی مضحکہ خیز بنیاد پر کھڑا ہے۔ پاکستان کے وہ صوبے جہاں لوگ باقی لوگوں سے نسبتاً گورے رنگ کے ہیں اپنے گورے رنگ کی بنیاد پر اپنے آپ کو باقی لوگوں سے بہتر سمجھتے ہیں اور ان کو ”کالے“ کا خطاب دیتے ہیں۔ افریقی ممالک سے آنے والے ہر شخص کو ہم لوگ تھوڑی سے حقارت کے انداز میں ”کالا“ کہتے ہیں۔

پنجاب میں پائی جانے والی ایسی برادریاں جن کے رنگ عمومی طور پر لوگوں سے کالے ہیں ان کو ”چوڑا، چمار، چنگڑ اور ایسے ہی الفاظ سے پکارا جاتا ہے۔“ یہ مسئلہ صرف ان پڑھ لوگوں کا نہیں، پڑھے لکھے نوجوان سوشل میڈیا پر بدصورتی کا ذکر کرتے ہیں تو اکثر افریقی لوگوں کی تصویر لگاتے ہیں۔ ہر ماں کی خواہش ہے بیٹے کے لئے چاند سی گوری بہو لانا۔ اگر کسی نوجوان کا رنگ کالا ہو دوست یار ساری عمر اس کو کالا ہی کہتے ہیں۔ دیکھئے اب بہت سے لوگ دلائل دیں گے کہ ہمارا مذہب ہمیں ایسا کرنے سے روکتا ہے اور اس میں کوئی شک ہی نہیں مگر اپنے ہی ملک اور ملک سے باہر بسنے والے نسبتاً گہرے رنگ کے لوگوں سے ہمارا یہ رویہ غور طلب ہے۔ ہم اپنے ہی لوگوں سے یہ نسل پرستی والا سلوک کب تک کرتے رہیں گے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی درسی کتابوں میں یہ بات شامل کریں کہ خوبصورتی کسی ایک رنگ یا ایک نسل کا نام ہیں۔

 خوبصورتی کا تعلق صرف گورے رنگ سے نہیں اور گورے رنگ کے لوگ گہرے رنگ کے لوگوں سے بہتر نہیں ہوتے۔ کسی کی قابلیت اور خوبصورتی صرف اس کے رنگ کی وجہ سے طے نہیں کرنی چاہیے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بہت بڑا معاشرتی مسئلہ ہے اور جب آپ کسی ایسے ملک میں جاتے ہیں جہاں آپ کی طرح کے رنگ اور نسل کے لوگ نظر آئیں تو احساس اور بھی پختہ ہوجاتا ہے۔ اللہ کرے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہوں اور ہمارے ملک میں بھی پوری دنیا سے لوگ آئیں۔ آج کی نوجوان نسل کو میرا پیغام ہے کہ اپنے بزرگوں کی غلط روایات آگے مت بڑھائیں۔ رنگ انسانوں کی خوبصورتی کا ذریعہ نہیں۔ قدرت نے انسانوں کو کئی طرح کے رنگ دئیے ہیں اور یہ سب اپنی جگہ پر خوبصورت ہیں۔ تو اگلی دفعہ جب کسی کو اس کے رنگ کی وجہ سے تضحیک کا نشانہ بنانے لگیں تو رک کر ضرور سوچنا کہ دنیا میں کسی اور جگہ آپ کے رنگ پر ہنسنے والے لوگ بھی ہیں اور گورا رنگ آپ کو کسی سے بہتر نہیں بناتا، یہ ہماری اخلاقی کمزوری ہے اگر ہم ایسا سمجھیں!

(مضمون نگار جرمنی میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں )

مزید : کالم