بلا جواز برطرفیوں کے خلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ

بلا جواز برطرفیوں کے خلاف ہائیکورٹ کا فیصلہ

  

لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس علی با قر نجفی نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی کے 552 کنٹریکٹ سروس کے سینئر افسروں کو ان کے عہدوں پر بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ فاضل جج عدالت عالیہ نے درخواست دھندگان محمد عمران وغیرہ کے وکیل کے اس موقف سے اتفاق کیا کہ پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی نے جن افسروں کو ملازمت سے برطرف کیا، ان کے خلاف برطرفی کی کارروائی کسی قانونی جواز کے بغیر کی گئی جبکہ ان کے کنٹر یکٹ کی مدت ابھی باقی تھی۔ ہمارے سرکاری اور نجی اداروں کے اعلیٰ حکام اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ماتحت ملازمین کو بلاجواز برطرف کردیتے ہیں۔ بعض معاملات میں کنٹرکیٹ میں شامل شرائط کی خلاف ورزی کا بھی خیال نہیں رکھا جاتا۔ اپنی برطرفی پر متاثرہ ملازمین عدالت سے رجوع کرتے ہیں۔ اکثر اوقات طویل عرصے تک ایسے مقدمات زیر سماعت رہتے ہیں۔ ایک عدالت سے جب کسی فریق کے خلاف یا حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے تو عموماً اعلیٰ عدالت میں اپیل کردی جاتی ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں پہلے ہی مقدمات کی تعداد زیادہ ہے، عموماً جج صاحبان کی تعداد کم ہونے کا مسئلہ بھی درپیش ہوتا ہے۔ ایسے میں کسی قانونی جواز کے بغیر ملازمین اپنی برطرفی پر انصاف کے حصول کے لئے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کر کے اپنے روزگار کو بحال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں عدالتوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ عدالتوں میں پہلے ہی مقدمات کی بھرمار رہتی ہے۔ اگر بااختیار اور اعلیٰ حکام کی طرف سے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ محض کسی ماتحت سے ناراض ہو کر یا اس کے رویے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اسے ملازمت سے برطرف نہ کریں تو افسوسناک صورت حال پیدا نہ ہو، اور متاثرہ ملازمین انصاف کے حصول کے لئے عدالتوں کے چکر نہ لگائیں۔بعض معاملات میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کنٹریکٹ ملازمین سے جان چھڑانے کے لئے انہیں کسی قانونی جواز کے بغیر برطرف کردیا جاتا ہے عموماً ایسی برطرفی کے خلاف اعلیٰ عدلیہ میں بھی اپیل کرنا پڑتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دفتری معاملات میں خوفِ خدا اور انصاف سے کام لیا جائے تاکہ بلاوجہ عدالتوں پر دباؤ نہ بڑھے۔ متاثرہ ملازمین بھی پسند ناپسند اور انتقامی کارروائی کی وجہ سے روزگار سے محرم نہ ہوں۔

مزید :

اداریہ -