شاعرِ انقلاب ظفر اقبال

شاعرِ انقلاب ظفر اقبال
 شاعرِ انقلاب ظفر اقبال

  

اُردو شاعری میں شاعرِ انقلاب جناب جوش ملیح آبادی کو کہا جاتا ہے لیکن میں نے جن معنوں میں جناب ظفر اقبال کو شاعرِ انقلاب کہا ہے، وُہ مختلف ہیں۔ اِس سے پہلے کہ میں کچھ عرض کروں ،میں اُن کے وُہ فقرے نقل کر نا چاہوں گاجو میرے خیال کی بنیاد بنے :"میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ یار لوگ عمر بھر ایک ہی طرح کی شاعری کیسے کر تے رہتے ہیں۔ بے شک آلو گوشت آپکی پسندیدہ ڈش ہو لیکن کیا آلو گوشت ہر روز بھی کھایا جا سکتا ہے۔ مجھے تو اگر یہ ڈش ہر روز کھانی پڑ جائے تو میں چیخیں مارتا ہوا گھر سے نکل جاؤں۔ تا ہم میں ان دوستوں کو آلو گوشت کھانے اور کھاتے چلے جانے سے منع بھی نہیں کرتا کہ وُہ اگر اس ڈش پر لگے ہوئے ہیں تو موجیں کریں۔ میرا کیا لیتے ہیں۔ مجھے تو کبھی دال بھی بہت مزہ دیتی ہے"۔ (روزنامہ دُنیا۔ دال دلیہ۔ 25اگست 2015ء)۔۔۔ان الفاظ نے ظفر اقبال اور ان کے فن کے بارے میں میری ایک اُلجھن دور کر دی ہے جو عرصے سے مجھے پریشان کر رہی تھی۔ نہ صرف میری وُہ اُلجھن دور ہو گئی ہے ، میں نے تفہیمِ ظفر اقبال کی ایک اورمنزل بھی سر کرلی ہے۔ اب میں اپنی اُلجھن کو قدرے تفصیل سے بیان کرنا چاہوں گا ۔

بات یہ ہے کہ ہر بڑے شاعر کے ہاں دو قسم کے اشعار ہوتے ہیں۔ (1) اچھے اشعار ( 2) قدرے کم اچھے اشعار۔ ایسا نہیں ہے کہ ایک اچھا شاعر کمزور شعر نہیں کہتا۔ یقیناًکہتا ہے لیکن نظرثانی پر وُہ اُن پر خطِ تنسیخ کھینچ دیتا ہے۔ یہ وُہ اشعار ہوتے ہیں جنہیں وہ پوری سنجیدگی سے کہتا ہے لیکن نظر ثانی پروہ اُنہیں اس قابل نہیں سمجھتا کہ وُہ مجموعے میں جگہ پا سکیں لیکن کوئی شاعر بھی جان بوجھ کر ایسے شعر نہیں کہتا جو با لکل عامیانہ اور روایتی شعری محاسن سے با لکل عاری ہوں۔ اگر وُہ تفنّن طبع کی خاطر کبھی ایسے شعر کہہ بھی لے تو انہیں اپنے سنجیدہ کلام کا حصہ نہیں بناتا۔ لیکن ظفر اقبال کے سلسلے میں ، میں نے دیکھا کہ وُہ ایسے بے رنگ و بُو شعر قصداً کہتے ہیں اور انہیں اپنے نام سے چھاپتے اور چھپواتے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ سے باہر تھی۔ یہی میری الجھن تھی۔اب ظفر اقبال نے یہ کہہ کر میری الجھن دور کر دی ہے کہ وُہ ایسے اشعار ارادتاً کہتے ہیں۔ جب وُہ روایتی شاعری سے گھبرا جاتے ہیں ( چاہے اچھی ہو یابُری ، کسی اور کی ہو یا اپنی ) تو منّہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے قصداً آلو گوشت چھوڑ کر دال کا مزہ لینے لگ جاتے ہیں۔

چنانچہ اِس توضیح کے بعد مجھے اُن کے ایسے اشعار اچھے لگنے لگ گئے ہیں۔ انھیں پڑھ کر میرے ذہن میں نہایت دلچسپ اور LIFE-LIKE صورتِ حال جنم لیتی ہے۔ اُردو شاعری میں یہ ایک انقلابی اور جراٗت مندانہ اقدام ہے جو اِس سے پہلے کبھی کسی شاعر نے نہیں اٹھایا۔ جراٗت مندانہ اِس لئے کہ وُہ یہ کام شاعری میں اپنے بلند مقام اور شہرت کو رسک میں ڈال کر کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے انھیں انقلابی شاعر قرار دیا ہے۔ سچ پوچھیے تو اب یہ اشعار مجھے ان کے معیاری شعروں سے بھی زیادہ پُر لطف لگتے ہیں۔ واقعی انسان ایک ہی ڈش سے گھبرا جاتا ہے ۔ اور چاہتا ہے کہ گوجرانوالہ کے چرغے چھوڑ کر گو گے کے چنے کھائے جائیں۔ مجھے معتبر ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ میاں نواز شریف جیسے خوش خوراک بھی بعض اوقات بیسیوں نہایت لذیذ ڈشز کو ٹھُکرا کر بھُنی ہوئی دال ماش کھانے لگتے ہیں۔ میں توظفر صاحب کو یہی مشورہ دوں گا کہ وہ آلو گوشت پر تین حرف بھیجیں اور اپنادل، دال سے لگائیں۔ویسے بھی دال میں دل پوری طرح شامل ہے۔ دال کوئی حقیر شے نہیں ہے ۔ ہماری حکومتوں نے تو دال کے عِزّ و وقارمیں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔ دال خالص ہوتی ہے اور گوشت تو در پردہ گدھے کا بھی ہو سکتا ہے۔ آلو اگر پھیکے کے بجائے میٹھے پڑ جائیں تو بیڑہ غرق۔اب آپ ان کے چند اشعارمع تشریح ملاحظہ فر مائیں:

میں شعر بھی لکھوں گا وکالت بھی کروں گا

لازم نہیں یہ بات کہ محنت بھی کروں گا

یوں لگتا ہے جیسے جماعت ہشتم Aکے کسی موزوں طبع طالب علم نے مستقبل کے ارادے ظاہر کرنے کی کو شش کی ہے۔ یہ طالب علم اپنے ارادوں کی تکمیل بھی چاہتا ہے اور محنت سے بھی جی چُراتا ہے ۔ آپ نے یقیناًایسے بر خوردار دیکھے ہوں گے جن کی نگہ بلند ، سخن دلنواز اور جاں پُر سوز ہوتی ہے لیکن وُہ ستاروں پر کمند ڈالنے کے بجائے پتنگ ڈالنے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ مذاق کی بات نہیں۔ میں نے خود جماعت ہفتم میں یہ شعر کہا تھا :

بڑا ہو کر بڑا بندہ بنوں گا

نہیں یہ بات کہ گندہ ہَوں گا

) "کہ"کے وزن کی طرف دھیان نہ دیں۔ شعر کا لطف لیں)

ہماری خوش قسمتی کہیے کہ جناب ظفر اقبال کے کلام میں ایسے اشعار کی اچھی خاصی تعداد موجود ہے۔ جگہ کی تنگی کے پیشِ نظر صرف چند اَشعار مزید سُن لیں:

جہاں پہ وُہ تھا ظفر اتفاق سے موجود

وہاں پہ میں بھی کسی کام سے نکل آیا

چشمِ تصّور میںیہ سین لائیں۔ ظفر صاحب کسی سکول میں اپنے ننھے پوتے کو داخل کر وانے گئے تو وہاں پرنسپل کے دفتر کے باہر ایک بینچ پر ان کی ایک محبوبہ بھی موجود تھی جو وہاں ملازمت کے سلسلے میں اِنٹرویو کے لئے آئی ہوئی تھی اور اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔اتفاق سے یہ محبوبہ قدرے کم عمر ہونے کی وجہ سے ابھی تک شارٹ لسٹنگ کا شکار نہیں ہوئی تھی۔ ظفر صاحب نے اُس دشمنِ ہو ش و خرد سے کہا کہ پرنسپل صاحبہ مِیری واقف ہیں۔ میں نے اُن پر ان گنت اشعار کہہ رکھے ہیں۔تم نے اگرچہ کبھی وعدۂ وصل پُورا نہیں کیا لیکن میں تہہ دل سے تمہاری سفارش کروں گا۔ اب ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں :

ظفر کرنا پڑے گا اُس کو پہلی بار ہی قائل

نہ ہو پایا تو پھر بارِ د گر کچھ بھی نہیں ہوگا

اِس شعر کی شانِ نزُول کے بارے میں ممکن ہے آپ غلط فہمی کا شکار ہو جائیں۔ اِس شعر کی بیک گراؤنڈ (میرے خیال میں) عشقیہ ہر گز نہیں ۔ اور بھی غم ہیں زمانے میں محبت کے سوا۔ عشق میں ہرگز ایسا نہیں ہوتا کہ انسان ایک ہی کوشش کے بعد ہمت ہار بیٹھے اور مستقل مایوسی کا شکار ہو جائے ۔ عشق میں تو یہ ہوتا ہے کہ :

وُہ ہمیں چکمہ دیے جائیں گے

ہم بھی اپنی سی کیے جائیں گے

اِس شعر کا پس منظر و کیلانہ ہے ۔ ایسا ہے کہ آج شام ایک مالدار پارٹی ظفر صاحب کو ملنے آرہی ہے۔ ان صاحب کے پیچھے NAB پڑی ہوئی ہے اور وُہ چاہتے ہیں کہ ظفر صاحب ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کر وادیں۔ ظفر اقبال کی خواہش ہے کہ اُس نہایت مالدار اور کرپٹ معزز شہری کو پہلی ہی ملاقات میں قائل کر لیا جائے کہ میں ہی وُہ تجربہ کار اور لائق وکیل ہوں جو آپ کی ضمانت قبل از گرفتاری کروا سکتا ہے۔ اِس لئے کہ میں صرف وکیل ہی نہیں بلکہ مشہور و معروف شاعر بھی ہو ں اور ہر جج میرا احترام کرتا ہے ۔ ساتھ ہی ظفر صاحب کو یہ خد شہ بھی ہے کہ اگر یہ مالدا ر اسامی بغیر ایڈوانس دیے یہاں سے رُخصت ہو کر کسی اور وکیل کے ہتھے چڑھ گئی تو پھر کچھ بھی نہیں ہو سکے گا کیونکہ اکثر وکیل ظفر صاحب جیسے حق گو اور ایمان دار نہیں ہوتے بلکہ اتنے چرب زبان ہوتے ہیں کہ محض باتوں کی مدد سے تختۂ دارپر کھڑے ہوئے ملزم کو بخیرو عافیت اتار کر گھر پہنچا دیتے ہیں۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -