سندھ میں کوٹۃ سسٹم کی بنیاد میٹرک کے تعلیمی ادارے کو بنایا جائے

سندھ میں کوٹۃ سسٹم کی بنیاد میٹرک کے تعلیمی ادارے کو بنایا جائے

  

تجزیہ :نصیر احمد سلیمی:

1973ء میں دستور کو متفقہ آئین بنانے کے لئے جن امور پر حزب اختلاف کی جماعتوں نے ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) کی حکومت کے ساتھ اتفاق رائے کیا تھا۔ ان میں ایک معاملہ سندھ میں دس سال کے لئے کوٹہ سسٹم کا نفاذ بھی تھا جس کا مقصد دیہی سندھ سے تعلق رکھنے والے وسائل اور سہولتوں سے محروم طلبہ کو ٹیکنیکل اعلیٰ تعلیمی ادارووں میں جن میں انجینئرنگ ،میڈیکل کے اعلیٰ تعلیمی ادارے شامل ہیں مطلوبہ تعداد میں نمبر حاصل نہ کرنے کے باوجود شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے میرٹ پر آنے والے طلبہ کے ساتھ داخلوں میں 60%کوٹہ دیہی سندھ کا رکھا گیا تھا جبکہ میرٹ پر آنے والے طلبہ کے لئے 40%رکھا گیا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو(مرحوم) نے ’’کوٹہ سسٹم‘‘ پر حزب اختلاف سے اتفاق رائے حاصل کرتے وقت یہ وعدہ کیا تھا کہ دس سال میں سندھ کے دیہی علاقوں کے تعلیمی اداروں کے لئے اتنے وسائل اور سہولتیں فراہم کر دی جائیں گی۔ جس کے بعددیہی علاقوں کے تعلیمی ادارے بھی اس قابل ہو جائیں گے کہ وہ بھی شہری علاقوں کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے ساتھ مسابقت میں ’’میرٹ‘‘ پر داخلہ حاصل کرنے کے قابل ہو جا ئیں گے۔ 1973ء کے دستور میں کوٹہ سسٹم کے تحت سندھ میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام چلنے والے سرکاری اور خودمختار اداروں میں ملازمتوں میں دیہی سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والوں کے لئے 60%کوٹہ اور شہری علاقوں کا ڈومی سائل رکھنے والوں کے لئے 40%کوٹہ مختص کیا گیا تھا۔ آئینی طور پر یہ مدت 1983ء میں ختم ہو گئی مگر اس وقت کی مارشل لاء حکومت نے سیاسی مصلحتوں کے تحت مزید دس سال کے لئے اسے آئینی تحفظ دے دیا تھا جو 1993ء میں ختم ہوا تو اسے مزید 20سال کے لئے قومی اسمبلی سے حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے (جس میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی شامل ہیں) آئینی تحفظ دے دیا تھا اب وہ مدت بھی ختم ہو چکی ہے ۔ یہاں یہ ذکر نا مناسب نہیں ہو گا۔ 1973ء کے دستور میں ’’کوٹہ سسٹم‘‘ کو آئینی تحفظ فراہم کرنے سے قبل ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) اور اس وقت کی سندھ کے شہری علاقوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی اور دانشوروں کے درمیان سندھ کے لئے ایک مفاہمت طے پائی تھی۔ جس کے تحت اگر سندھ کا وزیر اعلیٰ سندھی بولنے والا سندھی ہو گا تو گورنر سندھ غیر سندھی بولنے والا سندھی ہو گا۔ اس فارمولے پر عمل درآمد کے لئے ذوالفقار علی بھٹو (مرحوم) نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم (شہید ملت ) خان لیاقت علی خان کی بیگم رعنا لیاقت علی خان کو سندھ کا گورنر بننے پر آمادہ کرنے کے لئے ان کی بڑی منت سماجت کی تھی اس فارمولے کے تحت یہ بھی طے ہوا تھا کہ اگر صوبہ کا چیف سیکریٹری غیر سندھی بولنے والا ہو گا تو آئی جی سندھی بولنے والا ہو گا۔ اسی طرح کمشنر پرانا سندھی ہو گا تو ڈپٹی کمشنر غیر سندھی بولنے والا سندھی ہو گا۔ بھٹو حکومت کی قومی تحویل میں لینے کی پالیسی نے سندھ کے ان تعلیمی اداروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا جو اپنے اعلیٰ تعلیمی معیار کے اعتبار سے شہرت رکھتے تھے جنہیں مختلف سماجی تنظیموں، سیاسی جماعتوں اور برادریوں اور مخیر افراد نے غیر تجارتی بنیاد پر بہت کم فیسوں کے ساتھ چلایاتھا۔ قومی تحویل میں لینے کی پالیسی نے کراچی کے ان سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی دیہی سندھ سے بدتر کر دیا ہے جن کی بنیادپر کوٹہ سسٹم کا نفاذ کیا گیا تھا ایم کیو ایم کی ’’مدر‘‘ تنظیم ’’اے پی ایم ایس او‘‘ کی بنیاد ی وجہ بھی یہی تھی جامعہ کراچی میں کراچی سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو میرٹ کے مطابق مطلوبہ تعداد میں نمبر حاصل کرنے کے باوجود داخلہ نہ ملنے کو بنایا گیا تھا۔ اے پی ایم ایس او سے پہلے 1976ء میں جامعہ کراچی میں الطاف حسین اور عظیم احمد طارق نے ’’بی فارمیسی‘‘ میں داخلہ سے محروم طلبہ کو ان کا حق دلانے کے لئے ’’ایکشن کمیٹی ایڈمیشن فار بی فارمیسی ‘‘ قائم کی تھی جس کی جدوجہد کی وجہ سے کراچی کے ان طلبہ کو ’’بی فارمیسی‘‘ میں جامعہ کراچی میں داخلہ ملا تھا جو ’’میرٹ‘‘ کے باوجود داخلہ سے محروم کر دیئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ الطاف حسین اور عظیم احمد طارق خود بھی بی فارمیسی کے طلبہ تھے۔ عظیم احمد طارق اور الطاف حسین نے ہی بعدازاں اے پی ایم ایس او بنانے کی داغ بیل ڈالی تھی جس کے بطن سے ایم کیو ایم نے جنم لیا تھا۔ ایم کیو ایم نے نوجوانوں میں مقبولیت کوٹہ سسٹم کے خاتمہ کے نعرہ پر حاصل کی تھی۔ 1987ء کا کراچی، حیدر آباد کا بلدیاتی انتخاب اور 1988ء کا عام انتخاب اسی نعرہ پر جیتا تھا۔ مگر بعد میں کوٹہ سسٹم کا خاتمہ ایم کیو ایم کی ترجیحات سے خارج ہو گیا۔ کیونکہ ان کا مقصد 1988ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت میں شریک اقتدار ہونے کے بعد ترجیح کوٹہ سسٹم ختم کرا کے ’’میرٹ‘‘ کا نظام بحال کرانے کے بجائے اپنے کارکنوں اور حامیوں کو بندر بانٹ کے فارمولا پر سرکاری اداروں میں بھرتی کرانا ہو گیا تھا۔

کوٹہ سسٹم کے حوالے سے ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں خاتمہ کی جو تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے خاتمہ کا تو امکان نہیں ہے۔ کیونکہ پیپلزپارٹی کی اندرون سندھ سیاست کی بنیاد یہی ہے۔ البتہ اگر کوٹہ سسٹم کے نفاذ کے اس حوالے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کر لیا جائے۔ تو آہستہ آہستہ کوٹہ سسٹم کے حقیقی مقاصد بھی وسائل اور سہولتوں سے محروم اندرون سندھ کے مستحق لوگوں کو حاصل ہونا شروع ہو جائیں۔ جن کے نام پر اسے برقرار رکھنے کی دہائی دی جاتی ہے۔ یہ فارمولہ 1988ء میں وفاقی حکومت کے زیر غور تھا۔ جس کے تحت دیہی سندھ کے کوٹہ او رشہری سندھ کے کوٹہ پر عمل درآمد کا فارمولا ، ڈومی سائل کے بجائے میٹرک پاس کرنے والے تعلیمی ادارہ کو بنایا گیا۔ جس کے مطابق آپ پیدا دیہی سندھ میں ہوئے ہوں یا سندھ کے شہری علاقوں میں کوٹہ کی بنیاد پر داخلہ اور سرکاری ملازمتوں کی تقسیم کی بنیاد یہ ہو گی کہ کس نے میٹرک دیہی سندھ سے کیا ہے یا شہری سندھ سے مگر اس فارمولے پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بیورو کریسی ہے کیونکہ کئی عشروں سے سرکاری اور نیم خود مختار اداروں میں اعلیٰ ملازمتوں کادیہی سندھ کا کوٹہ انہوں نے حاصل کیا ہواہے۔ جن کی اکثریت ملک اور بیرون ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم رہی ہے جبکہ یہ حق اندرون سندھ سے تعلق رکھنے والے ان غریب اور بے وسیلہ لوگوں کا تھا۔ جنہوں نے میٹرک دیہی سندھ میں اپنے آبائی علاقوں کے تعلیمی اداروں سے کیا تھا۔

سید مراد علی شاہ کوٹہ سسٹم کے خاتمہ کی تجویز غور کریں یا نہ کریں اگر وہ دیہی سندھ اور شہری سندھ کے کوٹہ کی بنیاد کو ’’میٹرک‘‘ پاس کرنے والے تعلیمی اداروں کو بنانے پر اتفاق کر لیں تو وہ سندھ کے محروم لوگوں کے حقیقی محسن کے طور پر یاد بھی رکھے جائیں گے اور پیپلزپارٹی کو اس سے اندرون سندھ کوئی سیاسی نقصان بھی نہیں ہو گا۔

مزید :

تجزیہ -