بھارت امریکہ دفاعی ،لاجسٹک تجارتی معاہدوں سے سب سے زیادہ پاکستان متاثرہ ہو گا

بھارت امریکہ دفاعی ،لاجسٹک تجارتی معاہدوں سے سب سے زیادہ پاکستان متاثرہ ہو ...

  

خصوصی تجزیہ : اظہر زمان

واشنگٹن ۔رواں ہفتے امریکہ اور بھارت نے سفارتی تاریخ میں انوکھے کار نامے سرانجام دیے ہیں۔ایک طرف امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری اور وزیر تجارت مس پینی پرز کر سٹرئجک اور کمرشل ڈائیلاگ کے لئے نئی دہلی میں موجود تھے اور دوسری طرف عین اسی وقت بھارتی وزیر دفاع منوہر پریکر واشنگٹن پہنچ کر پیٹا گور میں اپنے امریکی ہم منصب ایس کارٹر کے ساتھ دفاعی سمجھوتوں میں مصروف تھے۔یہ دراصل دونوں ملکوں کے درمیان 2009ء میں شروع ہونے والے سیٹرٹجک ڈائیلاگ کے دوسرے مرحلے پر بیک وقت نئی دہلی اور واشنگٹن میں عمل درآمد ہو رہا تھا۔واشنگٹن میں دوسرے سمجھوتوں کے علاوہ جو لاجسٹکس ایکسچینج مہیمورنڈم ایگریمنٹ یا LEMOAطے ہوا ہے اس کے ذریعے امریکہ نے اپنی اعلیٰ ٹیکنالوجی بھارت کوف راہم کرنے کیلئے اپنے سب دروازے کھول دئیے ہیں اس کے ذریعے بھارت کو اپنی میزائل ٹیکنالوجی کو مزید فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ امریکہ نے اب کھل کر بھارت کی نیو کلیئر سپلائرز گروپ میں شمولیت کی حمایت کر دی ہے۔ پاکستان نے اس گروپ میں شرکت کے لئے اپنی سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے لیکن امریکہ اس کے سلسلے میں معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ تمام سفارتی مبصرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ بدلتی ہوئی صورتحال میں جنوبی ایشیا کے خطے میں امریکہ پاکستان کے مقابلے پر بھارت کی ترجیح واضح ہو چکی ہے بھارت بلاشک ایک بہت بڑی جمہوریت اور ایشیا کی ابھرتی ہوئی اقتصادی قوت ضرور ہے تاہم قبل ازیں امریکہ نے اس کے ساتھ تعلقات کو بہتر بناتے وقت پاکستان کو نظر انداز نہیں کیا تھا۔ لیکن اب افغانستان کے مسئلے سے بتدریج پیچھے ہٹتے ہوئے امریکہ کے لئے شاید پاکستان کی اتنی اہمیت نہیں رہی آئندہ دنوں میں امریکہ کے لئے ایشیا اور بحراللکاہل کا خطہ سٹرٹیجی اور تجارت دونوں اعتبار سے انتہائی توجہ کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ اس خطے میں اس کا بنیادی مقابلہ چین سے ہے جبکہ ایک اور سطح پر شمالی کوریا بھی اس کے مد مقابل کھڑا ہے انڈونیشیا، ملایشیا، فلپائن، سنگاپور، تائیوان اور جاپان جیسے حلیفوں کے ہمراہ اس سمندر کی آبادیوں میں اپنا اثر رسوخ بڑھانا امریکہ کی موجودہ عشرے کی اولین ترجیح ہے امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت اپنے مشرق میں بحرالکاہل کے علاقے میں اسے مکمل تعاون فراہم کرے۔ بھارت اپنے رقیبوں چین اور پاکستان کو زچ پہنچانے کے لئے اس تعاون کے لئے تیار ہے امریکہ اور بھارت کی اس خطے میں چین مخالف پالیسی بہت واضح ہے۔لیکن بھارت امریکہ کو تعاون فراہم کرنے کے لئے پاکستان سے دور کرنا چاہتا ہے اور موجودہ صورتحال میں امریکہ پاکستان سے دور ہونے کے لئے بھی تیار ہے اور مختلف ذریعوں سے اس کااظہار بھی کر چکا ہے۔ لیکن امریکی حکمت عملی کے تقاضے کے تحت امریکہ پاکستان سے مکمل دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں ہے کیونکہ ابھی افغانستان کے مسئلے کا آخری حل باقی ہے تاہم امریکہ بھارت کی طرح اس جھکاؤ کو پاکستان کے سامنے کھل کر تسلیم کرنے سے ہچکچا رہا ہے مبصرین کو اتفاق ہے کہ امریکہ اور بھارت آپس میں جو دفاعی،لاجسٹک اور تجارتی سمجھوتے کر رہے ہیں ان کا بنیادی مقصد چین کی اس خطے میں قوت کو کم کرنا ہے لیکن اصل میں ان کی سب سے زیادہ زد پاکستان پر پڑ رہی ہے۔

امریکہ نے موجودہ سال میں متعدد بار ایسے فیصلے کئے ہیں جو اس کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے فاصلوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سرد مہری سے ہی سہی لیکن اوبامہ انتظامیہ پاکستان کے ساتھ ’’سٹیٹس ‘‘ کو جاری رکھنا چاہتی ہے لیکن وہ پاکستان کی محبت میں کانگریس سے ٹکرانے کے لئے تیار نہیں ہے ایف سولہ طیاروں کی خریداری کے لئے جو فوجی گرانٹ انتظامیہ نے پاکستان کے لئے مخصوص کی تھی کانگریس نے اسے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کچھ شرائط پر پورا نہ اترنے پر انکار کیا تو اوبامہ انتظامیہ بھی پیچھے ہٹ گئی بعد میں امریکی وزیر دفاع نے یہ فوجی گرانٹ حتمی طور پر منسوخ کر دی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کو یہ سٹرٹیفکیٹ جاری نہیں ہو سکتا کہ وہ کانگریس کی شرائط کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے خلاف مناسب کارروائی کر رہا ہے۔گذشتہ روز امریکی وزارت خارجہ میں پریس بریفنگ کے دوران پاکستان کے حوالے سے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور نیپٹا گون کے موقف میں تضاد سامنے آیا تو ترجمان نے اسے تسلیم کرنے کی بجائے گور مول کر دیا۔امریکی ترجمان جان کیری کو بتایا گیا کہ وزیر خارجہ جان کیری نے تسلیم کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف نمایاں کوشش کررہا ہے اور دوسری طرف نیپٹا گون پابندیاں لگانے میں مصروف ہے۔پروٹوکول کے خلاف امریکی ترجمان اپنے وزیر خارجہ کے بیان کی حمایت کرنے کی بجائے صدر یہی کہا کہ ٹیسٹ ڈیپارٹمنٹ اور نیپٹا گون پاکستان کے معاملے پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔ان کی کنفیوژن سمجھ میں آئی ہے۔

مزید :

تجزیہ -