گم شدہ قدیم پتھروں کے خاکے ظاہرہو گئے

گم شدہ قدیم پتھروں کے خاکے ظاہرہو گئے
گم شدہ قدیم پتھروں کے خاکے ظاہرہو گئے

  

لندن (نیوزڈیسک)ماہرین آثار قدیمہ اب یہ بات یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ پتھر کا زمانہ جو ایک دائرے کی شکل میں تھا جس کے کچھ آثار وقت کے ساتھ گم ہو چکے تھے لیکن اب خشک موسم سے قدیم پتھروں کی یہ گم شدہ کڑیاں مل گئی ہیں۔ یہ ایک راز تھا جس نے صدیوں سے ماہرین آثار قدیمہ کو پریشان کر رکھا تھا کہ کیا یہ قدیم پتھر ہی تھے جنہوں نے سٹون ایج کو ایک دائرے کی شکل دے رکھی تھی؟ لیکن اب اس پہیلی کا جواب مل چکا ہے کیوں کہ گرمیوں کے خشک موسم نے اس دائرے کے گم شدہ قدیم پتھروں کے خاکے ظاہر کر دیئے ہیں کیوں کہ اس سے قبل یہ زمین پانی سے شرابور رہتی تھی جس سے زمین نم دار رہتی اور اس پر گھاس اگی رہتی تھی لیکن اس سال عموماً جو وہ ہوز استعمال کرتے تھے اتنا لمبا نہ تھا کہ ساری زمین کو پہنچ سکے اتفاقاً زمین کے اندر چھپے پتھروں کے دائرے کا نا مکمل حصہ خشک رہ گیا۔ بہت پہلے جب اس دائرے کے آثار زمین میں دفن ہو چکے تھے تو ان کے اوپر گھاس اگ آئی تھی اور یوں وقت کے ساتھ وہ زمین کے اندر گم ہو گئے تھے۔

ماضی میں بھی گرم لہروں نے قدیم رومن قلعے، لوہے کے دور کا زمینی کام اور پتھر کے دور کے کھنڈرات کا سراغ دیا ہے۔ انگلش ہیریٹیچ نے بتایا ہے کہ یہ آثار کافی نمایاں تھے اگر ان میں لمبا ہوز استعمال نہ کیا جاتا تو یہ آثار کبھی ظاہر نہ ہوتے۔ انگلش ہیرٹیج کے سوسن گرینے نے بتایا ہے کہ بہت سے لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ہم نے ساری زمین کھودلی ہے اور وہ سب کچھ جو ہم جاننا چاہتے تھے جان چکے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم اب بھی بہت کچھ نہیں جانتے اور بہت کچھ ایسا ہے جو بغیر کھدائی کئے دریافت کرنا باقی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -