نوٹنگھم میں بڑی شکست کا ذمہ دارکون؟

نوٹنگھم میں بڑی شکست کا ذمہ دارکون؟
 نوٹنگھم میں بڑی شکست کا ذمہ دارکون؟

  

نوٹنگھم میں ہماری ٹیم کو تیسرے ون ڈے کو اہم اور فیصلہ کن معرکہ سمجھتے ہوئے میدان میں اترنا چاہئے تھا۔ کپتان سمیت ہر کھلاڑی کو احساس ہونا چاہئے تھا کہ آج اہم ترین میچ ہے اور اس مقام پر تن من کی بازی لگانا ہو گی۔ بہترین فیلڈنگ اور باؤلنگ کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس طرز کرکٹ میں پاکستان کو دنیائے کرکٹ کی سرکردہ ٹیموں میں بدترین مقام حاصل ہے۔ یہ خطرہ بھی لاحق ہے کہ ورلڈ کپ 2019ء سے باہر نہ ہو جائیں۔ برعکس اس کے اظہر سمیت پوری ٹیم حواس باختہ، منتشر اور بدنظمی کا شکار نظر آئی۔ ورلڈ ریکارڈ ٹوٹتے رہتے ہیں۔ ٹیمیں ہارتی بھی رہتی ہیں مگر آفرین ہے ہماری قومی کرکٹ کی قیادت پر جنہوں نے سوچے سمجھے بغیر ٹیم کا کپتان اُس شخص کو بنایا جس کا اس طرز کی کرکٹ میں کوئی کامیاب تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ اس قسم کی کرکٹ کے لئے خود کا انتخاب تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بحیثیت کھلاڑی وہ کھیل سے متعلق اعلیٰ اوصاف کے مالک ہیں تاہم ان کا انتخاب کرنے والوں کے علم میں ہونا چاہئے تھا کہ ٹیم کی قیادت کرنے کے حوالے سے وہ ان تمام خوبیوں سے خالی ہیں جو اس کھیل کی قیادت کے امیدوار کا طرہ امتیاز ہونا چاہئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے پاس اس وقت خداداد صلاحیتوں کا حامل ٹیم لیڈر نہیں ہے پھر بھی بہتر ہو گا کہ سرفراز احمد یا ٹیم میں شامل کسی اور نوجوان کا انتخاب کر کے کپتان بنا دیا جائے تاکہ اظہر علی اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔

پاکستان کی ٹیم کا انتخاب اور سلیکشن کا طریقہ کار بھی قابل مذمت ہے۔ پاکستان سے محمد عرفان کو طلب کیا گیا اور پھر باہر بٹھا دیا گیا۔ اِن فارم اسد شفیق کو واپس بھیج دیا گیا۔ دو نامور اور سرکردہ بلے باز احمد شہزاد اور عمر اکمل ڈسپلن کی بنیاد پر ٹیم سے غیر معینہ مدت کے لئے باہر کر دیئے گئے ہیں۔ پاکستان میں 80 فیصد نوجوان ایسے ماحول اور اداروں سے تربیت حاصل کر کے قومی ٹیم کا حصہ بنتے ہیں جہاں کردار سازی یا ڈسپلن کے حوالے سے کسی خاص قسم کا ماحول یا اہتمام نہیں ہوتا۔ اس صورت حال کا بورڈ کو علم ہونا چاہئے اور ہونہار کھلاڑیوں پر نہ صرف گہری نظر بلکہ وقفے وقفے سے خاص ترتیب اور کونسلنگ کا بندوبست بھی ہونا چاہئے۔ اکثر کرکٹرز نظم و ضبط اور بے راہ روی کی تمام حدود پار کرنے کا پورا پروگرام بنا کر میدان عمل میں آتے ہیں۔ بہرحال ٹرینٹ برج میں جو کچھ ہوا وہ ہماری کرکٹ کے حوالے سے بدترین تھا۔

ٹیم کے کپتان کی مجموعی اور ذاتی کارکردگی سے ان کی اس بڑے میچ میں تیاری اور جیت کی لگن کے حوالے سے کوشش کا اندازہ کرنا مشکل نہیں۔ ٹیم کو ڈبونے میں اِن کا عمل دخل سب سے زیادہ ہے۔ میری ذاتی رائے میں شعیب ملک کی ٹیم میں جگہ ہی نہیں بنتی۔ نہ جانے وہ کون سی قوتیں ہیں جو بار بار حفیظ اور شعیب کو ٹیم میں دوبارہ سلیکٹ کرواتی رہتی ہیں۔ چیئرمین آف سلیکٹرز نے ون ڈے کی ٹیم سلیکٹ کر کے کوئی اچھا کام نہیں کیا۔ وہ بنفس نفیس انگلینڈ میں موجود ہیں۔ہوٹل یا پریکٹس سیشن میں وہ ٹیم مینجمنٹ سے ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں کے حوالے سے بات چیت کر سکتے ہیں یا مشورہ دے سکتے ہیں اس سلسلے میں ان پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ اس سیریز کے لئے دو میچوں میں پاکستان کی واضح شکست کے امکان تھے۔ ضروری ہے کہ ٹیم میں شامل وہ کھلاڑی جنہیں موقع نہیں ملا یا وہ جو کم موقع حاصل کر پائے ہیں انہیں متعارف کروایا جائے۔ شعیب ملک سے چھٹکارا حاصل کیا اور اسی طرح عرفان کو بھی ٹیم کا حصہ بنایا جائے۔ دوسری طرف پاکستان کی قومی سلیکشن کمیٹی اور چیئرمین پی سی بی کو کپتان سمیت بعض کھلاڑیوں میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے ردوبدل کرنا ہو گا۔ یونس خان اور مصباح سے اس سلسلے میں دوبارہ رجوع کیا جا سکتا ہے۔ نوٹنگھم میں شکست کا کوئی ایک فرد ذمہ دار نہیں تاہم اظہر علی کو اس دورے کے بعد سبکدوش اور ان کے ساتھ حفیظ اور شعیب ملک کو لمبے آرام کے لئے گھر جانا ہوگا۔

مزید :

کالم -