نظر کعبہ پر

نظر کعبہ پر
نظر کعبہ پر

  

سعودی ائیرلائن کا دیوہیکل بوئنگ طیارہ جدہ کی فضاؤں میں داخل ہوچکا تھا، ائرہوسٹس کی آواز کا نوں میں رس گھو ل رہی تھی کہ ہم جدہ پہنچ گئے ہیں۔ میں نیم خوابیدگی سے ہوش کی وادی میں آگیا اور متجسس بچے کی طرح جہاز کی کھڑکی کی طرف سرک گیا، نیچے جدہ شہر روشنیوں میں ڈوبا نظر آیا، کروڑوں برقی قمقموں کی وجہ سے نیچے رنگ و نور کا سیلاب آیا ہوا تھا۔ جیسے جیسے جہاز زمین کے قریب آرہا تھا، روشنیوں کی لو تیز ہوتی جارہی تھی، رنگ و نور سے بھرا آسمان زمین پر اُتر آیا، جیسے دھاتی پرندہ پروں کو کھو لتا ہوا نیچے آرہا تھا، میری رگوں میں خون کی گردش تیز ہوتی جارہی تھی، دل کی دھڑکنیں محبوب سے ملاپ کی وجہ سے خوب دھڑک رہی تھیں، جیسے محبوب کے نظارے کے لئے سینہ شق کرکے باہر آجائے گا، روشنیوں کا لا محدود سمندر قریب آتا جارہا تھا، جہاز نے آخری غوطا لگا یا اور رن وے کے قریب آکر تھوڑی دیر بعد رن وے پر ہلکے جھٹکے سے اُتر کر دوڑنے لگا، سر شاری کانشہ اطمینان میری رگ وپے میں دوڑنے لگا، کو چہ جاناں قریب آرہا تھا، میں اُس ملک کی دھرتی پر اترنے کی سعادت حاصل کر رہا تھا، جہاں کی خاک کے ذرات بھی آسمانوں سے بلند ہیں، آخر کار جہاز رک گیا، احرام پہنے عاشقان تو حید اپنی اپنی سیٹوں پر کھڑے ہو گئے مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا تھا کہ میں بھی حج کے مسافروں میں شامل ہوں، یہ عظیم سعادت مُجھ سیا ہ کار کے مقدر میں بھی ان شاء اللہ آنے والی ہے۔

جہاز سے اُتر کر جیسے ہی حج ٹرمینل میں داخل ہوئے تو عازمین حج کے سیلاب سے واسطہ پڑا ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفید احرام میں ملبوس خواتین اورحضرات دنیا جہان سے آئے ہوئے متلاشیان حق امیگریشن کے انتظار میں کو ئی بیٹھا تھا، کوئی سو رہا تھا، کو ئی نوافل پڑھ رہا تھااور کوئی چائے وغیرہ پی رہا تھا، چہروں پر عقیدت و محبت کا نور پھیلائے عازمین حج ہرطرف موجود تھے۔ ہال میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی، میں خوشی اور حیرت سے دنیا بھر سے آئے ہوئے عاشقوں کو غور سے دیکھ رہا تھا، طویل انتظار کے باوجود ہرکوئی خوش تھا، کیونکہ اِن سب کے خو ابوں کے سچ ہونے کا وقت قریب آرہا تھا، وہ دن جس کے سپنے انہوں نے سالوں دیکھے تھے، ایسا انتظار تو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے، جو آج ہمیں نصیب ہو رہا تھا، میں نے وضو کیا اور نوافل شروع کردئیے، ہم سے پہلے کئی جہاز آچکے تھے، امیگریشن حکام باری باری سب کو دیکھ رہے تھے، جیسے ہی کسی ملک کے جہاز والوں کو پکارا جاتا لوگ دیوانہ وار ہال سے دوسرے ہال کی طرف چلے جاتے، ہال میں چلنے پھرنے کی کچھ آسانی پیدا ہوئی، اِسی دوران ایک اور جہاز آتا اور انسانوں کا دریا ہال میں پھر داخل ہوجاتا، مجھے پہلی بار طویل انتظار کابھی لطف آرہا تھا، اِس سفر کا ہرقدم اور ہر سانس عبادت تھی، لہٰذا میں اپنی خلو ت سے انجمن کا لطف لے رہا تھا، آخر طویل انتظار کے بعد ہماری باری بھی آئی پھر امیگریشن کا ونٹر پر طویل صبر آزما عمل، آخر کار تقریباً چھ گھنٹے بعد ہم امیگریشن سے فارغ ہو کر اپنے سامان کی طرف بڑھے۔

سامان لینے کے بعد ہم مکہ شریف جانے والی بسوں میں بیٹھ کرکعبہ شریف کی طرف جانے لگے، ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دل کی دھڑکنیں تیز ہوتی جارہی تھیں، پھر ہم کر ہ ارض کے اہم ترین شہر مکہ شریف کی حدود میں داخل ہوئے، دوران سفرعرفان عزیزم کے ساتھ میرا مسلسل رابطہ تھا، جو حرم شریف کے قریب ہی بلند و بالا آرام دہ ہوٹل میں میرا انتظارکر رہا تھا دوپہر کا وقت سورج سوا نیزے پر تھا، لیکن عشق اور جوش کی وجہ سے گرمی کا احساس تک نہ تھا آخر کا ر مجھے عرفان کا مسکراتا چہرہ نظر آیا، اُس نے سامان پکڑا اور ہم ہوٹل کی لفٹ میں بالائی منزل کی طرف چڑھنے لگے کمرے میں جانے کے بعد جیسے ہی میری نظر کھڑکی کے اُس پار کعبہ شریف پر پڑی تو بے چینی بے قراری بہت بڑھ گئی، تھو ڑا آرام کرنے کے بعد ہم حرم شریف کی طرف جارہے تھے، ہر قدم پر مستی اور سرور، دل چاہ رہا تھا کہ مجھے پر لگ جائیں اور اُڑکر کعبہ شریف کے پاس پہنچ جاؤں، باب عبدالعزیز کے باہر انسانوں کا حرکت کرتا سمندر نظر آیا، اُس سمندر کو چیرتے ہوئے، ہم آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے تھے، دروازے سے داخل ہوکر خوب آب زم زم پیا اور آگے بڑھنے لگے۔ حرم کی فضائیں اذان کی آواز سے گونج رہی تھیں۔

اہل علم بتاتے ہیں کہ آپ جس بھی دروازے سے داخل ہوں، سب سے پہلے نظر کعبہ پر پڑتی ہے اور پہلی نظر میں جو بھی دعا مانگو وہ قبول ہوتی ہے، انسان جس بھی دروازے، جس بھی زاویئے سے حرم میں داخل ہو تو سامنے سیاہ غلاف پر سنہری آیات کے ساتھ کعبہ اپنے تمام تر لازوال حسن اور جلال کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے، کعبہ کو ڈھونڈنا نہیں پڑتا وہ تو خود ہی سامنے آجاتا ہے، صدیوں کی پیاسی نظریں جیسے ہی اُس پر پڑتی ہیں تو اُس کا حصہ بن جاتی ہیں، ٹھنڈ پڑجاتی ہے، میرے سامنے بھی کعبہ اپنی پو ری آب و تا ب جمال و جلال کے ساتھ کھڑا تھا۔یوں محسوس ہورہا تھا میرا دل دھڑکنا بھی بھول چکا، میں پتھر کا بت بنا حیرت سے اُسے دیکھ رہا تھا، وہ کعبہ جس پر محبوب خدا کی نظریں صحابہ کرامؓ کی نظریں وقت کے ہر ولی کی نظر پڑی تھی، دنیا جہان سے آئے دیوانے طواف کر رہے تھے بلند آواز میں تلبیہ پڑھ رہے تھے، جسموں پر سفید احرام باندھے آسمانی مخلوق لگ رہے تھے، دنیا کے چپے چپے سے آئے ہوئے، دیوانوں میں کوئی امتیاز نہ تھا۔ ایک لباس، ایک زبان، ایک جنون، دیوانگی، شوق، احساس، نہ کوئی بادشاہ نہ کوئی فقیر، نہ کوئی ولی نہ کوئی گناہ گار، سب کے چہروں پر عقیدت و احترام کے پھول کھلے تھے، سب کی آنکھیں نم تھیں، دیوانے زندگی بھر کی آلائشیں پر یشانیاں چھوڑ کر اِس گوشہ تو حید میں آئے تھے، جہاں چاروں طرف توحید کی شبنمی پھوار پڑ رہی تھی، صحن حرم انسانوں سے بھرا ہوا تھا، اللہ کا حرم اِسی طرح صدیوں سے آباد ہے اور رہے گا۔ عشق و محبت سے مالا مال دیوانے کعبہ اللہ کے گر د، دن رات گرمی سردی سے آزاد دائرے کی شکل میں عقیدتوں کا اظہار کر رہے تھے، رکن یمانی کی طرف بڑھتے ہاتھ اِسی طرح حرکت میں رہیں گے، حجر اسود پر عشق و محبت سے لبریز بوسوں کی برسات اِسی طرح جاری رہے گی، ملتزم سے لپٹے دیوانوں کے جنون کو کون روک سکے گا۔

مقام ابراہیم کے اطراف میں دیوانوں کے سجدے ٹوٹے پڑے تھے، عاشقان تو حید آب زم زم سے سیراب ہو رہے تھے، میزان رحمت کے نیچے حطیم کے نیم دائرے میں نوافل کا روح پرور نظارہ اِسی طرح جاری و ساری رہے گا۔ عقیدت کی آنچ سے چہرے تمتا رہے تھے، آنکھوں سے اشکوں کے سیلاب جاری تھے۔ آہیں سسکیاں جاری تھیں، کچھ تلاوت قرآن میں مصروف اور کچھ لوگ دیوانے دنیا جہاں سے بے خبر ٹکٹکی لگا ئے خا نہ کعبہ کو دیکھتے جا رہے تھے۔سب اپنی خطا ؤں پر نا دم، شرمندہ،غرق ندا مت ہو کر اشکوں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔ دنیا جہان سے آئے گناہ گار یہاں پر طہارت وپاکیزگی کے سانچے میں ڈھل رہے تھے۔ احرام میں اللہ کے گھر کا طواف بھی خا ص لذت رکھتا ہے۔ عرب و عجم کی بستیوں سے آنے والے دیوانے ایک دوسرے سے بے خبر دیوانہ وار طواف کی لذت سمیٹ رہے تھے۔ سب خدا کی بزرگی کا اعلان، اپنی بندگی کا اقرار کر رہے تھے، اپنے گنا ہوں کی معا فی مانگ رہے تھے، سب نے جھولیاں پھیلا رکھی تھیں، میں نے اپنے گنا ہوں پر شرمندہ اپنی آنکھوں کے چھپر کھول دئیے تا کہ ندا مت کے آنسو میری بخشش کا وسیلہ بن سکیں، میں نے بھی اپنی جھو لی پھیلا دی اور کعبہ شریف کے گرد سمندر جو لہروں کی شکل میں بہہ رہا تھا، اُس کا حصہ بن گیا ۔

مزید :

کالم -