سیاسی بحران کا واحد حل مذاکرات ہیں مل بیٹھ کر معاملات حل کئے جائیں سیاسی رہنما

سیاسی بحران کا واحد حل مذاکرات ہیں مل بیٹھ کر معاملات حل کئے جائیں سیاسی ...

  

                    لاہور(جنر ل رپورٹر+سٹاف رپورٹر)قومی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ممتازسیاسی رہنماﺅں نے باہمی مذاکرات کو موجودہ سیاسی بحران کا واحد حل قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سراپا احتجاج بنی جماعتیں اور حکومت مل بیٹھ کر معاملات کا حل تلاش کریں قومی امور سڑکوں پر ڈنڈوں سے نہیں باہمی افہام و تفہیم سے طے کئے جاتے ہیں اگر کسی فریق کو ایک قدم پیچھے یا دو قدم آگے بڑھانے پڑے تو ایسا کرنے میں کسی کی کوئی شکست نہیں ہوگی بلکہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں کسی مثبت پیش رفت سے گریز نہیں کرنا چاہیے ۔مسلم لیگ ن کے چیئر مین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہم مسلئے کاحل سیاسی طور پر نکالنا چاہتے ہیں، مذاکرات کے خواہشمند ہیں ۔عمران قادری ضدچھوڑیں اور مذاکرات کی میز پر آئیں ۔پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی طر ف سے حکومت اور جمہوریت کے حق میں منظور کی گئی قراردادوں پر یقین رکھتے ہیں اگر جمہوریت کو نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری عمران خان پر عائد ہوگی ۔طاہرالقادری کی کوئی حیثیت نہیں ہے عمران خان ایک سیاسی لیڈر ہیں اور مسلے کا سیاسی حل نکالنے میں ہماری مدد کریں ۔تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جہانگیر ترین نے کہا کہ ہم قوم کو آزادی دلا کر رہیں گے ضد ہم نہیں حکمران جماعت کررہی ہے ۔حکمرانوں کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر رہیں گے ۔وزیر اعظم کا استعفی ہی مسلے کا حل ہے وزیر اعظم آج ہی استعفی دے دیں ہم دھرنا آج ہی ختم کردیں گے مارشل لاءکی راہ ہم نہیں مسلم لیگ ن ہموار کررہی ہے ۔مسلم لیگ ق کے سیکرٹری اطلاعات اور سینیٹر کامل علی آغانے کہا کہ حکومت اپنے پاﺅں پر خود ہی کلہاڑی مارنے پر تلی ہوئی ہے تو اس میں احتجاج کرنے والوں کیا قصور ہے ۔سترہ دن ہوگئے لیکن حکومت نے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے اور نہ ہی مذاکرات کرکے دھرنے والوں کے مطالبات پورے کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت کو تشدد سے گریز کرنا چاہیے ،اور مذاکرات کے دروازے کھولے رکھیں۔دھرنے کے شرکا کو ایک مخصوص جگہ تک جب آنے ہی دیا تو دھرنے والوں کے شرکاءکو بھی چاہیے تھا کہ وہ اس جگہ تک ہی محدود رہتے۔ ان کا آگے بڑھنا مناسب نہیں تھا اور حکومت کو بھی ایسا وقت نہیں آنے دیناچاہیے تھا۔وزیراعظم کے جانے یا نہ جانے کا فیصلہ تحقیقات کے بعد ہونا چاہیے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی خان نے کہا کہ اگر ملک میں کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار عمران خان اور طاہرالقادری ہونگے ۔ہم حکومت کی حمایت نہیں کررہے ہیں ہم جمہوریت کی حمایت کررہے ہیں اس نظام کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے ۔وزیراعظم سے بندوق رکھ کر استعفی نہیں لیا جاسکتا ۔اسلام آبادمیں جو ہورہا ہے اس کے ذمہ دار عمران اور قادری صاحب ہیں۔

سےاسی رہنما

 

مزید :

صفحہ آخر -