اہل ِ حکومت اور اہل ِ دھرنا کی کوتاہ اندیشیاں!

اہل ِ حکومت اور اہل ِ دھرنا کی کوتاہ اندیشیاں!
اہل ِ حکومت اور اہل ِ دھرنا کی کوتاہ اندیشیاں!
کیپشن: 1

  

گزشتہ 20 روز سے پاکستان کے دارالحکومت میں جو تماشا جاری تھا، اس کا ڈراپ سین اگرچہ ابھی مکمل نہیں ہوا، تاہم قریب الاختتام ضرور لگتا ہے۔ میری نظر میں اِس تماشے کے دونوں فریق، یعنی اہل ِ حکومت اور اہل ِ دھرنا قابل مواخذہ ہیں....

حکومت اِس لئے کہ اُس نے ملک کے دارالحکومت میں احتجاجیوں کو داخل ہونے کی اجازت ہی کیوں دی۔ اور اگر اجازت دے کر دل بڑا کیا تھا تو بڑا رہنے دیتے، اسے اتنا چھوٹا کیوں کیا کہ مار کٹائی اور کشت و خون کی نوبت آ گئی۔ 17دن بعد دھرنا والے اگر تنگ آ کر اسلام آباد کی اہم عمارتوں کی طرف چل پڑے تھے تو ان عمارتوں کا تحفظ تو فوج کر رہی تھی۔ ہم نے دیکھا کہ جو ہجوم، پارلیمنٹ کی طرف بڑھا، اُس کو پارلیمنٹ لاونج میں آنے سے پہلے ہی فوج کی طرف سے وارننگ دی گئی اور جو جہاں تھا، و ہیں رُک گیا۔ یہی کچھ دیگر عمارات (پی ٹی وی، سپریم کورٹ، پرائم منسٹر ہاﺅس اور پریذیڈنٹ ہاﺅس) میں بھی ہوتا۔ لوگ وہاں تک تو جاتے، لیکن فوج اُن کو روک لیتی اور مذاکرات کا تسلسل نہ ٹوٹتا۔

دوسرے، اگر14اگست کو اسلام آباد کی طرف آنے والے راستوں کو بند کر دیا گیا تھا تو ان کو کھولنے کی اجازت کیوں دی گئی؟ کنٹینروں کے عقب میں Riot Police کو ڈیپلائے کیا جا سکتا تھا اور جو کچھ 30 اگست اور31اگست کی درمیانی شب کو ہوا، وہی اگر 14اگست اور 15اگست کی درمیانی شب ہو جاتا تو کیا بُرا تھا؟ .... سارا پاکستان20دنوں تک مبتلائے عذابِ انتظار نہ ہوتا، شاہراہِ دستور صاف ستھری رہتی، ڈی چوک وغیرہ میدان جنگ کا منظر پیش نہ کرتے، پاکستان کی جگ ہنسائی نہ ہوتی اور مذاکرات کے پردے میں حکومت کی کئی کمزوریاں بھی عیاں نہ ہوتیں۔.... یہ تماشا جو 30اگست کی شب دیکھنے کو ملا، وہی تماشا اگر14اگست کی شب رچا لیا جاتا تو کیا بُرا تھا؟

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے لیڈروں نے پورے16،17 دنوں تک جس طرح وزیراعظم کو رگیدا، جس طرح تہذیب و اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑا، جس طرح ہر شام پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہوئی، ٹیلی ویژن چینلوں نے ہر روز رات گئے تک خواتین کی نژادِ نو کو جس طرح جھومتے جھامتے دکھایا اور جس طرح تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقاریر کے دوران لوک موسیقی کے ٹکڑے آن ائر کر کے مقررین کو ایک ”ولولہ ¿ تازہ“ عطا کیا تو وہ ایک دو روز کے لئے تو باعث ِ دلچسپی یا وجہ ِ فرحت و انبساط بن سکتا تھا لیکن مسلسل 20دنوں تک لوگوں نے جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے ”مضمونِ واحد“ کا نظارہ کیا تو یہ من و سلویٰ کتنے روز تک کھایا جا سکتا تھا؟ ٹیلی ویژن کے ناظرین نے آخر آخر بریانی اور پلاﺅ کی جگہ دال روٹی اور نان چھولوں کی آرزو کی تو کیا بُرا کیا؟

حکومت نے اگر ان دھرنوں کا انجام وہی کرنا تھا جو ہفتے کی شب کیا گیا تو یہ پلاننگ انتہائی احمقانہ اور بے وقوفانہ تھی۔ مَیں حیران ہوں کہ ہائر لیڈر شپ سے لے کر لوئر لیڈر شپ تک کسی بھی بندہ¿ خدا کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اِن نہائت سادہ امور پر بھی غور کرتا۔

دوسری طرف اہلِ دھرنا کی کوتاہ اندیشیاں دیکھیں تو یقین نہیں آتا کہPTI اورPAT کے قائدین اتنے سادہ لوح تھے کہ وہ اس کا اندازہ نہ کر سکے کہ اگر لگاتار کسی گڑھے کی کھدائی کرتے چلے جائیں گے تو پانی کبھی نہ کبھی تو نکلے گا!

پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر کالم نگاروں اور مبصروں کی ایک بڑی تعداد یہ تجزیہ کر رہی تھی کہ وزیراعظم مستعفی نہیں ہوں گے۔ لیکن راقم السطور جیسے بعض کالم نگار یہ سوال کر رہے تھے کہ اگر معاملات بند گلی کی طرف جا نکلے تو سامنے کی دیوار کون توڑے گا؟ اور اگر دیوار نہ ٹوٹی تو بند گلی کا راستہ کیسے کھلے گا؟

عجیب تر استدلال یہ تھا کہ اہل ِ دھرنا مسلسل یہ بھاشن دے رہے تھے کہ ہمارا احتجاج پُرامن رہے گا اور ایک گملا تک نہیں ٹوٹے گا۔ لیکن افسوس کہ صرف 17دنوں کے انتظار کے بعد ہی قائدین ِ دھرنا کی تابِ شکیبائی جواب دے گئی اور انہوں نے آگے بڑھو کا نعرہ لگا دیا۔

اہل ِ دھرنا کی ایک اور سب سے بڑی کوتاہ اندیشی ان کی یہ سوچ تھی کہ اگر ہم پُرامن رہیں گے تو حکومتی مشینری بھی پُرامن رہے گی۔ لیکن کیا پُرامن رہنے کی یہ آپشن واحد آپشن تھی؟ کیا دھرنا دینے والوں کو معلوم نہ تھا کہ پہاڑ کی ایک عقبی سلوپ بھی ہوتی ہے جو نظر نہیں آتی، لیکن اس کا ہونا ”اٹل“ ہوتا ہے۔ سب سے پہلے قائدین ِ دھرنا کو اس طرف دھیان دینا چاہئے تھا کہ اگر حکومت نے دوسری آپشن استعمال کی تو اس کا جواب کیا ہو گا۔

کیا آنسو گیس کے گولے، ربڑ کی گولیاں یا 12بور کی فائرنگ کوئی نئی ایجادیں تھی جن کا پتہ قائدین ِ دھرنا کو پہلے سے نہیں تھا؟ انہوں نے یہ بات کیوں نہ سوچی کہ اگر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں تو اس کا جواب کیا ہو گا؟

PTI کے پاس13،14 ماہ تھے جن کے دوران تنگ آ کر ان کے بقول ان کو آخر اسلام آباد کی طرف مارچ کرنا پڑا۔ تحریک انصاف میں بڑے بڑے دماغ تھے (اور ہیں) انہوں نے عمران خان کو یہ مشورہ کیوں نہ دیا کہ پولیس اگر تشدد پر اتری تو اہل ِ دھرنا کی ”ڈانگیں اور سوٹے“ کب تک کام دیں گے؟.... مَیں اگر عمران خان کی جگہ ہوتا یا ان کی کور کمیٹی کا ممبر ہوتا تو پولیس کی آنسو گیس شیلنگ اور ربڑ بُلٹ فائرنگ کا جواب ڈھونڈتا اور خان صاحب کو مشورہ دیتا کہ چلو اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دو، اینٹ سے تو دو۔

بین الاقوامی اسلحہ بارود مارکیٹ میں آنسو گیس کے کین(Cane) جگہ جگہ دستیاب ہیں۔ ربڑ کی گولیوں کی جگہ ربڑ کی غلیلیں اور کانچ کے ماربل (بنٹے) گلی گلی مل جاتے ہیں۔ ان کا خاطر خواہ ذخیرہ کیا جا سکتا تھا اور اس کی باقاعدہ پلاننگ کر کے ایک ”آنسو گیس پلاٹون“ اور ”ایک غلیل پلاٹون“ بنا کر ہزاروں کے اس ہجوم میں تیار رکھی جا سکتی تھی۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ یکطرفہ ایکشن جو 30اگست کی شب دیکھنے کو ملا، نہ ملتا۔ اور اگر پولیس اصل گولیاں چلاتی تو تب شائد (اور یہ بہت بڑا شائد ہے) فوج کو مداخلت کرنا پڑتی۔

فوج کا ذکر آیا ہے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ فوج نے اس”تماشے“ سے الگ رہ کر ایک بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم نے تین چار دن پہلے فوج کو ”سہولت کاری“ (Facilitation) کا جو رول سونپنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی، وہ ایک نہایت درست اور دور اندیشانہ اقدام تھا۔ اس آپشن پر اگر عمل ہو جاتا تو شائد وہ بھیانک مناظر دیکھنے کو نہ ملتے جو ملے اور جن کے ملنے کے مزید اندیشے ابھی ”راہ“ میں ہیں۔ خدا نہ کرے وہ اندیشے اگر درست ثابت ہوئے تو پھر اسمبلی کے بھرے اجلاس میں خورشید شاہ صاحب کی ”گلا پھاڑ تقریر“ کا سارا بھرم کھل جائے گا۔

جاوید ہاشمی کی طرف سے مارشل لاءکی مخالفت بالکل بجا ہے، لیکن وزیراعظم نے جو رول فوج (چیف آف دی آرمی سٹاف) کو سونپا تھا، وہ مارشل لاءہر گز نہ تھا۔ ہاشمی صاحب دودھ کے جلے ہوئے ضرور ہیں، ان کی ابتلاﺅں کی تفصیل سب دوستوں کو معلوم ہے، لیکن بعض اوقات اگر جان پر بن جائے تو حرام چیزیں بھی حلال ہو جاتی ہیں۔ میرا خیال ہے ”سہولت کاری“ کا فریضہ فوج کو سونپنے کے بعد وزیراعظم صاحب نے جب اپنے عقابوں اور قائد حزب اختلاف کے تیور دیکھے تو یوٹرن لے لیا۔.... کاش وہ یہ یوٹرن نہ لیتے!.... اس کاش کی تعبیر مستقبل قریب میں اگر دیکھنے کو ملی تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم کی ڈھلمل یقین پالیسی پر ہو گی.... خدا نہ کرے اگر یہ قضیہ مزید بڑھا اور پاکستان کے دوسرے حصوں تک اس کے اثرات پھیلے تو پھر مسلم لیگ (ن)، پی پی پی اور دوسری ساری سیاسی جماعتیں جو صرف اپنی اسمبلی نشستوں کو بچانے کی فکر میں غلطاں نظر آتی ہیں ہاتھ ملتی رہ جائیں گی۔

تحریک انصاف نے اسمبلیوں سے استعفے دے دیئے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اپنی کشتیاں جلا دی ہیں۔ ایسے میں اگر پاکستان کے طارق بن زیاد ثانی کو ساحل ِ اندلس پر روک لینے کی کوشش کامیاب ہو گئی تو سوچتا ہوں پھر کیا ہو گا؟

مَیں یہ سطور لکھ چکا تو سامنے ٹی وی سیٹ پر نظر پڑی جس کی سکرین پر جاوید ہاشمی کی پریس کانفرنس آ رہی تھی.... معلوم ہوا وہ تیسری بار عمران خان سے روٹھ گئے ہیں۔

اس بار وجہ ¿ ناراضگی یہ سامنے آئی کہ 30اگست کی شام جو ”مارچ“ تحریک انصاف نے پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاﺅس کی طرف کیا تھا، وہ پارٹی منشور کی خلاف ورزی تھا۔ ہاشمی صاحب کا اصرار تھا کہ پارٹی کی کور کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ اِن”حساس عمارتوں“ پر دھاوا نہیں بولا جائے گا، کیونکہ ایسا کرنے سے احتمال ہو گا کہ مارشل لاءنزدیک آ سکتا ہے.... اور مارشل لاءسے ہاشمی صاحب جنم جنم سے الرجک ہیں۔

دیکھنا ہے عمران خان اب اپنے روٹھے صدرِ پارٹی کو کیسے مناتے ہیں اور ناقہ ¿ بے زمام کو کیسے تیسری بار قطار میں کھینچ لاتے ہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ جاوید ہاشمی اگر صدر ہیں تو عمران خان کیا ہیں؟.... مطلب یہ ہے کہ دونوں میں بلحاظ اختیارات سینئر کون ہے۔ میرے نزدیک یہ ”وحدت ِ کمانڈ“ کا مسئلہ ہے۔ اگر پارٹی کی قیادت عمران خان کے ہاتھ میں ہے تو پھر جاوید ہاشمی کو اپنے تحفظات بالائے طاق رکھ کر اُن کا حکم ماننا چاہئے اور اگر معاملہ برعکس ہے تو تیسری بار PTI کا رُخ نہیں کرنا چاہئے۔

مزید :

کالم -