اگر مَیں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا ؟

اگر مَیں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا ؟
اگر مَیں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا ؟
کیپشن: 1

  

ایک قائد کی بنیادی خصوصیت دیانت وامانت اور جرا¿ت وشجاعت ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں بہت سی شخصیات نے تاریخ میں اپنے انمنٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ راقم الحروف کو سیدمودودیؒ کو قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ مولانا پر بڑے بڑے مشکل وقت آئے، مگر ہرمشکل گھڑی میں وہ اپنے دوستوں کے اندازے سے بھی کہیں عظیم تر نکلے۔ پہلا موقع تو وہ تھا جب قادیانی مسئلے پر مولانا کی تحریروں کو بنیاد بنا کر ان کے خلاف ملٹری عدالت میں 1953ءمیں مقدمہ چلا۔ تاریخ میں یہ واقعہ میں نے اور دیگر لاکھوں قارئین نے پڑھا ہے۔ مولانا کو اس مقدمے میں 11مئی1953ءکو سزائے موت سنائی گئی۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ آپ چاہیں تو رحم کی اپیل کرسکتے ہیں۔ اس پر مولانا نے وہ تاریخی الفاظ کہے جنھیں مورخ سنہری حروف میں لکھتا ہے۔ فرمایا: ”موت اور زندگی کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر آسمان پر میری موت لکھ دی گئی ہے تو مجھے کوئی نہیں بچا سکتا اور وہاں میری زندگی باقی ہے تو تم الٹے بھی لٹک جا¶ تو مجھے پھانسی نہیں لگا سکتے۔ رہا رحم کی اپیل کا معاملہ تو میں تم سے ہرگز اس کی بھیک نہیں مانگوں گا۔“ مولانا کے بڑے بیٹے عمرفاروق کی عمر اس وقت صرف 15سال تھی۔ جیل کی طرف جانے سے پہلے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی اور فرمایا: ”بیٹا! ذرا نہ گھبرانا۔ اگر میرے پرودگار نے مجھے اپنے پاس بلانا منظور کرلیا ہے، تو بندہ، بخوشی اپنے رب سے جاملے گا اور اگر اس کا ہی حکم نہیں تو پھر چاہے یہ لوگ الٹے بھی لٹک جائیں، لیکن یہ میرا بال بھی بیکا نہیں کرسکتے۔“

جیل میں سزائے موت سننے کے بعد جو پہلی رات آئی تو مولانا کو ان کے ساتھیوں سے الگ کرکے پھانسی گھاٹ کی چکی میں بند کردیا گیا اور جیل کا لباس پہننے کے لئے دیا گیا۔ اس لباس میں پاجامے میں ازاربند نہیں تھا۔ جب مولانا نے اس کے بارے میں استفسار کیا تو بتایا گیا کہ سزائے موت کے قیدیوں کو اس لئے ازار بند نہیں دیا جاتا کہ وہ کہیں خودکشی نہ کرلیں۔ مولانا نے مسکرا کر فرمایا: ”وہ کون بے وقوف ہوگا جسے شہادت کی موت مل رہی ہو اور وہ حرام موت کو گلے لگا لے۔“ اپنے اہل وعیال اور جماعت کے ذمہ داران کو حکم دے دیا کہ وہ ان کی طرف سے کوئی اپیل دائر نہ کریں۔ پوری دنیا میں مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کروڑوں لوگوں نے اس ظلم پر بھرپور احتجاج کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مولانا کی موت اس وقت مقدر نہیں کی ہوئی تھی۔ لہٰذا حکمران انھیں پھانسی نہ لگا سکے۔ 13مئی کو ان کی سزائے موت کو 14سال قید بامشقت میں بدل دیا گیا اور 28اپریل 1955ءکو عدالت عظمیٰ کے ایک فیصلے کے نتیجے میں سنٹرل جیل ملتان سے انھیں رہا کردیا گیا۔

یہ سارے واقعات ہم نے تاریخ میں پڑھے یا بزرگوں سے سنے۔ جو واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ آج بھی ذہن میں یوں تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ یہ اکتوبر 1963ءکی بات ہے۔ راقم اس وقت انٹر کی پہلی کلاس میں تھا۔ بھاٹی گیٹ کے باہر جماعت اسلامی کا کل پاکستان اجتماع عام منعقد ہوا۔ اس اجتماع میں مکمل شرکت کا اعزاز حاصل کرنے کا موقع ملا۔ پہلے ہی سیشن میں مولانا کی تقریر کے دوران ایوبی آمریت اور نواب آف کالاباغ کی سکھا شاہی کے نتیجے میں لاہور کے غنڈوں نے پولیس کی نگرانی میں جلسہ گاہ پر مسلح حملہ کردیا۔ گولیوں کی بوچھاڑ میں جماعت کے کارکن الٰہ بخش شہید ہوگئے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ مولانا کے دائیں جانب اور سامعین کے بائیں جانب ان کی لاش گری۔ خیموں کی طنابیں کاٹ دی گئیں اور گولیاں چلنے لگیں تو مولانا سے ان کے ایک ساتھی نے کہا: ”مولانا آپ بیٹھ جائیں۔“ اس کے جواب میں مولانا نے فرمایا: ”اگر میں بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا۔“ گولیوں کی بوچھاڑ میں یہ الفاظ کہنا بڑے دل گردے کی بات ہے۔

اس وقت اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب اور جناب عمران خان صاحب نے ملکی سیاسی نظام میں اصلاح کے لئے دھرنے دے رکھے ہیں۔ دھرنوں کے بارے میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ تفصیل اہل وطن کو ملتی رہتی ہے۔ ایک دن مہم جو عیسائی راہنما جے سالک بھی طاہرالقادری صاحب سے اظہاریکجہتی کے لئے ان کے سٹیج پر جاپہنچا۔ جے سالک نے اپنے روایتی ریکارڈ کے مطابق کچھ غبارے بھی ہاتھ میں پکڑ رکھے تھے۔ تیز لائٹوں اور گرمی کی شدت کی وجہ سے ایک غبارہ پھٹ گیا تو اس کے دھماکے کی آواز آئی۔ پرنٹ میڈیا میں جو چیزیں چھپیں اس کی تردید ہوسکتی ہے، مگر کیمرے کی آنکھ نے موقع پر جو منظر محفوظ کیا وہ بڑا ظالم ہے۔ طاہر القادری صاحب اس کے بعد ہر خطاب میں مسلسل یہ کہے جارہے ہیں کہ میں شہادت پا جا¶ں گا لیکن پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ اللہ ان کی حفاظت فرمائے وہ بہت بڑے مصنف اور اس سے بھی بڑے خطیب ہیں۔ ان کے پیروکاروں اور قدر دانوں کو ان کی بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں اس بات پر تعجب ہے کہ شہادت کی تمنا کرنے والے لوگ معمولی دھماکے سے خوف زدہ کیوں ہوجاتے ہیں۔

اخبارات میں جو رپورٹ 19اگست بروز منگل چھپی تھی ہم اس کے چندفقرے نقل کررہے ہیں۔ آئی این پی کی رپورٹ کے مطابق ”قادری صاحب کے خطاب کے دوران گیس غبارے پھٹنے سے زوردار دھماکہ ہوا، جس کی وجہ سے طاہرالقادری سمیت سٹیج پر بیٹھے سبھی راہنما شدید خوفزدہ ہوگئے۔ عوامی تحریک کے سربراہ کے سکیورٹی گارڈز نے فوری طور پر اپنے قائد کو حصار میں لے لیا۔ قادری صاحب نے بھی اپنی تقریر روک دی اور کرسی سے اٹھنے کی کوشش کی۔ یہ غبارے جے سالک سٹیج پر لے کر آئے تھے۔“ (قومی اخبارات19اگست2014ئ) ہماری دعا ہے کہ طاہرالقادری صاحب جیسا قیمتی آدمی ہرآفت اور خطرے سے محفوظ رہے، مگر میڈیا نے ان کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ ان کے مقام ومرتبے سے بہت فروتر ہے۔

ہمیں سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد مرحوم کے ساتھ احتجاجی ریلیز اور دھرنوں میں جانے کا وسیع موقع ملتا رہا۔ ہم نے گولیوں کی بوچھاڑ میں قاضی صاحب کو پیچھے ہٹنے کی بجائے ہمیشہ آگے بڑھتے دیکھا تھا۔ راولپنڈی میں مری روڈ پر بے نظیر دورِ حکومت میں جب گولی چل گئی تھی اور حکومتی اہل کاروں نے قاضی صاحب کے جلو میں چلنے والے ایک نوجوان کو شہید کردیا تھا۔ اس وقت بھی قاضی صاحب اس نوجوان کا سر اس کی شہادت کے وقت اپنی گود میں رکھے ڈٹے ہوئے تھے۔ کیمرے نے وہ منظر بھی محفوظ کیا تھا۔ قاضی صاحب کی جناح کیپ دور جاگری تھی، چشمہ بھی گر گیا تھا، مگر اس سے بے نیاز آنسو گیس اور گولیوں کی بوچھاڑ میں وہ آگے بڑھ رہے تھے۔ گولیاں چلانے والے پسپا ہوگئے مگر جگرآزمانے والوں نے پیٹھ نہیں دکھائی۔ انسان کے قول وعمل میں یکسانیت، اس کی ساکھ اور اعتبار کو بڑھاتی ہے اور اللہ کی ناراضی سے بچاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ (الصف:2,3)

سروں سے کفن باندھ کر نکلنے والے بلٹ پروف جیکٹیں نہیں پہنتے، نہ ہی بلٹ پروف کنٹینر میں احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں۔ ہم نے اپنے قائدین کو جو کچھ کہتے سنا اس پر عمل کرتے بھی دیکھا۔ ہم کمزور بندے ہیں، کوئی دعویٰ کرنا ہمیں زیب ہی نہیں دیتا، مگر اللہ کا شکر ہے کہ جن لوگوں نے ہماری تربیت کی ان کی زندگی ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح واضح تھی۔ ظاہر اور باطن میں اگر فرق ہوتا تو سچی بات یہ ہے کہ وہ ہم سے چھپ نہیں سکتا تھا اور خدا نخواستہ اگر ایسا ہوتا، خدا گواہ ہے زندگی اس قافلے میں گزارنے کا فیصلہ ہر گز نہ کرسکتے۔ ہم کمزور انسان ہیں، ہم اللہ سے عافیت مانگتے ہیں۔ قرآن وحدیث میں یہی سکھایا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی ربانی ونبوی تعلیم ہے کہ کوئی آزمایش آجائے تو پھر اللہ کی مدد مانگو اور ثابت قدم رہو۔ ظلم کے نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والوں سے ہمیں مکمل ہمدردی ہے اور ہم ان کی حفاظت وسلامتی کے لئے اللہ سے دعا گو ہیں۔

مزید :

کالم -