پتنگ سازی کے سامان کی تیاری ایک مرتبہ پھر شروع، مخالف تنظیموں کا احتجاج

پتنگ سازی کے سامان کی تیاری ایک مرتبہ پھر شروع، مخالف تنظیموں کا احتجاج

لاہور(لیاقت کھرل) شہر کی گنجان آبادیوں اور مضافاتی علاقوں میں پتنگ سازی کے سامان کی ’’اندر کھاتے‘‘تیاری کا انکشاف ہوا ہے، جس میں پتنگ بازوں کے ٹیلیفونک آرڈر پر مختلف سائز اور رنگا رنگ پتنگوں اور کیمیکل ڈور کی ایک مرتبہ پھر تیاری شروع کردی گئی ہے جس سے پتنگ بازی زور پکڑرہی ہے، تفصیلات کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں پتنگیں اور کیمیکل ڈورتیار کرنے والوں نے پتنگ بازوں سے رابطہ رکھنے کے لئے ان کے موبائل ٹیلی فونز نمبرز حاصل کر رکھے ہیں اور موبائل ٹیلی فونک آرڈرز پر پتنگ بازی کے سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، اس میں رات کے اوقات اور بالخصوص بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران پتنگ بازی کے سامان کی فروخت کی اطلاعات زیادہ ملی ہیں، ذرائع نے بتایا ہے کہ اس میں مختلف سائز اور رنگا رنگ پتنگیں اور کیمیکل لوڈڈ ڈورز تیار کی جا رہی ہیں جس میں شاہدرہ، جلوپنڈ، مانگا منڈی، سندر داس، مریدکے، شاہدرہ ٹاؤن، چونگی دوگیج، غازی آباد، ہربنس پورہ اور بند روڈ کے گرد و نواح کی آبادیوں میں پتنگ بازی کے خطرناک سامان کی زیادہ تیاری کی جا رہی ہے، جس کے باعث شہر میں پتنگ بازی جیسے خطرناک کھیل نے ایک مرتبہ پھر جنم لے لیا ہے اس میں گزشتہ روز اتوار کی چھٹی کے دن شہر کے اکثر علاقوں میں اس خطرناک کھیل کا سلسلہ جاری رہاہے جس پر شہریوں میں خوف و ہراس پھیل کر رہ گیا ہے اور شہریوں نے پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل کی مکمل روک تھام کے لئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے دوسری جانب پتنگ بازی جیسے جان لیوا کھیل میں استعمال ہونے والے سامان کی تیاری اور اس خطرناک کھیل کے زور پکڑنے پر پتنگ بازی کی مخالف تنظیموں نے مظاہروں کی دھمکی دے دی ہے اس حوالے سے اینٹی کائیٹ فلائنگ ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر راؤ محمد اکرم خان، پتنگ متاثر ین کمیٹی کے چیئرمین محمد امین قادری، اکرام اللہ خان کاکڑ اور دیگر نے کہا ہے کہ حکومت نے پتنگ سازی اور پتنگ بازی کی مکمل روک تھام نہ کی تو ایوان وزیر اعلیٰ اور پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1