سراج الحق کا فارمولا مان لیا جاتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے،ڈاکٹر وسیم اختر

سراج الحق کا فارمولا مان لیا جاتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے،ڈاکٹر وسیم اختر

  

لاہور(پ ر)امیر جماعت اسلامی پنجاب و پارلیمانی لیڈر پنجاب اسمبلی ڈاکٹر سید وسیم اختراور سیکرٹری جنرل نذیر احمدجنجوعہ نے اسلام آباد میں مظاہرین اور صحافیوں پر تشددکوافسوس ناک قراردیتے ہوئے کہاہے کہ اگر دونوں فریقین امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے امن فارمولے پرعمل درآمد کرتے تو ایسے گھمبیر حالات پیدانہ ہوتے اور اسلام آباد میدان جنگ نہ بنتاانہوں نے کہاکہ مذاکرات تمام مسائل کا حل ہواکرتے ہیں دوطرفہ تشدد سے حالات مزید خراب ہوں گے فریقین ہٹ دھرمی چھوڑ کرملک وقوم کے وسیع ترمفاد میں پر امن حل نکالیں۔حکومت میڈیانمائندوں پر بہیمانہ تشددکرنے والوں کی تحقیقات کرکے انہیں قرار واقعی سزاے دے۔انہوں نے کہاکہ انتخابی اصلاحات پرتمام دینی وسیاسی جماعتیں متفق ہیں لیکن عمران خان اور طاہرالقادری نے جوطریقہ کار اختیار کیا ہے اس پرجمہوری سسٹم پریقین رکھنے والی سیاسی جماعتوں کوتحفظات ہیں ۔ ہرمسئلے کا حل ہمیشہ سیاسی طور پرہی نکالاجاتاہے آئین اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے مطالبات کو منوایاجاتا ہے حکومت اور عمران خان وطاہرالقادری کومزیدصبر وضبط سے کام لینا چاہئے تھافریقین کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہورہی ہے عمران خان اور طاہر القادری کو بھی ریڈلائن کوکراس نہیں کرنا چاہئے تھاانہوں نے کہاکہ بحران سیاسی انداز میں حل کرناسیاسی رہنماؤں کی بنیادی ذمہ داری ہے دوست ممالک پاکستان کی داخلی صورتحال کے حوالے سے تشویش میں مبتلاء ہیں دستور پاکستان کی حفاظت ہرصورت میں کی جائے گی جماعت اسلامی1973ء کے متفقہ آئین پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی فریقین ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کریں۔

۔ڈاکٹر سید وسیم اختر نے مزیدکہاکہ2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات سپریم کورٹ کے قائم کردہ’’جوڈیشل کمیشن‘‘کے سپردکردی جائیں۔سپریم کورٹ آزاد ادارہ ہے جوکسی بھی لحاظ سے حکومت کے ماتحت نہیں اس پر سب کواعتماد کرناچاہئے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے اسلام آبادواقعہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افرادکے لواحقین سے دلی ہمدردی کااظہار کیاہے۔انہوں نے کہاکہ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعاگوہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -