ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
 ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

  

کوئی بھی ٹیلی ویژن چینل اپنے پروگرام اس طور سے ترتیب دیتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے دیکھ سکیں اور وہ چینل دوسروں کی نسبت ممتاز ہو سکے۔اگر کوئی پروگرام عوام میں مقبول ہو جائے تو اُس کا سلسلہ دیر تک چلتا رہتا ہے ۔ اس کی مثال ماضی کے معروف پروگرام ’’نیلام گھر‘‘جو بعد ازاں ’’طارق عزیز شو‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، ہمارے سامنے ہے۔اسی طرح اگر کسی پروگرام کو عوام پسند نہ کریں تو وہ ناکام متصور ہو گا۔ اس بات کا تعین ریٹنگز بھی کرتی ہیں۔ کوئی چینل اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا کہ وہ ایک ایسے پروگرام کو تادیر چلاتا رہے،جس کو عوام کی پذیرائی حاصل نہ ہو۔

پی ٹی وی ملک کا سب سے بڑا اور زیادہ دیکھا جانے والا ٹیلی ویژن چینل ہے۔ اِسی لئے اس ادارے میں ایسے پروگرام نہیں چلائے جا سکتے جن پر لوگوں کی پسندیدگی کی مہر ثبت نہ ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ پروگراموں کو شخصیات چلاتی ہیں۔ میزبان ہو یا مہمان ،اگر ان کی شخصیت سحر انگیز اور گفتگو پر اثر ہے تو الفاظ سننے والے پر جادو کر دیں گے ۔ بصور ت دیگر دیکھنے والے کا وقت ضائع ہو گا۔ گزشتہ دنوں ایک کالم نگارنے ایک کالم لکھا، جس کا عنوان تھا ’’کہ ہوتے جاتے ہیں قتل اور کم نہیں ہوتے‘‘ یہ عباس تابش کا خوبصور ت مصرعہ ہے ۔ عنوان دیکھا تو دِل چاہا کہ کالم پڑھ ہی لیا جائے۔ کالم کے آغاز میں سابق صدر جنرل ضیاء الحق کی تعریفوں کے پُل باندھے ہوئے تھے۔مَیں نے سوچا کہ کالم ضیاء الحق کے بارے میں ہے، مگر چند ہی لائنوں کے بعد کالم نگار صاحب شیخ رشید کی خوشآمد میں مصروف نظر آئے ۔ صدر ایوب کی بھی تعریف کی۔ بقول جون ایلیا:

ہے وہ بے چارگی کا حال کہ ہم

ہر کسی کو سلام کر رہے ہیں

کالم نگار نے پھر اس بات پر بھی کفِ افسوس ملا کہ ان کے پروگرام پی ٹی وی سے بند کروا دیئے گئے ہیں ، الزام دھر دیا پرویز رشید کے سر ۔ اگلے ہی لمحے پینترا بدلا اور چودھری نثار کے بارے میں شروع ہو گئے۔ چند سطروں بعد ہی چودھری شجاعت کی آرٹیکل چھ والی بات ذہن میں آگئی ، مگر بعد ازاں احساس ہوا کہ کالم کا عنوان تو کچھ اور ہے۔ سو عباس تابش کا شعر اپنے کالم میں ڈال دیا اور اچانک کشمیر کی بات کرتے ہوئے اس بات پر کالم کا اختتام کر دیا کہ قارئین کو افسانہ نگار سیما پرویز کی نئی کتاب’’طوفان کے بعد‘‘ضرور پڑھنی چاہئے۔

مَیں نے آخری سطر کو بغور دیکھا کہ شاید نیچے ’’جاری ہے‘‘ یا ’’بقیہ صفحہ فلاں پر‘‘ لکھا ہو، مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔ کالم ختم ہو چکا تھا۔کالم کار کیا لکھنا چاہتاتھا، کچھ سمجھ میں نہ آیا۔مَیں نے سوچا کہ شاید یہ ایک پزل ہے جس کو حل کرنے پر اخبار کی جانب سے بھاری انعام ملا کرتے ہیں۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بھی یہی نتیجہ نکلا کہ ایسی لے آؤٹ ایک کالم ہی کی ہوا کرتی ہے۔لکھاری کا مقصد ایک مخصوص کتاب کی پبلسٹی کرنا تھا تو اس کے لئے اتنا صفحہ کالا کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ کالم میں اپنے احساس کمتری کا اظہار بھی کر دیا کہ شیخ رشیداور پرویز رشید مجھے پہلے ’’سر‘‘کہہ کر بلایا کرتے تھے، لیکن اب تو پی ٹی وی پر میرا پروگرام ہی نہیں چلتا ۔’’ ہزاروں، خواشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے‘‘ آپ کو کسی ٹی وی چینل پر کیوں بلایا جائے،کیا آپ سیاست دان ہیں؟ آپ کسی بڑے اخبار کے ایڈیٹر ہیں؟ آپ شوبز ، سپورٹس ، اکانومی یا کلچر کے حوالے سے نامورشخصیت ہیں؟ پاکستان ٹیلی ویژن کے کس پروگرام میں کس شخصیت کو مدعو کرنا ہے، یہ وزیر کی سطح کا کام نہیں ہے۔ ایسے امور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر صاحبان سرانجام دیتے ہیں۔ آپ نے اپنے کالم میں لکھا کہ پی ٹی وی کو کوئی دیکھتا تک نہیں، تو پھر آپ ایسے ٹی وی پر کیوں آنا چاہتے ہیں، جس کے بارے میں آپ یہ رائے رکھتے ہیں کہ اس کو کوئی دیکھتا نہیں ۔ ویسے آپ کا تو کسی پرائیویٹ ٹی وی چینل پر بھی کوئی پروگرام نشر نہیں ہوتا اور ہاں، ایک سوال کا جواب ضرور ڈھونڈیئے گا کہ کتنے اینکر ایسے ہیں جو آپ کی عمر کے ہیں ۔

مزید :

کالم -