ملکی صورتحال، صوبائی محکموں نے من مانیاں شروع کردیں

ملکی صورتحال، صوبائی محکموں نے من مانیاں شروع کردیں
ملکی صورتحال، صوبائی محکموں نے من مانیاں شروع کردیں

  


لاہور(شہباز اکمل جندران//انویسٹی گیشن سیل) حکومت کے ڈانوا ڈول ہونے کی خبریں سامنے آنے پر صوبائی محکموں نے بھی من مانی شروع کردی۔ سیکرٹری سی اینڈڈبلیو نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم کے باوجود ماتحت افسروں کے خلاف کارروائی نہ کی۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات و انکوائریوں میں ملوث انجنئیروں کو ترقی دیئے جانے پر سی اینڈڈبلیو کے متعلقہ ایڈیشنل سیکرٹریوں ، ڈپٹی سیکرٹریوں ، سیکشن افسروں اور ماتحت سٹاف کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیدیا تھا۔جبکہ کرپٹ انجنئیروں کی اے سی آرز میں شفافیت نہ رکھنے پر چیف انجنئیروں اور سپرنٹنڈنٹ انجنئیروں کو بھی ذمہ دار ٹھہرا تے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔لیکن محکمے کے انتظامیہ نے ان احکامات کو نظر انداز کردیا ہے۔معلوم ہواہے کہ حکومت کے غیر مستحکم ہونے کی خبریں سامنے آتے ہی صوبائی محکموں کی انتظامیہ نے وزیر اعلیٰ کے احکاما ت کو نظر انداز کرنے کاسلسلہ شروع کردیا ہے۔جس کا ایک ثبوت سیکرٹری سی اینڈڈبلیو پنجاب کا وزیر اعلیٰ کے حکم کے باوجود محکمے کے کرپٹ افسروں کے خلاف کارروائی نہ کرنا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے سی ایم انسکپشن ٹیم کی رپورٹ کی روشنی کرپشن اور بدعنوانی کے مقدمات و انکوائریوں میں ملوث انجنئیروں کو ترقی دیئے جانے پر سی اینڈڈبلیو کے متعلقہ ایڈیشنل سیکرٹریوں ، ڈپٹی سیکرٹریوں ، سیکشن افسروں اور ماتحت سٹاف کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیدیا تھا۔جبکہ کرپٹ انجنئیروں کی اے سی آرز میں شفافیت نہ رکھنے پر چیف انجنئیروں اور سپرنٹنڈنٹ انجنئیروں کو بھی ذمہ دار ٹھہرا تے ہوئے ان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا تھا۔ لیکن دوماہ سے زائد وقت گزرنے کے باوجود صوبائی سیکرٹری نے وزیر اعلیٰ کے ان احکامات پر عمل درآمدن نہیں کیا۔ بتایا گیا ہے کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے سی اینڈڈبلیو کے درخواست پر صوبائی سلیکشن بورڈ ون کے29مارچ2014کے اجلاس میں ایکسئین سے سپرنٹنڈنٹ انجنئیر کے عہدے پر ترقی کے خواہشمند 58انجنئیروں کے کرپشن کے مقدمات اور انکوائریوں کے حوالے سے رپورٹ ارسا ل کی۔ اور پی ایس بی ون نے اس رپورٹ کی روشنی میں 20سے زائد ایگزیکٹو انجنئیروں کو ترقی دینے کی سفارش کردی ،حالانکہ ان میں بعض ایسے ایگزیکٹو انجنئیر بھی شامل تھے ۔جن کے خلا ف کرپشن کے مقدمات اور انکوائریاں زیر التوا تھیں۔صورتحال سامنے آنے پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ انسپکشن ٹیم کے سربراہ عرفان علی، سینئیر بیور و کریٹ مہر جیون خان اور ممبر سی ایم آئی ٹی طاہر یوسف پر مشتمل ایک کمیٹی کو معاملے کی چھان بین کو حکم دیدیا ، مذکورہ ٹیم نے اپنی تحریری رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ پی ایس بی ون کے اجلاس میں 8کے قریب ایسے ایکسئینز کو ترقی دینے کی سفارش بھی کی گئی جو کہ کرپشن اور بدعنوانی جیسے مقدمات اور انکوائریوں میں ملوث تھے۔اس میں ایک طرف محکمے کے آپریٹنگ افسر کے طورپر کام کرنے والے سپرنٹنڈنٹ انجنئیر اور چیف انجنئیر ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ انہوں نے ایکسئینز کی اے سی آرز میں شفافیت کو ملحوظ خاطر نہ رکھا ۔ رپورٹ میں ایسے چیف انجنئیروںا ور ایس ایز کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا ہے ۔جبکہ دوسری طرف رپورٹ میں محکمے کے متعلقہ ایڈیشنل سیکرٹریز ، ڈپٹی سیکرٹریز ، سیکشن افسر اور ماتحت سٹاف کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات کو ان کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا گیا ہے۔انکوائری رپورٹ میں محکمہ مواصلات وتعمیرات کی انتظامیہ کو شفاف معلومات کی فراہمی میں بھی ناکام قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ سی اینڈڈبلیو ڈیپارٹمنٹ نے انجنئیر محمد حسین کے خلاف مقدمات/انکوائریاں زیر التوا ہونے کے باوجود ورکنگ پیپر میں pendencyظاہر نہیں کی ۔ اسی طرح انجنئیر ناصرجلال اور بشارت علی راناکے خلاف لودھراں میں اینٹی کرپشن کا مقدمہ نمبر1/14زیر التو ا ہونے علاوہ بھی انکوائریاں زیر التوا تھیں لیکن ورکنگ پیپر میں یہ سب بیان نہیں کیا گیا۔اور نہ ہی محکمے کی انتظامیہ اس سلسلے میں انکورئری کمیٹی کو مطمئین کرسکی ہے۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلیٰ کی طرف سے معاملے کی چھان بین کے حکم کے بعد اینٹی کرپشن نے سی اینڈڈبلیوکوترقی کے منتظر اور انکوائریوںمیں ملوث جن ایکسئینز کے متعلق معلومات دوبارہ ارسال کیں ان میں خاور تحسین ، نئیر سعید، ریاض احمد خان، رانا بشارت علی،محمد حسین، غلام حسین، شاہد نذیراور ساجد رشید جیسے ایگزیکٹو انجنئیروں کے نام شامل ہیں۔کرپشن کے خلاف برسرپیکار اس محکمے کی طرف سے متذکرہ انجنئیروں کے حوالے سے صفایاں پیش کی گئیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ خاور تحسین بھٹہ کے خلاف اینٹی کرپشن کی محکمے کو بھیجے جانے والی فہرست کے بعد فیصل آباد میں مقدمہ درج ہوا۔نئیر سعید کے متعلق لکھا گیا کہ ان کا نام مقدمے سے خارج کرنے کے لیے پہلے سفارش کی گئی لیکن بعد ازاںاتھارٹی نے دوبارہ سے تفتیش کا حکم دیدیا۔ریاض احمد خان کے متعلق بتایا گیا کہ ان کا نام مقدمے میں شامل نہیں ہے ۔ لیکن ان کے خلا ف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔تاہم ابھی حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوا۔ رانا بشارت علی کے متعلق بتایا گیا کہ اگرچہ وہ نامزد ملزم نہیں ہیں۔ لیکن ان کے خلاف بھی محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم ابھی حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوا۔جبکہ ان کے خلاف ایک انکوائری نمبر102/12سی اینڈڈبلیو کو ارسا ل کی گئی ہے۔محمد حسین کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف سیکرٹری سی اینڈڈبلیو کو کارروائی کے لیے لکھا گیا ہے کیونکہ وہ نامزد ملزم ہیں۔غلام حسین کے متعلق لکھا گیا ہے کہ وہ فیصل آباد میں زیر التوا انکوائری میں نامزد ہیں۔یہ بھی معلوم ہواہے کہ اینٹی کرپشن نے اسی عمل کے دوران بوکھلاہٹ میں اپنی ایک رپورٹ میں ایسے انجنئیروں کو خلاف انکوائریوں اور مقدمات کی فہرست سی اینڈڈبلیو کو ارسال کردی جو کہ سرے سے انکوائریوںاور مقدمات میں ملوث ہی نہیں تھے۔ بلکہ متعلقہ مقامات پر تعینات بھی نہ ہوئے تھے۔ایسے انجنئیر وں میں طارق بٹ ، خالد جاوید و دیگر شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق سی ایم آئی ٹی کی رپورٹ اور زیر اعلیٰ کی طرف سے جاری ہونے والے حکم کے باوجود سی اینڈڈبلیو کی انتظامیہ چہیتے افسروں کو بچانے کے لیے تگ ودو کررہی ہے ۔ اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا جارہا ہے۔ معاملے پر بات چیت کے لیے صوبائی سیکرٹری سی اینڈڈبلیو پنجاب میاں مشتاق احمد سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے اجتناب کیا. 

مزید : لاہور