امید ہے فوج اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالے گی،سراج الحق

امید ہے فوج اپنا وزن جمہوریت کے پلڑے میں ڈالے گی،سراج الحق

  

                                 لاہور(اے این این)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ پاک فوج اپنا وزن آئین اور جمہوریت کے پلڑے میں ڈالے گی ،فوج کو غیر آئینی مداخلت یا مارشل لاءکی دعوت دینے والے ملک وقوم سے مخلص ہیں اور نہ انہیں فوج سے کوئی ہمدردی ہے بلکہ وہ فوج کو ایسی دلدل میں پھنسانا چاہتے ہیں جس سے نکلنا ان کیلئے مشکل ہوگا ،پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر حالات معمول کے مطابق نہیں ہیں ان حالات میں فوج ملک و قوم کی تمام تر ذمہ داریوں کا کوہ ہمالیہ اپنے کندھوں پر کبھی نہیں رکھے گی ،1973کے متفقہ آئین کو ختم کیا گیا یا اسے ایک طرف رکھ دیا گیا تو پھر پاکستان کے چاروں صوبوں اور مختلف قومیتوں کو اکٹھا کرنا تقریبا ناممکن ہوجائیگا ،اسلام آباد کی بدلتی ہوئی صورتحال پوری قوم کے لیے تشویش ناک ہے ۔ 30 اگست کی رات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک سیاہ باب کا اضافہ ہے اور یہ سیاہی فریقین کی اپنی بے لچک سوچ ، پالیسیوں اور اقدامات کا نتیجہ ہے ۔ اس سیاہی کو خون آلود ہونے سے روکنے کے لیے وقت بہت تھوڑا رہ گیاہے ۔ وزیر اعظم نواز شریف کو مشورہ دیتا ہوں کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میںعمران خان اور مولاناطاہر القادری سے از خود براہ راست رابطہ کرکے انہیں مذاکرات کی دعوت دیں ۔موجودہ نازک صورتحال پر خاموش تماشائی بنے رہنے کی بجائے اس بحران کا حل کرنے کے لیے ایک نئی کوشش کا آغاز کررہے ہیں ۔ پیر یکم ستمبر کو 11 بجے صبح اسلام آباد میں ایک قومی مجلس مشاورت طلب کی ہے، اس مجلس میں ان تمام جماعتوں اور قائدین کو مدعو کیا گیاہے جو حالیہ دنوں میں اس بحران کے حل میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے حوالے سے ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ،جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈوکیٹ ،نائب امیر صوبہ ڈاکٹر محمد اقبال خلیل ،سابق صوبائی وزیر خزانہ شاہراز خان اور دیگر بھی موجود تھے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ سڑکوں کے خونیں مناظر کو روکنے کے لیے میں نے اگست کے شروع میں پورے اخلاص کے ساتھ کوششوںکا آغاز کیاتھا جس کی تائید ہر طبقہ¿ زندگی نے کی تھی اور اب بھی یہ تائید ہمارے ساتھ ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ سیاست اپنے نصب العین پر ٹھوس جمے رہنے لیکن حکمت عملی کے میدان میں لچکدار رویے کا نام ہے ۔ سیاستدانوں کے راستے میں بڑے بڑے پہاڑ بھی آجائیں تو وہ پانی کی طرح اس میں اپنے راستے بناسکتے ہیں کہ چٹانیں اپنا منہ دیکھتے رہ جائیں ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال بہت نازک ہو چکی ہے ۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ حکومت اپنے حواس کو قابو میں رکھے ۔ عمارتوں کی حفاظت اپنی جگہ اہم ہے لیکن انسانی جانوں کا تحفظ اس سے بھی اہم تر ہے ۔ حکومت تو قائم ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ عوام کی جان ، مال اور عزت کا تحفظ کیا جائے ۔درےںاثناءاہل سنت والجماعت کے مرکزی امیر مولانامحمد احمد لدھیانوی نے اپنے وفد کے ہمراہ اتوار کے روز المرکز الاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق سے ملاقات کی اور ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے موجودہ سیاسی بحران کے حل کیلئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی اور دیگر سیاسی رہنماﺅں کی مصالحتی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

مزید :

صفحہ اول -