مارشل لاءلگا تو ذمہ دار عمران ہونگے،جاوید ہاشمی،اب میرے اور جاوید ہاشمی کے راستے جدا ہیں ،عمران خان

مارشل لاءلگا تو ذمہ دار عمران ہونگے،جاوید ہاشمی،اب میرے اور جاوید ہاشمی کے ...
مارشل لاءلگا تو ذمہ دار عمران ہونگے،جاوید ہاشمی،اب میرے اور جاوید ہاشمی کے راستے جدا ہیں ،عمران خان

  


                                           اسلام آباد (اے این این )تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی نے کہاہے کہ حکومت کے ساتھ ہمارے مذاکرات آگے بڑھ چکے تھے جبکہ عمران خان نے پارٹی رہنماو¿ں کو وزیر اعظم ہاو¿س کی جانب پیش قدمی نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن اچانک سیف اللہ اور شیخ رشید کوئی پیغام لیکر آئے اور عمران خان کے کان میں بتایا جس کے بعد عمران خان نے کہا کہ میری مجبوری ہے ہمیں آگے جانا پڑے گا،میرے اصرارپرانہوں نے کہاکہ اگر آپ کواختلاف ہے تو چلے جائیں، میں نے سات سال جن جمہوری اداروں کے تحفظ کے لیے جیل کاٹی، اب ان پر حملہ نہیں کر سکتا، عمران خان نے پارٹی ڈسپلن کے خلاف قدم اٹھایا،مارشل لاءلگا توذمہ داروہیں ہوں گے،عمران خان طاہرالقادری کے پیرو کار بن گئے ہیں، مجھے نوازشریف کے طرزحکومت پسندنہیں، صحافیوں پر تشدد قابل مذمت ہے، میڈیا کو آزادی اظہار اور سچ دکھانے پر سزا نہ دی جائے۔اتوارکوپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ صحافیوں پر تشددکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہاکہ مظاہرین پاکستان کے شہری ہیں، ان کا کھانا پانی اور دیگر اشیاءپہنچنے دی جائیں،وہ اپنی سرزمین پر احتجاج کررہے ہیں، حکومت کے غلط اقدام کی مذمت کرتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ کافی دنوں سے پریشان ہوں ہماری مذاکراتی ٹیم گزشتہ روز چھ بجے تک مذاکرات میں مصروف رہی،ہم نے اپنا مسودہ حکومت کو دیا اوراس کا جواب انہوںنے ہمیں دینا تھا،مذاکراتی ٹیم میں شامل میرے سمیت تمام لوگوںنے فیصلہ کیا کہ عمران خان کو مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کریںگے، عمران خان نے وعدہ کیاتھا کہ شاہراہ دستور سے آگے نہیں جائیںگے جبکہ پارٹی کا بھی یہی فیصلہ تھا کہ آگے نہیں جائیںگے اوراپنا احتجاج شاہراہ دستورپر جاری رکھیںگے ۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ روزکنٹینر پر شیخ رشید اور سیف اللہ نیازی کوئی پیغام لے کرآئے،اس کے بعد عمران خان نے آگے چلنے تک فیصلہ کرلیا اس پہلے طاہرالقادری نے وہاں سے آگے چلنے سے انکار کردیاتھا اور کہاتھاکہ عمران خان اعلان کریں کہ میں بھی ساتھ چلوں گا، میں نے عمران خان کو کہاکہ طاہرالقادری آگے نہیں جاتا توا س کی مرضی ہے ہمیں تو کوئی مجبوری نہیں س دوران عمران خان نے مجھ سے کہاکہ میری مجبوری ہے میں نے پارلیمنٹ ہاﺅس جانے کا فیصلہ کرلیا ہے اگر آپ کواختلاف ہے تو چلے جائیں،میں نے عمران خان سے کہاکہ اس طرح کوئی پارٹی میں آتا بھی نہیں اور جاتا بھی نہیں میں پارٹی کا منتخب صدر ہوں، میں نے ان سے کہاکہ یہ ورکر ہمارے بچے ہیں،ان سب لوگوںنے ہم پر اعتماد کیا ہے اور آپ ہم سب کے لیڈر ہیں، میں نے کہاکہ اس طرح کی بات آپ نہ کریں، میں آدھا گھنٹہ کنٹینر پر بیٹھا رہا اوربچوں کو دیکھ کر آنسو آگئے اسی دوران عمران خان نے اعلان کیا کہ اب وزیراعظم ہاﺅس جانا ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے مجھے کہاکہ وائٹ ہاﺅس کے سامنے بھی مظاہرہ ہوتا ہے جس پر میں نے انہیں کہاکہ اس طرح کامظاہرہ وائٹ ہاﺅس کے سامنے نہیں ہوتا کہ ڈنڈے اور غلیلیں اٹھا کر احتجاج کریں۔ جاویدہاشمی نے کہاکہ میں نے عمران خان سے کہاکہ اگر کل آپ وزیراعظم ہاﺅس میں بیٹھے ہوں اوراس طرح آٹھ دس ہزار افراد آکر کر کہیں کہ آپ نکل جاﺅ تو یہ رویت اچھی نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ میں طاہرالقادری اور سب کا احترام کرتا ہوں ، میں حکومت سے کہتا ہوں کہ میر ے پارٹی کے کارکنوں کو مت ماریں اور ظلم نہ کریں،نوجوان ملک کے موجودہ طریقے کو بدلناچاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی لیڈر شپ سے بھی کہتا ہوں کہ وہ کارکنوں کو زیادہ مشکلات میں نہ ڈالے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹاک شو پہ جانا تھا،عمران خان نے انہیں کہاکہ آپ جاتے ہوئے اپنی رائے دے کر جائیں تو انہوںنے کہاکہ میری رائے شاہراہ دستور سے آگے جانے کے حق میں نہیں، ہم بڑی پارٹی ہیں ہم چھلانگ کر اسمبلی کی دیواریں پھلانگنے والے نہیں ہوسکتے،پارٹی کا مشترکہ فیصلہ تھا کہ ہم شاہراہ دستور سے آگے نہیں جائیںگے،پندرہ بیس منٹ بعد عمران خان کہتے ہیں کہ اب پارلیمنٹ ہاﺅس جانا ہے، میں نے انہیں کہاکہ پارٹی کی میٹنگ بلا لو۔انہوںنے مجھے کہا کہ میں لیڈر ہوں،میرا فیصلہ ہے ان کی یہ بات سن کر میں واپس آگیا۔ انہوںنے کہاکہ میں نے ساری زندگی مظاہرے ،مار کھائی،جیلیں کاٹیں صرف آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے اور آج میں پارلیمنٹ پر چڑھ دوڑوں ،یہ میرے بس میں نہیں۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ مجھے نواز شریف کا طرز حکومت پسند نہیں وہ جیسے حکومت کررہے ہیں یہ طریقہ اچھا نہیں ہے انہوںنے جمہوریت کو نقصان پہنچایا،انہوںنے ماڈل ٹاﺅن میں 14 افراد کو شہید کیا،جمہوریت میں یہ چیز نہیں ہوتی۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر وزیراعلی پنجاب کو استعفی دیناچاہیے تھا، آج اسلام آباد میں بھی ان کے غلط طرز حکومت کی وجہ سے یہ سارا کچھ ہورہا ہے،صحافیوںاور چھوٹے بچوں اور خواتین کو مارا جارہا ہے یہ بہت بڑا ظلم ہے ،نواز شریف کواس ظلم کا حساب دینا ہوگا۔ انہوںنے کہاکہ عمران خان نے مجھے سے آئین کے تحفظ کا وعدہ کیا تھا ،عمران خان نے پارٹی ڈسپلن کے خلاف قدم اٹھایا،مارشل لاءلگا تو ہم لوگ صفائیاں دیتے رہ جائیںگے،جمہوریت ختم ہونے کی ذمہ داری عمران خان پر ہوگی۔عمران خان طاہرالقادری کے پیرو کار بن گئے ہیں۔

مزید : صفحہ اول