قتل اور گرفتاری کے خوف سے فوجیوں کو غزہ سے واپس بلایا اسرائیلی وزیر اعظم

قتل اور گرفتاری کے خوف سے فوجیوں کو غزہ سے واپس بلایا اسرائیلی وزیر اعظم

               مقبوضہ بیت المقدس (اے این این)اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمت کاروں کے خوف کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ سے فوجیوں کو اس لیے واپس بلایا کیوں کہ ان کی جانوں کو سنگین نوعیت کے خطرات لاحق تھے۔ اگر فوجیوں کو غزہ کی پٹی کے محاذ پر چھوڑ دیا جاتا تو ان کے قتل اور یرغمال بنائے جانے کے یقینی خدشات تھے۔صہیونی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار عبرانی ٹی وی 2 کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہمیں غزہ کی طرف سے خطرے کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان سے بھی مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔ ایسے میں غزہ کی پٹی میں فوج کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑا جاسکتا تھا۔ جب فوج دو محاذوں پر مشغول ہوجاتی تو سپاہیوں اورافسروں کی جانوں کو خطرات لاحق ہوجاتے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بندی کے ساتھ ہی غزہ کے محاذ سے فوج کو واپس بلایا جا رہا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم کا یہ انٹرویو فلسطینی میڈیا نے بھی نشر کیا ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی "صفا" کی جانب سے نیتن یاہو کا تفصیلی انٹرویو شائع کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مصر کی نگرانی میں غزہ کی پٹی میں جو جنگ بندی معاہدہ ہوا ہے اس میں اسرائیلی کابینہ کی مکمل منظوری حاصل ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ فلسطین کی اس مخلوط حکومت کو ختم کرنے کے لیے کوششیں کررہے ہیں جس میں حماس بھی شامل ہے۔ تو نیتن یاہو کا کہنا تھا فی الوقت ہماری توجہ غزہ کی پٹی میں فوجی آپریشن پر مرکوز تھی۔ اس جنگ میں حماس کا ملٹری نیٹ ورک تباہ کیا ہے۔ مستقبل میں ہمیں خطرہ لاحق ہوا تو دوبارہ غزہ میں کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی پر جنگ مسلط کرنے کے سنگین نتائج بھی برآمد ہوسکتے ہیں۔ اس لیے فوجی آپریشن کے بعد وہاں سے فوج کا نکال لینا ضروری تھا۔ غزہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے جہاں ہر طرف فلسطینی مزاحمت کاروں کے مراکز ہیں۔ اس لیے کوئی پتہ نہیں کہ کب اور کہاں سے فلسطینی مزاحمت کار فوجیوں پر حملہ آور ہو جائیں۔ انہوں نے سنہ 2006 میں عراق کے شہر فلوجہ کی مثال دی جہاں امریکی فوجیوں نے حملہ کیا اور فوجیوں کو فلوجہ میں چھوڑ دیا۔ عراقی عسکریت پسند منظم ہوئے اور انہوں نے امریکی فوج کو غیرمعمولی نقصان سے دوچار کردیا تھا۔اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ کی جنگ میں فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں جانی نقصان کے ساتھ معاشی تباہی کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ اسرائیل کو اس جنگ کی بھاری معاشی قیمت چکانا پڑی ہے۔اپنے انٹرویو میں نیتن یاہو نے کہا کہ وہ مسئلہ فلسطین کے پرامن حل پر یقین رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کا فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس سے مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر حماس سے الگ ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس اور امن عمل ایک ساتھ آگے نہیں چل سکتے۔ محمود عباس کو دونوں میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہوگا۔

 

مزید : عالمی منظر