یورپی یونین کا اجلاس ¾روسی جارحیت پر شدید اظہار تشویش ¾روس پر نئی پابندیوں پر غور

یورپی یونین کا اجلاس ¾روسی جارحیت پر شدید اظہار تشویش ¾روس پر نئی پابندیوں ...

  

برسلز (اے این این)یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے یوکرین کے خلاف روسی جارحیت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے جبکہ تنظیم کے رکن ممالک کے رہنما برسلز میں روس پر نئی پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔اطالوی شہر میلان میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یورپی یونین کی امورِ خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے روس پر زور دیا ہے کہ وہ یوکرین سے اپنی فوج نکال لے۔روس اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس کے فوجی اہلکار مشرقی یوکرین میں باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔بیرونیس کیتھرین ایشٹن نے روس سے یہ بھی کہا کہ وہ یوکرین میں باغیوں کو اسلحہ، سازوسامان اور افرادی قوت فراہم کرنا بند کرے۔برسلز میں ہونے والے اجلاس سے قبل یورپی یونین کے حکام نے روس کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ یوکرین کے مسئلے کا سیاسی حل نکالے۔

یورپی کمیشن کے صدر ہوزے مینوئل بروسو نے روس کو خبردار کیا ہے کہ اس سے قبل کہ بحران اس مقام پر پہنچ جائے جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، معاملے کا حل سیاسی طور پر نکالا جائے۔وہ یوکرین کے صدر پیٹرو پروشینکو سے بات چیت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ یوکرینی صدر یورپی رہنماں کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز میں ہیں۔اس موقع پر پیٹرو پروشینکو نے کہا کہ یوکرین عسکری جارحیت اور دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کی سرزمین پر ہزاروں غیر ملکی فوجی اور سینکڑوں غیر ملکی ٹینک موجود ہیں۔ادھر یوکرین میں اب بھی دونیتسک کے علاقے میں متعدد فوجیوں کو باغیوں نے گھیر رکھا ہے۔اطلاعات ہیں کہ روس کے حامی فوجیوں نے الویسک صوبے میں موجود یوکرین کے فوجیوں کو تنبیہ جاری کی ہے کہ وہ سنیچر کی صبح تک ہتھیار ڈال دیں۔مشرقی یوکرین کے دونیتسک اور لوہانسک علاقوں میں جاری لڑائی میں اب تک 2600 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔علاقے میں تنازع اس برس اپریل میں تب شروع ہوا جب روس نے جنوبی خطے کرائمیا کے ساتھ الحاق کر لیا۔رسلز میں 28 ممالک کے رہنما اجلاس میں دو بڑے عہدوں پر نئے لوگوں کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کریں گے جن میں یورپی کونسل کے صدر اور خارجہ پالیسی کے سربراہ شامل ہیں۔یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشنکوو بھی برسلز میں ہیں۔ جہاں ان کی کوشش ہوگی کہ وہ روس کے خلاف سخت پابندیوں کی سفارش کریں۔اس سے قبل یوکرین کے صدر پیترو پوریشنکو نے یہ کہتے ہوئے اپنا ترکی کا دورہ منسوخ کر دیا ہے کہ ملک کے مشرق میں روسی فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دونیتسک کے علاقے کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتِ حال کے پیشِ نظر انھیں ملک ہی میں رہنا چاہیے۔ادھر بین الاقوامی امدادی تنظیم ریڈ کراس نے تسلیم کیا ہے کہ مشرقی یوکرین میں حالات نازک ہیں اور ہزاروں لوگوں کو پانی، بجلی اور دوائیں دستیاب نہیں ہیں اور تین لاکھ 30 ہزار سے زیادہ کو اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا ہے۔یوکرین کا الزام ہے کہ روس باغیوں کی مدد کر رہا ہے اور اس نے باغیوں کے قبضے سے روسی ساختہ اسلحہ برآمد کیا ہے

مزید :

عالمی منظر -