فریقین صبرو تحمل اور بالغ نظری کا مظاہرہ کریں

فریقین صبرو تحمل اور بالغ نظری کا مظاہرہ کریں

پاکستان تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے کارکنوں نے جو ڈنڈوں اور غلیلوں سے لیس تھے، ہفتے کی رات وزیراعظم ہاﺅس کی جانب پیش قدمی کی، تو اسے روکنے کے لئے پولیس اہلکاروں کو آنسو گیس کی شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں چلانا پڑیں، جس کے بعد پولیس اور مظاہرین میں تصادم ہو گیا، جس کے نتیجے میں275 افراد زخمی ہو گئے، جن میں عورتیں، بچے، پولیس افسر، اہلکار اور ایف سی کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ تصادم رات بھر جاری رہا، جس سے زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا۔ صورت حال اس وقت کشیدہ ہوئی جب پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور ان کے بعد عمران خان نے اپنے اپنے دھرنوں کو وزیراعظم ہاﺅس کے باہر منتقل کرنے کا اعلان کیا، رات دس بجے کے لگ بھگ دھرنوں کے شرکاءنے ایوانِ وزیراعظم کی طرف جانا شروع کر دیا۔ مظاہرین نے کرین کی مدد سے کنٹینر ہٹا دیئے۔ مظاہرین وزیراعظم ہاﺅس کی جانب بڑھ رہے تھے اور داخلی گیٹ پر پہنچ گئے تھے جب پولیس نے اُن پر آنسو گیس کی شیلنگ کی اور ربڑ کی گولیاں چلائیں، شدید شیلنگ سے درجنوں مظاہرین عورتیں اور بچے بے ہوش ہو گئے، بعد میں مظاہرین نے ریڈ زون میں جھاڑیوں اور درختوں کو آگ لگا دی، کیبنٹ ڈویژن کی گاڑی نذر آتش کر دی، رات گئے مظاہرین کا ایک گروپ پارلیمنٹ ہاﺅس کا گیٹ توڑ کر اورکٹر سے تاریں کاٹ کر پارلیمنٹ ہاﺅس کے احاطے میں داخل ہو گیا، جسے فوج نے آگے بڑھنے سے روک دیا، فوج نے اہم عمارتوں پر پوزیشنیں سنبھالی ہوئی ہیں۔

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے ریڈ زون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا مظاہرین پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاﺅس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، کارکنوں نے وعدہ خلافی کی اور عمارتوں میں گھس گئے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور سیکیورٹی اہلکار ریاست کی عمل داری کو یقینی بنائیں گے۔ چودھری نثار علی خان نے کہا بعض مظاہرین مسلح تھے اور بیشتر سیکیورٹی اہلکاروں پر پتھراﺅ کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے اب مذاکرات ہوں گے نہ مظاہرین کو کہیں بیٹھنے دیں گے، کنپٹی پر بندوق کے زور پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ دوسری جانب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کا کہنا ہے کہ ہم پُرامن دھرنا دینے جا رہے تھے۔ عمران خان نے آج(اتوار) کے لئے ملک گیر مظاہروں کی کال دی ہے ۔ انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ کارکن ڈٹے رہیں، ہر صورت وزیراعظم ہاﺅس جائیں گے، حکومت کو بتائیں گے، احتجاج کیا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے اعلان کیا حکمرانوں نے خون کی ہولی کھیلی، دھرنا ملتوی نہیں ہو گا، ایم کیو ایم نے بھی اتوار کے روز یوم سوگ کا اعلان کیا اور متحدہ رابطہ کمیٹی نے کہا کہ ہم مظلوم عوام کے ساتھ ہیں۔

ہفتہ کی شب جب دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری اور پھر عمران خان نے اپنا دھرنا وزیراعظم ہاﺅس کے باہر منتقل کرنے کا اعلان کیا تو دونوں نے بار بار یہ بھی کہا کہ دھرنے کے شرکا پُرامن رہیں گے۔ عمران خان نے یہ اعلان بھی کیا کہ اگر جاوید ہاشمی(ان کی جماعت کے صدر) اُن سے متفق نہیں ہیں تو وہ واپس چلے جائیں، اس وقت تو عمران خان کے اس اعلان کا پس منظر سمجھ میں نہ آیا، لیکن اتوار کے روز جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں مخدوم جاوید ہاشمی میڈیا پر بتا رہے ہیں کہ ایوان وزیراعظم کی جانب بڑھنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا تھا، لیکن ”ایک پیغام“ ملنے پر،جو شیخ رشیدلے کر آئے، عمران خان نے دھرنا وزیراعظم ہاﺅس کی جانب منتقل کرنے کا اعلان کر دیا۔ جاوید ہاشمی نے اپنی جماعت کے چیئرمین کو متنبہ کیا کہ جمہوریت ختم ہوئی تو عمران خان ذمہ دار ہوں گے، مارشل لاءاور ہمارے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہا۔ جاوید ہاشمی نے وزیراعظم نواز شریف اور اُن کی حکومت کو بھی کھل کر ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے بعد شہباز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہئے تھا۔ جاوید ہاشمی کے بعد شیخ رشید نے یہ وضاحت ضروری سمجھی ہے کہ انہوں نے عمران خان کو آگے بڑھنے کا مشورہ نہیں دیا،اب عمران خان نے اپنے راستے جاوید ہاشمی نے الگ کر لئے ہیں۔

اسلام آباد میں دونوں دھرنے گزشتہ 17دنوں سے جاری تھے۔ یہ دھرنے جب لاہور سے چلے تو اسلام آباد تک بغیر کسی رکاوٹ کے پہنچ گئے، گوجرانوالہ میں جو واقعہ ہوا اس کے بعد خود مسلم لیگی قیادت نے راستے میں آنے والے اپنے دفاتر بند کرا دیئے تاکہ اس طرح کے کسی ناخوشگوار واقعے کا اعادہ نہ ہو، دونوں دھرنے اپنے اپنے منتخب مقام پر جو اسلام آباد کی انتظامیہ کے مشورے سے طے ہوا تھا، بیٹھ گئے، سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات ہو گئے، قائدین نے وقفوں وقفوں سے خطابات شروع کر دیئے اور ”چوروں، لٹیروں، ڈاکوﺅں، غنڈوں“ کو اقتدار چھوڑ کر جانے کے لئے انتباہ کئے جانے لگے، وزیراعظم کے مستعفی ہونے کے مطالبے ہونے لگے، عمران خان تو وزیراعظم کے استعفے تک محدود تھے اور بعدازاں ان کی ایک ماہ کی چھٹی کے مطالبے تک آ گئے تھے، انہیں ان کی جماعت میں سے کسی دوسرے کا وزیراعظم بننا بھی گوارا تھا، لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کے مطالبات اس سے کہیں بڑھ کر تھے، وہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ وزیراعلیٰ پنجاب کا استعفا بھی چاہتے تھے۔ پانچوں اسمبلیوں کی تحلیل بھی چاہتے تھے، ان کی جگہ ایک قومی حکومت کی تشکیل کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔ شریف برادران کو گرفتاری دینے کی ڈیمانڈ بھی تھی بہرحال یہ دھرنے جاری تھے کہ اچانک ایک دن دونوں دھرنوں نے ریڈ زون کی جانب پیش قدمی کا فیصلہ کر لیا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ دونوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ریڈ زون میں داخل نہیں ہوں گے، لیکن انہوں نے ایسا کر کے اپنے دستخط شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد دونوں دھرنے ریڈ زون میں بیٹھ گئے تو بھی یہ پُرامن تھے۔ اس دوران ایک بار اپنے مظاہرین کو خطاب کر کے ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ”کوئی رکن پارلیمنٹ کے اندر نہ جانے پائے اور نہ اندر والا باہر آنے پائے“ اس روز ارکانِ پارلیمنٹ ایوانِ صدر کے راستے سے باہر آئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے بعد میں اپنا یہ اعلان واپس لے لیا، اسی طرح دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے اعلان کیا کہ وہ ”کل وزیراعظم ہاﺅس میں گھس جائیں گے“، لیکن بعد میں انہوں نے اس اعلان پر چپ سادھ لی اور حکومت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حکومت نے تحریک انصاف کے پانچ مطالبات مان لئے، لیکن وزیراعظم کے استعفے پر آمادہ نہ ہوئی، خود وزیراعظم نے بھی اعلان کر دیا کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ حکومت کے دوسرے اعلیٰ عہدیدار بھی یہ اعلان کرتے رہے، اس دوران قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے سوا تمام جماعتوں نے حکومت کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کر دیا۔ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے لاہور میں وزیراعظم سے ملاقات کی اور انہیں ڈٹ جانے کا مشورہ دیا۔ چودھری اعتزاز احسن بھی یہی مشورہ دیتے رہے، اس دوران مذاکرات کے دور ہوتے رہے، لیکن کوئی دور بھی نتیجہ خیز نہ ہو سکا گویا بات استعفے پر آ کر اٹکی رہی۔ عمران خان اعلان کرتے رہے کہ وزیراعظم نے استعفا نہ دیا تو زبردستی گھسیٹ کرایوانِ وزیراعظم سے نکال دیا جائے گا۔ اس دوران ایک بڑی پیشرفت یہ ہوئی کہ لاہور کی سیشن عدالت اور بعد میں ہائی کورٹ کے حکم کی روشنی میں وزیراعظم سمیت21افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاﺅن کا مقدمہ درج کر لیا گیا، جس سے ڈاکٹر طاہر القادری مطمئن نہیں، لیکن مقدمے کی تفتیش کا سلسلہ شروع ہے اور قانون اپنا راستہ بنائے گا، ہفتے کو دن کے وقت حکومت اور تحریک انصاف کے جو مذاکرات ہو رہے تھے ان سے امید بندھی تھی کہ شاید اب یہ سلسلہ آگے چلے اور معاملات طے ہو جائیں، لیکن لگتا ہے اس دوران وہ لوگ بھی سرگرم ہو گئے، جو مذاکرات کو کامیاب نہیں دیکھنا چاہتے اور رات کو وہ دھرنا وزیراعظم ہاﺅس منتقل کرانے کے اعلان میں کامیاب ہو گئے۔

اس سارے پس منظر کو ذہن میں رکھا جائے تو ہفتے کی رات وزیراعظم ہاﺅس کی جانب پیش قدمی اور دھرنے کو پریڈ ایونیو سے اُٹھا کر وزیراعظم ہاﺅس کے باہر منتقل کرنے کے اعلان نے سنسنی کی لہریں دور دور تک پھیلا دیں۔ یہ درست ہے کہ بار بار اعلان کیا گیا کہ مظاہرین پُرامن رہیں گے،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم ہاﺅس کی جانب جانے کا فیصلہ بذات ِ خود محلِ نظر نہیں تھا؟ وزیراعظم ہاﺅس کو جانے والی سڑک شاہراہ دستورِ کی طرح عام پبلک کے لئے کھلی سڑک نہیں ہے۔ اِدھر وہی جاتا ہے جس نے وزیراعظم ہاﺅس جانا ہے اس سے آگے کوئی راستہ نہیں، نہ یہ معروف معنوں میں” شاہراہِ عام“ ہے، جس پر جانے کا حق ہر کسی کو حاصل ہو۔ عمران خان کہتے تو یہی ہیں کہ وائٹ ہاﺅس اور برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ کے باہر بھی مظاہرے ہوتے ہیں، لیکن کیا انہوں نے کبھی کسی ڈنڈا بردار اور غلیل بدست کو وائٹ ہاﺅس کی جانب بڑھتے دیکھا؟ کیا انہیں معلوم نہیں کہ مظاہرین اور ان دونوں ایوانوں کے درمیان حد ِ فاصل قائم کرنے کے لئے محض ایک یلو ٹیپ لگا دی جاتی ہے اور کوئی اس ٹیپ کو عبور نہیں کرتا، حالانکہ اسے اٹھا کر پھینکنا کوئی مشکل کام نہیں، یہ حد ِ فاصل ہوتی ہے جس کا احترام کیا جاتا ہے۔پولیس نہ بھی ہو تو بھی یہ ٹیپ مظاہرین کو روک دیتی ہے۔

اسلام آباد کے ریڈ زون میں وزیراعظم ہاﺅس کی جانب بڑھنے کی کوشش کے نتیجے میں جو کچھ ہوا وہ افسوس ناک ہے اور بالغ نظر اقوام اس طرح کے افسوسناک واقعات سے گریز کرتی ہیں، لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جس ہونی کو ہونے سے مسلسل ٹالا جا رہا تھا،وہ ہو کر رہی اور اب ایسے محسوس ہوتا ہے، اسے ہونا ہی تھااس کا ذمہ دار کون ہے؟ اس بحث میں پڑے بغیر ہم پوری درد مندی سے اپیل کرتے ہیں کہ فریقین ہوش کے ناخن لیں اور فوری طور پر امن بحال کریں۔ اس صورت تک پہنچنے میں اندھی عقیدت نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے، لیکن جب اس کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے تو بہت سے لوگ ہاتھ مل رہے ہوں گے اور اپنے قائدین کی عقلوں پر ماتم کر رہے ہوں گے۔ جاوید ہاشمی کو جلد سمجھ آ گئی، اس لئے انہوں نے آج بھی اپنے قائد عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ واپس آ جائیں، اُن کی اس درد مندانہ اپیل پر کان دھرنے کی ضرورت تھی۔لیکن قائد نے تو ان کی بات سننے کی بجائے راستہ ہی الگ کرلیا۔

مزید : اداریہ