قادری عورتوں بچوں کو ڈھال بنا کر ملک میں انتشار پیداکرنے پر تلے ہوئے ہیں علمائ

قادری عورتوں بچوں کو ڈھال بنا کر ملک میں انتشار پیداکرنے پر تلے ہوئے ہیں ...

                                    لاہور( سٹاف رپورٹر)ملک میں سیاسی ہلچل پیدا ہونے کے بعد جید و علماءکرام ملک میں قیام امن کے لئے میدان عمل میں نکل آئے ۔انہوں نے کہا ہے کہ دھرنے دینے والوں کی طرف سے پارلیمنٹ پر حملے سے ان کی تحریک داغ داغ ہوگئی ہے ۔عمران اور قادری کا ایجنڈ ا ملکی نہیں لگ رہا ، ایسا لگتا ہے کہ جیسے چین کے صدر کی پاکستان آمد سے قبل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حالات کشیدہ کئے جارہے ہیں اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگااورپاک چین دوستی میں حائل ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا ۔جمہوریت میں یہ کہاں ہوتا ہے کہ ڈنڈے اور ہتھیار کے ساتھ احتجاج یا دھرنے دیئے جائیں اور پارلیمنٹ یا سرکاری عمارتوں پر حملے کئے جائیں۔ان دھرنوں نے پاکستان کو دنیا میں تماشا بنادیا ہے ۔حکومت کوبھی چاہیے کہ فیصلوں میں تاخیر نہ کرے اس مسلے کا سیاسی حل نکالنے کی کوششیں تیز کرے۔دھرنے والوں سے اپیل ہے کہ وہ واپس دھرنے والی جگہ پر آجائیں اور مذاکرات کے ذریعے مسلہ حل کریں۔ اس حوالے سے مفتی محمد نعیم نے کہا ہے کہ عمران خان اور قادری نے عورتوں او ر بچوں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور ملک میں انتشار پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ غیر آئینی ہے لیکن اس کے باوجود بچے کی طرح ضدکرکے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی سازش کی جارہی ہے حکومت پہلے ہی بہت کمزوری دکھا چکی ہے اب مذید کمزوری نہیں دکھانی چاہیے حکومت ان کے خلاف ایکشن لے ۔اسلام آباد کے واقعہ پراپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے مفتی نعیم نے کہا کہ غریب بچوں اور عورتوں کو یہاں دھوکہ دے کر لایا گیا ہے وزیر اعظم ہاﺅس داخل ہونے والوں کے خلاف ریاست سے بغاوت کا مقدمہ درج کرنا چاہیے ۔پاکستان علماءکونسل کے چیئرمین علامہ طاہر اشرفی ہے کہا ہے کہ چین کے صدر کی پاکستان آمد سے قبل اس طرح کے حالات پیدا کرنے سے واضح ہو گیا ہے کہ اسکے پیچھے کونسی قوتیں ہیںاور کون کیا چارہا ہے ،دھرنے والوں نے پوری دنیا میں پاکستان کو تماشہ بنا کر رکھ دیاہے ، عمران خان ہم 1947ءمیں آزاد ہو چکے ہیں ہمیںیہ آزادی نہیں چاہیے جس میں عورتوں اور بچوں کو ڈھال بنایا جائے، قوم طاہر القادری کے انقلاب سے بھی پناہ مانگتی ہے اور ان سے مطالبہ ہے کہ کینیڈا جائیں اور وہاں انقلاب لے کر آئیں۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ سب نے دیکھا کہ جب دھرنے کے شرکاءاگلے پڑاﺅ کے لئے چلے تو پولیس پیچھے ہٹ رہی تھی لیکن جب مظاہرین نے ایوان صدر پر حملہ کیا اور دروازہ توڑا گیا تو یہ سلسلہ شروع ہوا ۔ اس سے پوری دنیا میںپاکستان کو تماشہ بنا دیاگیاہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اسی طرح کی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں جب روس کے صدر پاکستان آنا چاہتے تھے تو ان کو نہیں آنے دیا گیاتھا اور پھراسلام آباد اور پورے پاکستان کے اندر 32لاشیں گرا دی گئی اور اب چین کے صدر آ رہے ہیں اور انکی آمد سے قبل اس طرح کے حالات پیدا کرنا ثابت کر رہا ہے کہ اس کے پیچھے کونسی قوتیں ہیں او رکون کیا چا رہا ہے ۔ میں پھر بھی سب سے درخواست کروںگا کہ اس قوم پر رحم کریں اورجو رہنما اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں وہ اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہا کہ میری اپیل ہے کہ اہل پاکستان پر رحم کیا جائے ۔جامعہ نعیمہ کے مہتمم اعلی ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ جمہوری ملک میں غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کی جاسکتی۔ڈنڈے یا ہتھیار لے کرسرکاری عمارتوں پر حملہ کیا جائے یا ریاستی دہشتگردی ، کسی صورت ان کی حمایت نہیں کی جاسکتی ۔دھرنے دینے والی دونوں جماعتوں کو سمجھنا چاہیے کہ سیاست میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی ہوتی ہے ۔جب حدود پارکی جاتی ہے یہ پھر جمہوریت کا حسن خراب ہوتا ہے ۔حکومت بظاہر مذاکرات میں سنجیدہ ہے لیکن فیصلوں کی تاخیر کردی جاتی ہے

علماء

مزید : صفحہ آخر