تارکین وطن اور قبضہ مافیا۔۔۔ وزیر اعلیٰ کی توجہ کے لئے!

تارکین وطن اور قبضہ مافیا۔۔۔ وزیر اعلیٰ کی توجہ کے لئے!
 تارکین وطن اور قبضہ مافیا۔۔۔ وزیر اعلیٰ کی توجہ کے لئے!

  

آپ آئے روز تارکین وطن کی جائیدادوں پر قبضہ مافیا کے قبضوں کی خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہوں گے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے تارکین وطن کے ان مسائل کے حل کے لئے اوورسیز پنجاب کمشن (OPC Punjab) کے نام سے ایک ادارہ بنایا ہے جو اَن تھک محنت کرکے ایسے مسائل کے حل کی کوششوں میں مصروف ہے۔

محمد افضال بھٹی اس ادارے کے سربراہ ہیں۔ افضال بھٹی اور ان کے معاونین تارکین وطن کے مسائل کے حل کے لئے جس طرح محنت کررہے ہیں، وہ قابل رشک ہے۔ کاش ملک میں باقی ادارے بھی اسی لگن اور محنت سے کام کریں تو ملک کے حالات شاید بہت جلد درست ہوجائیں۔۔۔قبضہ مافیا کرتا کیا ہے؟ قبضہ مافیا کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ وہ تارکین وطن ، کی جائیداد پر پہلے قبضہ جماتا ہے، اس میں انہیں مقامی پولیس کی مدد حاصل ہوتی ہے، یعنی وہ بھی اس واردات میں حصہ دار ہوتی ہے، بعد میں مقامی عدالت سے کچھ جعلی کاغذات کی بنا پر سٹے آرڈر حاصل کرلیتے ہیں، پھر ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جائیداد اُونے پونے داموں میں خریدی جائے، جب متعلقہ فریق جس کی جائیداد پر قبضہ ہوتا ہے، وہ پولیس کے پاس جاتا ہے۔ پولیس چونکہ قبضہ مافیا سے ملی ہوتی ہے۔مقامی ایم پی اے۔ ایم این اے بھی ایسے ہی لوگوں کے ساتھی ہوتے ہیں۔

پولیس سٹے آرڈر کے چکر میں جائیداد کے مالک کی کوئی بات نہیں سنتی اور جائیداد کا مالک لٹ جاتا ہے۔

محمد افضال بھٹی نے حال ہی میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے مل کر ہر ضلع میں ہیںStay Order کو ختم کروانے اور تارکین وطن کے کیسوں کے جلد فیصلوں کے لئے علیحدہ عدالتوں کے قیام کا بندوبست کروایا ہے۔ شنید ہے کہ اس طرح کی عدالتیں ستمبر 2017ء سے کام شروع کردیں گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی توجہ کے لئے ایک ایسی ہی قبضہ کی واردات جو کہ میرے ساتھ ہوگئی ہے، اس کی روداد بیان کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ اس کیس کو بھی ہنگامی بنیادوں پر حل کروائیں گے اور مجھے انصاف دلائیں گے۔قبضہ مافیا گروپوں میں مقامی پولیس کے علاوہ پٹواری بھی برابر کا حصہ دار ہوتا ہے۔

وزیر اعلیٰ صاحب! میں عرصہ دراز سے دیار غیر میں رہائش پذیر ہوں۔ اپنی بچت سے اپنے گاؤں میں کچھ زمین خرید لیتا ہوں۔ جنوری 2017ء میں مَیں نے 2ایکڑ زرعی زمین خرید کر اپنے نام منتقل کروائی، اس کے بعد میں پھر واپس دیار غیر چلاگیا۔اپریل2017ء میں میرے ہی گاؤں کے ایک پٹواری ریاست اور اس کے بھائی مظفر سب انسپکٹر پنجاب پولیس نے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بغیر کسی وجہ کے میری زمین پر قبضہ کرکے مقامی عدالت سے جعلی کاغذات پر سٹے آرڈر حاصل کرلیا۔میں نے زمین جنوری2017ء میں خریدی۔ ان لوگوں نے اپریل 2017ء میں زمین پر قبضہ کیا اور 22مئی 2017ء کو مقامی عدالت سے سٹے آرڈر لیا۔ابھی تک زمین انہی کے قبضے میں ہے۔ پولیس سٹے آرڈر کا بہانہ بنارہی ہے۔ 30.6.2017 کو میں نے اپناکیس او پی سی پنجاب میں رجسٹرکروایا ہے، او پی سی آئی ڈی 9680ہے، ID-9680/30.6.2017۔

وزیر اعلیٰ صاحب! تارکین وطن محنت مشقت کرکے 18/20ارب ڈالر ملک میں بھیج رہے ہیں۔ یہ پٹواری اور تھانے دار ہمارے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیتے ہیں اور ہماری ہی جائیدادیں ہتھیالیتے ہیں۔ میری 2ایکٹر زمین پر قابض تھانے دار مظفر تھانہ خان پور صدر، تحصیل خان پور ضلع رحیم یار خان میں نوکری کرتا ہے اور اس کا بھائی پٹواری ہے، دراصل یہ لوگ نوکری کم اور قبضہ مافیا کا کام زیادہ کرتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب! آپ سے گزارش ہے کہ سب انسپکٹر پنجاب پولیس مظفر اور نہری پٹواری ریاست کو نوکری سے برخاست کریں اور میری جائیدادمجھے واپس کروائیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب! آپ نے ہمیشہ پٹوارکلچر اور تھانہ کلچر کے خاتمے کی انتہائی کوشش کی ہے۔ پٹوار کلچر تو کافی حد تک کم ہوگیا ہے، کیونکہ آپ نے پنجاب میں اراضی سنٹر بنادیئے ہیں، جہاں پر سارا کام کمپیوٹر پر ہورہا ہے، اسی لئے گزشتہ تین ماہ سے پٹواری قلم چھوڑ ہڑتال پر ہیں، کیونکہ پٹواری کی بہت ساری ناجائز کمائی ختم ہوگئی ہے، لیکن تھانہ کلچر ابھی بھی دن دگنی رات چگنی ترقی کررہاہے اور عوام تھانے اور پٹواری کے ظلم کے آگے بے بس ہیں۔

مزید :

کالم -