امریکی افغان پالیسی کے خلاف قومی اسمبلی کی قرار داد

امریکی افغان پالیسی کے خلاف قومی اسمبلی کی قرار داد

  

قومی اسمبلی کی ایک متفقہ قرار داد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ امریکہ اس کے اتحادی اور افغانستان، دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کی سرحد کے آر پار آمدورفت کوروکیں اور دہشت گرد گروپوں کو پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں افغان حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے جماعت الاحرار، تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کریں جہاں سے پاکستان کے خلاف حملے کئے جاتے ہیں امریکہ،اتحادی افواج اور افغان حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ بھارت کو افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لئے استعمال نہ کرنے دیں۔ قرار دادمیں باہمی احترام کی بنیاد پر امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کے لئے مثبت بات چیت اور سرگرمی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا تاہم قرار داد میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ افغانستان کے لئے امریکی رسد اور فضائی وزمینی تعاون کو معطل کرنے کا جائزہ لیا جائے۔ قومی اسمبلی نے یہ قرار داد امریکہ کی نئی افغان پالیسی کے تناظر میں منظورکی ہے جس میں پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف امریکہ نے جو جنگ نائن الیون کے حملوں کے بعد شروع کی تھی اس میں پاکستان نے ہر لحاظ سے امریکہ کوتعاون پیش کیا تھا کیونکہ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کا خیال تھا کہ اس تعاون میں ہی پاکستان کا مفاد پوشیدہ ہے اور اگر پاکستان امریکہ کو اپنا تعاون پیش نہ کرتا تو جواب میں نائن الیون کے حملوں سے بپھرا ہوا امریکہ پاکستان کے مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا تھا اور اس کی ایک صورت یہ ہوسکتی تھی کہ وہ بھارتی تعاون حاصل کرلیتا جو اس کی پیش کش پہلے ہی کرچکا تھا اور ایسی صورت میں پاکستان کے کشمیر کاز اور سٹرٹیجک اثاثوں کا نقصان ہوسکتا تھا، یہ بہر حال جنرل پرویز مشرف کی سوچ تھی اور انہوں نے اپنے تئیں جو کچھ کیا پاکستان کے مفاد میں ہی کیا اور ان کے خیال میں اگر وہ اس کے برعکس اقدام اٹھاتے تو امریکہ پاکستان کو ’’دہشت گردوں کا ساتھی‘‘ سمجھتا جس کے وزیر خارجہ (کولن پاول) انہیں پہلے ہی ٹیلی فون پر کہہ چکے تھے کہ’’ آپ امریکہ کے ساتھ ہیں یا امریکہ کے دشمنوں کے ساتھ‘‘۔

آج سولہ برس گزرنے کے بعد اس سود وزیاں کا حساب کیا جائے جو امریکہ کے ساتھ تعاون کی وجہ سے پاکستان کو حاصل ہوا تو خسارے کا پلڑا بہت زیادہ جھکا ہوا نظر آئے گا، اس عرصے میں دو امریکی صدور وائٹ ہاؤس سے رخصت ہوگئے اور اب صدر ٹرمپ وہاں موجود ہیں، انہوں نے اپنی دانست میں ایسی افغان پالیسی بنائی ہے جس سے وہ کرشموں کی اُمید لگائے بیٹھے ہیں غالباً اُن کے فوجی کمانڈروں نے بھی انہیں اُمید کی روشنی دکھائی ہے لیکن دنیا کی واحد سپر طاقت کی سیاسی اور فوجی قیادت کو یہ موٹی سی بات سمجھ میں نہیں آرہی کہ اگر ڈیڑھ لاکھ امریکی و اتحادی فوجی افغان جنگ کا پانسہ اپنے حق میں نہیں پلٹ سکی تو کیا وجہ ہے کہ اب چند ہزار مزید فوجیوں سے تمام تر توقعات وابستہ کرلی گئی ہیں؟ خیر یہ تو امریکہ کی اپنی سوچ ہے ممکن ہے اس کے نزدیک نئے آنے والے چند ہزار فوجی ایسی صلاحیتوں اور ایسے سلاحِ جنگ سے لیس ہوں جو وہ کچھ کردکھائیں جواب تک نہیں ہوسکا لیکن پاکستان کے لئے تو غور کا مقام یہ ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ غیر معمول تعاون کرکے کیا حاصل کیا؟اس عرصے میں پاکستان کو جانی و مالی نقصانات کے جس نہ ختم ہونے والے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا شاید ہی کسی ملک کو اس کا تجربہ ہو۔

بہترین عالی دماغ فوجی افسروں اور جوانوں سمیت کم و بیش ستر ہزار جانوں کی قربانی کوئی معمولی بات ہے جو اس عرصے میں دی گئی، پاکستان کی معیشت کو جو نقصان ہوا وہ اب تک ڈیڑھ ارب ڈالر کو چھورہا ہے یہ نقصان صرف اس وجہ سے ہوا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ فرنٹ لائن سٹیٹ کے طور پر کھڑا ہوگیا تھا۔ وہ حکمران تو رخصت ہوگئے جنہوں نے یہ بلا پوری صدق دلی کے ساتھ پاکستان کے گلے میں ڈالی تھی۔ چلئے ان کی نیت پر شبہ نہیں کرتے لیکن اس پالیسی کا بہر حال پاکستان کو نقصان ہی ہوا اور آج امریکہ کہہ رہا ہے کہ وہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دیتا ہے اور جواب میں وہ ہمارے دشمنوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے جو پالیسی بنائی اس کا خمیازہ پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھگتا جس کے دور میں دہشت گردی کا طوفان اپنے عروج پر تھا اس عرصے میں ہزاروں لوگ جاں بحق ہوگئے اور عسکری تنصیبات سمیت اہم اثاثوں پر حملے ہوئے بعد میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت آگئی جس نے دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو ضرور پایا لیکن یہ سلسلہ آج تک ختم نہیں ہوا، دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کے خیالات کوئی ڈھکے چھپے نہیں جب وہ پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک تھے توکہا کرتے تھے کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کا پاکستانی سیاست میں کوئی کردار نہیں انہیں چاہیے کہ وہ کوئی اور کام کرلیں لیکن آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نہ صرف ان دونوں جماعتوں کا کردار تھا بلکہ انہی جماعتوں نے ان حالات کا مقابلہ کیا جو جنرل پرویز مشرف اپنے پیچھے چھوڑ کر گئے تھے اور جو ان کے خیال میں بہت اچھے حالات تھے اور خرابی ان دو جماعتوں نے پیدا کی۔

قومی اسمبلی نے اپنی قرار دادمیں امریکہ اس کے اتحادیوں اور افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کئے جائیں انہی ٹھکانوں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کی وارداتیں کی جاتی ہیں اور اگر نئی امریکی پالیسی کے تحت بھارت کو افغانستان میں مزید کردار دیا گیا تو اس بات کا خدشہ ہے کہ ان حملوں میں اضافہ ہو جائے گا اور عین ممکن ہے بھارت سرحد پر ایسے حالات پیدا کرے جن کے پردے میں جنگجوؤں کے مزید لشکر پاکستان میں داخل کردئے جائیں بھارت کے ایسے ہی کردار کا خوف تھا جس کی وجہ سے جنرل پرویز مشرف نے امریکہ کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کا فیصلہ کیا تھا لیکن اب یہی بات پاکستان کے سامنے آگئی ہے۔ بھارت پہلے ہی افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے اور اگر امریکہ کی شہ پر اسے مزید کردار سونپا جاتا ہے تو اس میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائیگا۔ بھارت نے کشمیر کی کنٹرول لائن پر ایک محاذ تو پہلے سے گرم کررکھا ہے اور اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں ریاستی ظلم و ستم سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے جہاں نوجوانوں کو شہید کیا جارہا ہے اور ان کی آنکھوں میں گولیاں مار کر ان کی بینائی زائل کی جارہی ہے۔ سپر طاقت کی حیثیت سے امریکہ کا فرض تھا کہ وہ بھارت کو اس ظلم و ستم سے باز رکھتا لیکن اس نے افغانستان کو بھارت میں نیا کردار سونپ کر پورے خطے جنوبی ایشیا کا امن خاک میں ملانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ امریکہ نے اگر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے یہ پالیسی اپنائی ہے تو اس میں اسے کامیابی نہ ہوگی کیونکہ ایسے ہتھکنڈوں سے طالبان نہ پہلے مرعوب ہوئے ہیں نہ اب ہوں گے جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے اس نے اپنا متفقہ موقف امریکہ کے سامنے رکھ دیا ہے امریکہ اگر خطے میں امن چاہتا ہے تو انا کے خول سے باہر نکل کر سٹیک ہولڈروں سے غیر مشروط مذاکرات کرے اور یہی مشورہ امریکہ میں اہل الرائے حضرات اپنے صدر کو دے رہے ہیں۔

مزید :

اداریہ -