10ماہ بعد گھر جانے والے ارکان الیکن کمیشن سے استعفوں کا مطالبہ کیوں

10ماہ بعد گھر جانے والے ارکان الیکن کمیشن سے استعفوں کا مطالبہ کیوں

تجزیہ -:سعید چودھری

  چیف الیکشن کمشنر سردار رضا خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشن کا کوئی رکن استعفا نہیں دے گا ۔الیکشن ٹربیونلز کی طرف سے قومی اسمبلی کے حلقوں 122،125،154کے الیکشن کالعدم کئے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے الیکشن کمشن کے ارکان کے استعفوں کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے۔پی ٹی آئی نے الیکشن کمشن کے ارکان کے مستعفی نہ ہونے کی صورت میں4اکتوبر کو الیکشن کمشن کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان بھی کررکھا ہے ۔پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان جس زور دار انداز میں الیکشن کمشن کے ارکان سے استعفے طلب کررہے ہیں اس کے بعد ایسی خبریں بھی آنا شروع ہوگئی تھیں کہ الیکشن کمشن کے ارکان مستعفی ہونے پر آمادہ ہیں ۔چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس نے ایسی خبروں کی مکمل طور پر نفی کردی ہے ۔انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمشن کے قیام پر جس روز پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا اس روز اس معاہدہ کے حوالے سے ہونے والی مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کردیا گیا تھا کہ اگر منظم دھاندلی ثابت نہ ہوسکی تو پی ٹی آئی انتخابات میں دھاندلی سے متعلق اپنے الزامات سے دست بردار ہوجائے گی ۔بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا ۔پی ٹی آئی نے الیکشن کمشن کی رپورٹ کو تسلیم کرنے کا اعلان تو کردیا لیکن الیکشن کمشن کے ارکان پر الزامات کا سلسلہ جاری رکھا جو کہ بادی النظر میں الیکشن کمشن کی بابت طے پانے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔جسٹس (ر) محمد روشن عیسانی ،جسٹس (ر) فضل الرحمن ،جسٹس (ر) ریاض کیانی اور جسٹس (ر) شہزاد اکبر خان باالترتیب سندھ ،بلوچستان ،پنجاب اور کے پی کے سے الیکشن کمشن کے رکن ہیں وہ 2013ء کے عام انتخابات کے وقت بھی الیکشن کمشن کے رکن تھے جبکہ فخر الدین جی ابراہیم چیف الیکشن کمشنر کے طور پر کام کررہے تھے وہ اب مستعفی ہوچکے ہیں ا ور ان کی جگہ جسٹس (ر) سردار رضا خان چیف الیکشن کمشنر کے طور پر کام کررہے ہیں۔2010ء میں18ویں ترمیم سے قبل آئین کے آرٹیکل 215(1)میں الیکشن کمشنر اور الیکشن کمشن کے ارکان کے عہدے کی مدت 3سال مقرر تھی جس میں ایک قرار داد کے ذریعے پارلیمنٹ ایک سال تک کی توسیع کرسکتی تھی ۔18ویں ترمیم کے بعد ان کے عہدوں کی معیاد 5سال کردی گئی ہے ۔الیکشن کمشن کے موجودہ ارکان کا تقرر جون 2011ء میں عمل میں لایا گیا تھا ۔کمیشن کے چاروں ارکان آئندہ سال یعنی جون 2016ء میں آئینی مدت پوری ہونے پر خود ہی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوجائیں گے، دوسرے لفظوں میں الیکشن کمشن کے مذکورہ ارکان محض آئندہ 10ماہ تک اپنے عہدوں پر براجمان رہ سکیں گے جس کے بعد آئین کے تحت نئے ارکان کا تقرر ہوگا اور 2018ء میں ہونے والے عام انتخابات سے بھی تقریباً 2سال قبل نئے ارکان آچکے ہوں گے،ایسی صور ت میں ارکان الیکشن کمشن کے خلاف تحریک چلانا ایک ایسی سیاسی شعبدہ بازی ہے جس میں "تماشائیوں"کی دلچسپی کم ہونا یقینی ہے ۔لوگ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ الیکشن کمشن کے ایسے ارکان جو 10ماہ بعد خود ہی گھر چلے جائیں گے ،ان کے خلاف تحریک چلانا اور سیاسی ماحول کو گرمائے رکھنا کیا معنی رکھتا ہے ۔لوگ یہ سوال پوچھنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ ان ہی ارکان الیکشن کمشن کی نگرانی میں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کو تو قبول کرلیا جاتا ہے لیکن 3حلقوں کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے موجودہ الیکشن کمشن کو قبول کرنے میں کیا امر مانع ہے ؟۔آئین میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن کمشن کے ارکان اور چیئرمین کو ان کے عہدوں سے برطرف نہیں کیا جاسکتا تاہم آئین کے آرٹیکل209کے تحت ان کے خلاف اسی طرح سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جاسکتا ہے جس طرح اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف دائر کیا جاتا ہے ۔جوڈیشل کمشن کے ارکان آئینی عہدیدار ہیں اور یہ عہدے احترام کے متقاضی ہیں ۔اگر تحریک انصاف کے پاس ارکان کمشن کے خلاف ثبوت ہیں تو انہیں آئین کے آرٹیکل209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا چاہیے ۔ماضی میں صرف صدر مملکت ہی سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس بھیج سکتے تھے جبکہ ایک آئینی ترمیم کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو کسی درخواست پر خود بھی کارروائی کا اختیار مل چکا ہے ۔دوسرے لفظوں میں کوئی شہری بھی ثبوتوں کے ساتھ اعلیٰ عدلیہ کے کئی جج یا الیکشن کمشن کے ارکان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے دادرسی طلب کرسکتا ہے ۔جہاں تک عمران خان کی طرف سے 2013ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تکرار کا تعلق ہے یہ "عمرانی رویہ"اس معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتاجو جوڈیشل کمشن کے قیام سے متعلق طے پایا تھا ۔آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف میں ارکان اسمبلی کی اہلیت کی شرائط میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ فاسق نہ ہو بلکہ صادق اور امین ہو ۔جوڈیشل کمشن کے قیام اور اس کی رپورٹ سے قبل بھی عمران خان الیکشن کمشن کے ارکان کے استعفوں کا مطالبہ کررہے تھے ،وہ اب بھی یہ ہی مطالبہ کررہے ہیں تاہم وہ اب اسمبلیوں اور نواز شریف کی حکومت کی تحلیل کا مطالبہ نہیں کررہے ،جوڈیشل کمشن کی طرف سے انتخابات کو شفاف قرار دیئے جانے کے بعد یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کمشن کے ارکان نے جان بوجھ کر بے ضابطگیاں کیں اور انتخابات کو دھاندلی زدہ بنایا ۔ارکان کمشن اس بات پر دلبرداشتہ ہو کر اپنے استعفوں کے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے کہ ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے بلکہ ان کا گلہ اپنے چیف الیکشن کمشنر سے تھا کہ وہ ادارے کی ساکھ کے لئے مناسب انداز میں ان کا دفاع نہیں کررہے ۔یہ ہی گلہ حکومت سے بھی بنتا ہے کہ وہ الیکشن کمشن کے خلاف پی ٹی آئی کی الزام تراشیوں پر موثر رد عمل ظاہر کیوں نہیں کررہی ہے ،کیا جوڈیشل کمشن کے حوالے سے پی ٹی آئی سے طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لئے حکومت کوآواز بلند نہیں کرنی چاہیے اور کیا اس سلسلے میں آئین کے آرٹیکل 62(1)ایف کا حوالہ دینا برمحل نہیں ہوگا ۔

مزید : تجزیہ