’’اے روشنیوں کے شہر بتا‘‘

’’اے روشنیوں کے شہر بتا‘‘
’’اے روشنیوں کے شہر بتا‘‘

  

کسی بھی شہر کی گندم منڈی یا نمک منڈی میں تھوک دکانیں ساتھ ساتھ ملی ہوتی ہیں اور باہر ایک جیسے سودے سے بھری بوریاں بھی ساتھ ساتھ جڑی ہوتی ہیں۔ ایسی ہی ایک دکان کے مالک نے یہ بات نوٹ کی کہ ساتھ والی دکان کے مالک کا بیٹا باہر ایک سٹول رکھ کر بیٹھا رہتا ہے اور موقع ملتے ہی اس کی بوری میں رکھا سودامٹھی بھر کر اپنی بوری میں ڈالتا رہتا ہے، وہ ساتھ والی دکان کے مالک کے پاس گیا اور اس کے بیٹے کی حرکت بتائی، وہ بولا کہ اس کا کیا ہے وہ تو پاگل ہے، پہلے والا بولا کہ اگر یہ پاگل ہے تو اپنی بوری میں سے سودا اٹھا کر میری بوری میں کیوں نہیں ڈالتا، جواب ملا کہ یہ اتنا بھی پاگل نہیں ۔یہ پرانا لطیفہ پھر یاد آیا جب ایک ’’میر جعفر‘‘ نے پیارے وطن کو ’’مردہ باد‘‘ کہا ہے۔ اہل وطن نے جب اس کے وارثان سے اس کی ناپاک حرکت کی جواب دہی چاہی تو کہا گیا کہ بھائی ’’ذہنی تناؤ‘‘ کا شکار ہیں، ترجمہ اس ذہنی تناؤ کا یہ ہوا کہ بھائی پاگل ہیں۔ پوچھا جارہا ہے کہ اگر بھائی پاگل ہیں تو ’’ہندوستان مردہ باد‘‘ کیوں نہیں کہتے، اب وہ کیا جواب دیں یہ تو ساری دنیا کو پتہ ہے کہ بھائی پاگل ہے، مگر اتنا بھی نہیں۔ اگر وہ ہندوستان مردہ باد کہہ دے تو’’ را‘‘ سے لیا گیا پیسہ سود سمیت واپس کرنا پڑ جائے۔

حقیقت یہی ہے کہ بھائی پاگل ہوگیا ہے، لیکن اتنا بھی نہیں ۔شراب کے نشے کی زیادتی نے سمجھ بوجھ چھین لی ہے، لیکن بڑی وجہ یہ ہے کہ ’’مکافات عمل‘‘ کا آغاز ہوگیا ہے۔ ہزاروں بے گناہوں کی روحوں کی صدائیں بھائی کو پکار رہی ہیں کہ ’’آجا مورے بالما تیرا انتظار ہے‘‘ان صداؤں میں عظیم احمد طارق کی صدا بھی ہے اور ڈاکٹر عمران فاروق کی بھی۔ حکیم سعید شہید کی بھی اور رئیس احمد امروہوی کی بھی۔ سینکڑوں پولیس اور سکیورٹی اہلکار جنہوں نے 92 کے آپریشن میں اپنا فرض نبھایا اور اپنی تنخواہ حلال کی اور مشرف کے دور میں بھائی کے کہنے پر ان کو واپس کراچی ٹرانسفر کیا گیا وہ سب بھائی نے چن چن کر شہید کرا دئے وہ سبھی ’’بھائی ‘‘کی راہ دیکھ ر ہے ہیں۔بلدیہ ٹاؤن کے سینکڑوں اﷲ کے حبیب جو اپنے ہاتھ سے روزی کماتے تھے، اس آگ میں جھونک کر مار ڈالے گئے جو ’’بھائی‘‘ کے کہنے پر بھڑکائی گئی تھی وہ سبھی ہاتھ میں مشعلیں پکڑے ’’بھائی‘‘ کا انتظار کرہے ہیں اور ان حکمرانوں کا بھی جو ان کے سہولت کار بن کر انصاف نہیں ہونے دے رہے۔ فاروق ستار بھائی کا کہنا بالکل درست ہے کہ بھائی ذہنی تناؤ کا شکار ہوگیا ہے۔ غور کیا جائے تو بھائی کے ذہنی تناؤ کی بظاہر دنیاوی وجہ کوئی نظر نہیں آتی۔ دنیا جہاں کی دولت بھائی کے پاس ہے، اعلی کوالٹی کی شراب اور کباب، رعب داب سب قائم، ایک کلر ٹیم جنوبی افریقہ میں ہے تو دوسری کینڈا میں۔ اصل وجہ ذہنی تناؤیعنی پاگل پن کی یہی ہے کہ آج نہیں تو کل، دو سال نہیں تو دس سال انسان کتنا جی سکتا ہے، اگر آپ دنیا کی عدالتوں کو دھوکا دے کر، گواہوں کو قتل کرا کر اور حکمرانوں سے چند نشستوں کا ’’مک مکا‘‘ کر کے بچ نکلتے ہیں تو اگلے جہاں کیا کریں گے، جن گواہوں کو آپ نے قتل کرایا، وہاں تو وہ آپ کے کسی ٹارگٹ کلر کے نشانے میں نہیں ہوں گے، وہاں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو ہی جائے گا البتہ یہ ہذیان اس بات کا اشارہ ہے کہ ’’مکافات عمل‘‘ کا آغاز ہوچکا ہے۔

جب کہا جاتا تھا کہ بھائی را کا ایجنٹ ہے تو جواب ملتاکہ ثابت کرو۔ الکرم اسکوائر آفس سے جناح پور کے نقشے بر آمد ہوئے ہیں، ثابت کرو۔ بھائی نے منی لانڈرنگ کی ہے، ثابت کرو ۔ جو رقم قربانی کی کھالوں سے ملتی ہے وہ بیوہ اور یتیم کا حق ہے بھائی اس رقم سے شراب پی جاتا ہے، ثابت کرو۔امریکا کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کو تو شاید چھوڑ دے، لیکن اپنے دوستوں کو ہر گز نہیں چھوڑتا، موقع ملتے ہی زہریلے سانپ کی طرح ڈس لیتا ہے۔ یہی بات امریکا اور انڈیا کے خلیفہ یعنی بھائی پر بھی پوری طرح منطبق ہوتی ہے۔ بھائی نے اتنے دشمن نہیں مروائے جتنے اپنے دوست، لیکن پھر وہی بات کہ ’’ثابت کرو‘‘ بھائی کے کریڈٹ پر پاکستان میں ہزاروں لوگوں کا قتل ہے جو ثابت نہیں ہو سکتا البتہ غلطی سے ایک لندن میں ہوگیا جس کی کہانی سب کو معلوم ہے۔ شراب خانہ خراب ہوتی ہے، لیکن اس کی ایک بڑی خامی جو ہمارے لئے اس کی خوبی ثابت ہوئی ہے کہ اسے پی کر اندر کا چھپا انسان یا شیطان باہر آ جاتا ہے۔ زندگی میں پہلی بار اس شراب خانے کے مالک کا مُنہ چومنے کی حسرت پیدا ہوگئی ہے جس کی شراب پی کر بھائی کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے، سب کچھ خود بخود ہی ثابت ہوگیا ہے، ورنہ ہم نے بھائی پر کچھ ثابت کرنے سے پہلے ہی اگلے جہان پہنچ جانا تھا۔

کہا جاتا تھا کہ منزل نہیں رہنما چاہئے۔ اس نعرے کے عظیم تخلیق کار حیدر عباس رضوی آج کل اپنے رہنما کو چھوڑ کر نہ جانے کس جہاں میں کھوگئے ہیں ۔ البتہ رہنما کی منزل کا علم ہوگیا ہے اور وہ منزل ’’ہندوستان‘‘ ہے۔ بھائی نے ہندوستان والوں سے معافی مانگی ہے کہ پاکستان بنا کر ہم سے غلطی ہو گئی، ہمیں معاف کردو۔ بھائی سے گزارش ہے کہ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا آپ اپنے ساتھیوں سمیت ہندوستان واپس تشریف لے جائیں،ورنہ انشاء اﷲ فوج اور عوام آپ اور آپ کے چند مٹھی بھر ہمنواؤں کوبحیرہ عرب میں پھینک کر ہندوستان کو اطلاع کردیں گے کہ اپنا بغیر بلٹی مال وصول کرلیں۔ وہاں جا کر دو نمبر شہری بن کر اپنے ساتھیوں کی بددعائیں لیں۔

کراچی کے اپنے پیارے دوستو ں سے درخواست ہے کہ تھوڑا وقت نکال کر ذرا حساب کتاب تو کریں کہ بھائی نے آپ سے کیا لیا اور بدلے میں کیا دیا۔ بھائی نے آپ سے حکیم سعید لے لیا، کیونکہ وہ آپ لوگوں کی پہچان تھا، مسیحا تھا اور بدلے میں آپ کو اجمل پہاڑی دیا گیا۔ رئیس امروہوی کے بدلے ان کا نعم البدل جاوید لنگڑا۔ حساب کرتے جائیں آپ کو انمول ہیروں کے عوض بڑے بڑے کن ٹٹے اور سرپھٹے ملیں گے۔ امن کا گہوارا، ادب کی پہچان اور روشنیوں کا شہر اندھیروں کا شہر بن گیا۔ حبیب جالب نے کبھی کہا تھا

اے روشنیوں کے شہر بتا ۔۔۔

کجھیاروں میں اندھیاروں کا یہ کس نے بھرا ہے زہر بتا

حبیب جالب تو اب اس دنیا میں نہیں، لیکن ان کی روح کو علم ہوگیا ہوگا کہ اہل علم لوگوں میں تعصب اور نفرت کا زہر پھیلانے اور روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں تبدیل کرنے والا نام نہاد ’’بھائی‘‘ الطاف حسین ہے۔

مزید :

کالم -