عبداللہ حسین کی ناول نگاری

عبداللہ حسین کی ناول نگاری
 عبداللہ حسین کی ناول نگاری

  

یہ غالباً 1978ء کی بات ہے میں اپنے ایک محلہ دار انیس اکرام فطرت کے گھر کی بیٹھک میں بیٹھا تھا۔ ان کے دوست ڈاکٹراکرام جنجوعہ بھی بیٹھے تھے۔ یہ دونوں ادبی ذوق رکھتے تھے۔ ادبی باتیں شروع ہوئیں تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے ’’ یاتو سعادت حسن منٹو دیکھا ہے یا پھر عبداللہ حسین ہیں ‘‘ میں چونکا کیونکہ عبداللہ حسین کا نام میں نے پہلی مرتبہ سنا تھا۔ بہرحال باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ ان کا شاہکار ناول ’’ اداس نسلیں‘‘ ہے میں نے لائبریری سے یہ ناول ایشو کروایا اور پڑھنے لگا، یہ ایک ضخیم ناول ہے۔ ناول پڑھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ اس میں پیراگراف کے پیراگراف تخلیقی انداز میں لکھے ہوئے ہیں ۔۔۔ کئی جگہ پر دانشورانہ ٹچز بھی ہیں۔ اس لحاظ سے انہیں منٹوپر سبقت حاصل ہے۔ گوکہ منٹوبھی بڑا افسانہ نگار اور عبقری تھا، لیکن عبداللہ حسین دانشور بھی تھا۔ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں اور کرشن چندر نے ان کی تعریف کی ہے۔

اب ان کی رحلت کے بعد پتہ چلا ہے کہ انہوں نے (25)پچیس سال کی عمر میں یہ ناول لکھنا شروع کیا اور چھ سال میں مکمل کیا۔ میں حیران ہوں کہ اتنی چھوٹی عمر میں انہوں نے اتنی بڑی بڑی باتیں کہہ دی ہیں۔ چند جملوں میں کئی نظریے بیان کردیئے۔ وہ عظیم ناول نگار ہیں۔ انہوں نے اخباروں کے ادبی ایڈیشنوں میں اپنی تصویریں نہیں چھپوائیں۔ وہ گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے رہے۔پتہ چلا ہے کہ عبداللہ حسین اپنے ناول باگھ کو (اپنے قارئین کو ) پڑھنے کی بڑی تاکید کرتے رہے۔ انہیں پتہ تھا کہ لوگ ان کی تحریریں پڑھتے ہیں۔ چند برس پہلے میں نے ان کا ناول ’’نادارلوگ‘‘ پڑھا گوکہ اس میں ان کا انداز بیان بہت اچھا ہے۔ اور تحریرمیں بھی پختگی ہے ، اور ان کے اسلوب نے اسے دلچسپ بنادیا ہے لیکن یہ ’’اداس نسلیں‘‘ کے مقابلے کا شاہکار نہیں ہے۔

الحمرا میں ایک ادبی فنکشن ہوا تھا۔ مہمان خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف تھے۔ عبداللہ حسین نے سامعین سے خطاب کرنے کے بعد اپنی ایک کتاب میاں شہباز شریف کو پیش کی۔میاں صاحب چاہتے تھے کہ عبداللہ حسین اس پر ان کا نام لکھ دیں۔ عبداللہ حسین نے اس پر میاں صاحب کا نام لکھ دیا اور کہا کہ جب وہ اپنی کتاب کسی کو پیش کرتے ہیں تو اس پر اس کانام نہیں لکھتے، آج پہلی بار لکھ رہے ہیں۔

فنکشن ختم ہوا تو عبداللہ حسین الحمرا برآمد ے سے باہر آگئے۔ میں بھی ان کے پیچھے پیچھے آگیا۔ میں نے جب ان سے ایک سوال کیا تو چلتے چلتے انہوں نے مجھے غور سے دیکھا، جیسے مجھے پہچان رہے ہوں۔ پھر وہ مطمئن ہوگئے کیونکہ بڑے اخباروں کے ادبی ایڈیشنوں میں میری بہت سی تصویریں چھپ چکی تھیں اور میری طنزومزاح کی کتاب ’’بیک ڈور‘‘ بھی چھپ چکی تھی۔ انہوں نے میرے سوال کا جواب دیا کہ ناول کی نسبت افسانے کی تکنیک مشکل ہے۔ کافی عرصہ پہلے میں نے فن افسانہ نگاری پر ایک کتاب پڑھی تھی تو اس میں ایک جگہ لکھا تھا کہ افسانہ لکھنا چاول پر کلمہ لکھنے کے مترادف ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے میں ادبی بیٹھک الحمرامیں بیٹھا تھا، وہاں ایک صاحب ناول نگار بھی تھے اور افسانہ نگار بھی، کہنے لگے کہ افسانہ لکھنا اگر گھر بنانے کے مترادف ہے تو ناول لکھنا شہر بنانے کے !

پاک وہند کی چوٹی کی ناول نگار قُرہ العین حیدر نے کہا تھا کہ عبداللہ حسین نے ان کے تتبع میں کچھ صفحات لکھے ہیں۔ عبداللہ حسین نے خود بھی کہا ہے کہ انہوں نے ’’اداس نسلیں ‘‘ میں دس پندرہ صفحات قُرہ العین حیدر کے سٹائل میں لکھے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کے ادبی قدوقامت میں کوئی فرق نہیں آیا اور یہ بات ان کے بڑے ناول نگار اور ادیب ہونے کی غماز ہے۔

’’بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں‘‘

مزید :

کالم -